• Thu, 29 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

آم کا درخت

Updated: May 13, 2023, 10:33 AM IST | Noorul Hasnain | Mumbai

گڈو میاں ایک شریر اور باتونی بچے تھے اور سب کے راج دلارے تھے۔ آم کے درخت کے ساتھ ان کی پکی دوستی تھی۔ ایک دن اچانک طوفان آگیا ہے اور

photo;INN
تصویر :آئی این این

ایک تھے گڈو میاں، بڑے ہی نٹ کھٹ، شریر اور باتونی، محلے کے سب ہی لوگ ان سے پیار کرتے تھے۔ وہ سب کے راج دلارے تھے۔ جو بھی انہیں دیکھتا بے اختیار چاہنے لگتا، شرارتی پن کے باوجود گڈو میاں میں بدتمیزی نام کو نہ تھی۔ وہ ہمیشہ صاف ستھرے کپڑے پہنتے، اپنی چیزوں کو سلیقے سے رکھتے، بڑوں کا احترام کرتے اور اپنے دوستوں سے خوب محبت کرتے، انہیں اپنے کھلونے دیتے، ان سے اچھی اچھی باتیں کرتے، اب بھلا ان کا دوست بننا کون پسند نہیں کرےگا؟ لیکن گڈو میاں کا سب سے عزیز دوست تھا آم کا درخت، یہ درخت ان کے آنگن میں تھا گھر کے سبھی لوگ اسے دادا جان کی نشانی سمجھتے تھے۔ گڈو میاں کو اپنے اس دوست پر بڑا ناز تھا۔ جب بھی انہیں گرمی محسوس ہوتی وہ اپنے دوست سے کہتے اور انہیں تازہ ہوا مل جاتی، جب کبھی آم کا موسم آتا گڈو میاں اپنے دوست سے خوب آم کھاتے، اپنے دوسرے بہن بھائیوں کو بھی کھلاتے، دوستوں کی دعوت بھی کرتے اور خوب مزے اڑاتے۔ 
 آم کا یہ درخت بھی گڈو میاں کو بہت چاہتا تھا۔ وہ ان سے مزے مزے کی باتیں کرتا، کوئل اور پپیہے کی کہانیاں سناتا، ٹھنڈی چھاؤں دیتا، گڈو میاں سارا دن اسی کے ساتھ کھیلتے رہتے۔ کبھی اس کی گود میں بیٹھ جاتے۔ کبھی اس کی شاخوں پر جھولا جھولتے، کبھی اس کی چھاؤں میں بیٹھ کر طوطا مینا کی بولیاں سنتے۔ بس سارا دن وہ ہوتے اور ان کا دوست آدم کا درخت ہوتا۔ 
 لیکن ایک روز خوب تیز ہوائیں چلنے لگیں کالے کالے بادل آسمان پر چھانے لگے۔ پھر یہ بادل آپس میں خراب بچوں کی طرح زور زور سے لڑنے لگے۔ بجلیاں چمکنے لگیں، ہواؤں نے ڈرپوک بچوں کی طرح چیخنا چلانا شروع کر دیا اور دھواں دھار بارش ہونے لگی۔
 گڈو میاں اپنے کمرے میں دبکے بیٹھے تھے۔ ان کا دل بار بار چاہ رہا تھا کہ کسی طرح اپنے دوست آدم کے درخت کو اپنے کمرے میں بلا لیں اور اسے گرم گرم چائے پلائیں۔ بےچارہ اکیلا پانی میں بھیگ رہا تھا۔ اسے کتنی سردی لگ رہی ہوگی؟ انہوں نے اپنے دوست کو کئی آوازیں دیں، لیکن شدید طوفان کے باعث ان کی آواز کمرے سے باہر پہنچی ہی نہیں۔ 
 طوفان بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ بجلیاں زور زور سے کڑکنے لگیں۔ پھر ایک زور دار دھماکہ ہوا اور آم کا درخت طوفان کی تاب نہ لاکر دھڑام سے نیچے گر پڑا۔ اس کی چیخ سے سارا محلہ گونج اٹھا۔ گڈو میاں نے بھی اس کے گرنے کی آواز سنی۔ وہ تڑپ اٹھے اور خود بھی زور زور سے رونے لگے۔ 
 آخر اللہ اللہ کرکے طوفان تھما۔ گڈو میاں دوڑتے ہوئے اپنے دوست کے پاس پہنچے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ آم کا درخت پورے آنگن میں ڈھیر ہو گیا ہے اور اس کی شاخیں تکلیف سے کراہ رہی ہیں۔ وہ اپنے دوست کی تکلیف برداشت نہ کر سکے اور خود بھی رونے لگے۔ اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سےکبھی اسے سہلاتے کبھی اسے اٹھانے کی کوشش کرتے اور کبھی ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے گھورنے لگتے۔ آم کے درخت نے جب اپنے اس ننھے دوست کا خلوص دیکھا تو اپنا درد بھول گیا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
 گڈو میاں اسے سمجھانے لگے، ’’دوست تم گھبرانا نہیں.... اب میں تمہارے پاس آ گیا ہوں، سب ٹھیک ہو جائےگا!‘‘ 
 آم کے درخت نے بڑے پیار سے گڈو میاں کی طرف دیکھا ان کی معصوم باتوں کو سنا اور پھر بولا، ’’دوست میں تو جڑ ہی سے ٹوٹ گیا ہوں۔ تم میری فکر نہ کرو.... اب میرا علاج ناممکن ہے!‘‘ 
 گڈو میاں بولے، ’’دوست تم ایسی باتیں نہ کرو۔ میں تمہارا علاج کراؤں گا۔ اپنے ابا جان سے کہہ کر ڈاکٹر کو بلواؤں گا۔ تم بہت جلد اچھے ہو جاؤگے۔ پھر ہم دونوں خوب مزے کریں گے!‘‘ 
 درخت نے کہا، ’’گڈو میاں! اب میرا علاج کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں ہے۔ میں تو جڑ ہی سے ٹوٹ گیا ہوں نا....!‘‘
 یہ سن کر گڈو میاں رونے لگے۔ درخت نے اپنی زخمی ٹہنیوں سے ان کے آنسو پوچھے اور پھر کہنا شروع کیا، ’’دیکھو دوست تم رونا نہیں.... تم تو جانتے ہو مجھے تمہارے دادا جان نے لگوایا تھا۔ اب تمہارے دادا جان تو رہے نہیں، لیکن تم ہو، آج تم چھوٹے ہو، کل بڑے ہو جاؤگے اور پھر ایک روز تم بھی کسی کے دادا جان بنو گے۔ تمہارا بھی ایک ننھا منا پیارا پیارا پوتا ہوگا اور جب وہ بھی تمہاری طرح آنگن میں کھیلنے آئےگا اور اپنے آنگن کو اس قدر سونا سونا دیکھےگا تو کیا وہ اداس نہیں ہو جائےگا؟ تم ہی سوچو! وہ کس کے ساتھ کھیلے گا؟ کون اسے گرمی سے بچائےگا؟ کون اسے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں دےگا؟ میٹھے میٹھے آم کھلائےگا؟ وہ کہاں جھولا جھولے گا؟ گڈو میاں.... تم میرا علاج کروانا چاہتے ہو نا؟ اب میری باتیں غور سے سنو....!‘‘
 گڈو میاں بولے، ’’دوست میں سن رہا ہوں۔ تم بولتے جاؤ....!‘‘ 
 آم کے درخت نے محبت بھری نظروں سے ان کی طرف دیکھا اور پھر دوبارہ کہنا شروع کیا، ’’دوست تم آج ہی میری ایک گٹھلی اپنے دادا جان کی طرح زمین میں بودو.... اسے روز پانی دیتے رہو، میں پھر ایک بار آہستہ آہستہ تمہارے آنگن میں بڑھنے لگوں گا اور پھر ایک روز ایسا آئےگا کہ مَیں خوب بڑا ہو جاؤں گا اور پھر ساری بہاریں تمہارے آنگن میں آ جائیں گی!‘‘ 
 اتنا کہہ کر درخت خاموش ہو گیا۔ گڈو میاں فوراً اپنی جگہ سے اٹھے آم کی ایک گٹھلی لی اور اسے بو دیا اور پھر بےچینی سے اپنے دوست کی آمد کا انتظار کرنے لگے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK