Inquilab Logo Happiest Places to Work

لیونہارڈ یولر سوئس ریاضی داں، ماہر فلکیات، مصنف اور انجینئر تھے

Updated: June 26, 2026, 7:29 PM IST | Mumbai

Leonhard Euler کی تحقیقات نے نہ صرف ریاضی بلکہ فزکس، انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کی ترقی میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔

Euler improved calculations of the motion of the moon and planets. Photo: INN
یولرنے چاند اور سیاروں کی حرکت کے حسابات کو بہتر بنایا۔ تصویر: آئی این این

لیونہارڈ یولرایک سوئس پولی میتھ تھے جو ریاضی داں، ماہر طبیعیات، ماہر فلکیات، منطق داں، جغرافیہ داں، میوزک تھیوریسٹ اور انجینئر تھے۔ انہوں نے گراف تھیوری اور ٹوپولوجی کے مطالعے کی بنیاد رکھی اور ریاضی کی بہت سی دوسری شاخوں میں اہم دریافتیں کیں۔ انہوں نے جدید ریاضیاتی اصطلاحات اور اشارے بھی متعارف کروائے۔ یولر کو ’’ یونیورسل جینیئس ‘‘(Universal Genius)کہا جاتا ہےکیونکہ وہ غیر معمولی ذہانت کے حامل تھے۔ 
لیونہارڈ یولر ۱۵؍ اپریل۱۷۰۷ء کو شہر باسل میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد پال یولر ایک پادری تھے اور چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا بھی مذہبی تعلیم حاصل کرے لیکن بچپن ہی سے یولرکی غیر معمولی ذہانت اور ریاضی سے گہری دلچسپی نے اساتذہ کو حیران کر دیا۔ ان کی ابتدائی تعلیم باسل میں ہوئی جہاں انہیں مشہور ریاضی داں جوہان برنولی کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ برنولی نے جلد ہی محسوس کر لیا کہ یولر میں غیر معمولی صلاحیت موجود ہے، چنانچہ انہوں نے انہیں اعلیٰ ریاضی کی تعلیم دینا شروع کی۔ یولر نے کم عمری ہی میں ایسی مہارت حاصل کر لی کہ وہ پیچیدہ ریاضیاتی مسائل کو بآسانی حل کرنے لگے۔

یہ بھی پڑھئے: ماریا مونٹیسوری: اٹلی کی ممتاز ڈاکٹر، ماہر تعلیم اور کئی کتابوں کی مصنفہ

۱۷۲۷ء میں یولر کو سینٹ پیٹرزبرگ کی اکیڈمی آف سائنسز میں ملازمت ملی۔ یہاں انہوں نے ریاضی، فلکیات، طبیعیات اور انجینئرنگ کے میدانوں میں تحقیق کا آغاز کیا۔ ان کی شہرت تیزی سے پورے یورپ میں پھیل گئی۔ بعد ازاں ۱۷۴۱ء میں وہ برلن منتقل ہوئے جہاں انہوں نے تقریباً پچیس برس تک تحقیق اور تدریس کے فرائض انجام دیئے۔ اس دوران ان کے بے شمار تحقیقی مقالات اور کتابیں شائع ہوئیں جنہوں نے جدید ریاضی کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ بعد میں وہ دوبارہ سینٹ پیٹرزبرگ واپس چلے گئے اور اپنی زندگی کے آخری ایام وہیں گزارے۔ 
یولر کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی غیر معمولی علمی قابلیت تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں تقریباً ۸۰۰؍ سے زائد تحقیقی مقالات اور درجنوں کتابیں تحریر کیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اپنی زندگی کے آخری برسوں میں وہ مکمل طور پر نابینا ہو چکے تھے اس کے باوجود وہ اپنے شاگردوں کو زبانی طور پر پیچیدہ ریاضیاتی تحقیقات لکھواتے رہے۔ ان کی یادداشت اتنی مضبوط تھی کہ وہ طویل حسابات اور فارمولے ذہن میں محفوظ رکھتے تھے۔ ریاضی کے میدان میں یولر کی خدمات بے مثال ہیں۔ جدید ریاضی میں استعمال ہونے والی بہت سی علامتیں انہی کی متعارف کردہ ہیں۔ مثال کے طور پر عدد’’e‘‘، فنکشن کی علامت f(x)، یونانی حرف’’ π‘‘ کے استعمال کو عام کرنا، اور خیالی عدد کیلئے’’ i‘‘ کی علامت کو مقبول بنانا ان کی خدمات میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہاورڈ پائل ممتاز امریکی مصور، آرٹ ٹیچر اور بچوں کے ادیب تھے

یولر نہ صرف ایک عظیم سائنسداں تھے بلکہ ایک بہترین استاد اور مصنف بھی تھے۔ ۱۸؍ ستمبر۱۷۸۳ء کو سینٹ پیٹرزبرگ میں ان کا انتقال ہوا۔ وہ اپنی وفات کے دن بھی ریاضیاتی مسائل پر غور کر رہے تھے۔ 
(وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK