ملئے اِن طلبہ سے جو وَبائی حالات میں متاثرین کی مدد کیلئے سرگرم ہوئے

Updated: May 28, 2021, 7:30 AM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

ایک طالب علم کو صرف تعلیم حاصل کرنے تک ہی محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ اسے دیگر سرگرمیوں جیسے کھیل کود اور دوسروں کی مدد وغیرہ جیسے کاموں سے بھی وابستہ رہنا چاہئے۔ اس طرح تعلیم کے ساتھ اس کی تربیت بھی ہوتی ہے۔

Symbolic Image. Photo: INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ایک طالب علم کو صرف تعلیم حاصل کرنے تک ہی محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ اسے دیگر سرگرمیوں جیسے کھیل کود اور دوسروں کی مدد وغیرہ جیسے کاموں سے بھی وابستہ رہنا چاہئے۔ اس طرح تعلیم کے ساتھ اس کی تربیت بھی ہوتی ہے۔ ایسی سرگرمیوں سے وہ دوسروں کے دکھ اور درد کو سمجھتا ہے، اور مستقبل میں وہ ایک ایسے انسان کے روپ میں دنیا کے سامنے آتا ہے جس میں انسانی ہمدردی کا جذبہ بھی ہوتا ہے۔ 
  ہندوستان کے بیشتر اسکولوں میں طلبہ میں انسانی ہمدردی کا جذبہ بیدار کرنے کیلئے انہیں مختلف قسم کی سرگرمیوں سے جوڑا جاتا ہے مثلاً کبھی کسی یتیم خانے کے بچوں کیلئے سامان اکٹھا کرنے کیلئے کہا جاتا ہے، کبھی ایسے بچوں کی مدد کی غرض سے فنڈ جمع کیا جاتا ہے جو مختلف بیماریوں کاشکار ہوتے ہیں مگر استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے علاج کروانے سے قاصر ہوتے ہیں ، کبھی ایسے اداروں میں عطیات دینے کا انتظام کیا جاتا ہے جہاں سے غرباء کی مدد کی جاتی ہے۔ کم عمری میں کئے جانے والے یہ عمل انہیں آئندہ زندگی میں بھی ایسی سرگرمیوں سے جوڑے رکھتے ہیں ۔ یقیناً آپ کے اسکولوں میں بھی یہ سرگرمیاں انجام دی جاتی ہوں گی لیکن تعلیمی اداروں کے بند ہونے کی وجہ سے آپ ابھی ان میں شامل نہیں ہوتے ہوں گے۔ تاہم، موجودہ حالات میں بھی متعدد طلبہ نے ایسی سرگرمیوں سے جڑے رہنے کی کوشش کی ہے۔ جانئے ایسے ہی چند طلبہ کے بارے میں جنہوں نے انسانوں اور جانوروں کی مدد کرکے انسانیت کی مثال قائم کی ہے۔
میکورمائیکوسس کے مریضوں کیلئے فنڈز
 ملک بھر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران ہر گزرتے دن کے ساتھ میکور مائیکوسس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں کیتھڈرل اینڈ جان کینن اسکول، ممبئی کے ۲؍ طلبہ نے سیاہ فنگس (بلیک فنگس) سے متاثر ہونے والے افراد کی مدد کی غرض سے فنڈز اکٹھا کیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ میکورمائیکوسس ایک ایسا انفیکشن ہے جو شاذ و نادر ہوتا ہے لیکن اس سے متاثر ہونے والا شخص اعضاء کے کام نہ کرنے، اندھے پن، یا خلیات کی کمی کا شکار ہوسکتا ہے۔ چند معاملات اس کی موت بھی ہوسکتی ہے۔ اِن مریضوں کی مالی مدد کی غرض سے دہم جماعت کے دو طالب علم ارنو گپتا اور رانائے لنکار جن کی عمریں ۱۵؍ سال ہیں نے ۲؍ لاکھ کا فنڈ جمع کرنے کی ایک مہم شروع کی ہے۔ گزشتہ ہفتے تک وہ ایک کراؤڈ فنڈنگ پورٹل ’’امپیکٹ گرو‘‘ کی مدد سے ۱ء۸۹؍ لاکھ روپے جمع کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں ۔۲؍ ہفتے قبل ارنو اپنے چیک اپ کیلئے اسپتال گئے تھے جہاں ان کے خاندانی ڈاکٹر نے گفتگو کے دوران انہیں بتایا کہ کس طرح میکور مائیکوسس کے معاملات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کے بعد ارنو نے ایسے مریضوں کی مدد کی غرض سے اپنے دوست رانائے کے ساتھ مل کر فنڈز اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ارنو کا کہنا ہے کہ ’’بلیک فنگس کاانجکشن بہت مہنگا ہوتا ہے اس لئے ہم ایسے مریضوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں جو یہ خرید نہیں سکتے۔‘‘ خیال رہے کہ یہ رقم بی وائی ایل نائر اسپتال کو دی جائے گی تاکہ وہ اسے ضرورت مندوں تک پہنچا سکیں ۔ ارنو نے یہ بھی بتایا کہ فنڈز اکٹھا کرنے کے دوران ہمیں ملک کے مختلف مقامات سے مدد کیلئے کال آرہے ہیں ۔ مریض بھی دوائیں خریدنے کی غرض سے ہم سے مدد مانگ رہے ہیں ۔ ایسے میں ہم پوری کوشش کررہے ہیں کہ بلیک فنگسسے متاثر ہونے والے ہر مریض تک ہم رقم پہنچائیں ۔ اپنے معاشرے کیلئے یہ ہم ایک ادنیٰ سا کام کررہے ہیں ۔
ماتھیران کے گھوڑوں اور پریشان حال مالکان کی مدد
 بامبے اسکاٹش اسکول، ماہم میں زیر تعلیم ۲؍بہنوں رِدا (۱۵) اور دانیہ خان(۱۲) نےلاک ڈائون میں ماتھیران کے بھوکے گھوڑوں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کی حالت زار سےمتعلق اخباروں میں شائع ہونے والی خبروں سے متعلق پرنسپل کی اپیل پر سوشل میڈیا کے ذریعے ان کیلئے ۴؍لاکھ روپے کا فنڈ جمع کیا اور گھوڑوں کیلئے ۱۵؍ میٹرک ٹن چارا اور ان کے پریشان حال مالکان کیلئے اناج کی ۱۵۰؍ کٹ کا انتظام کیا نیزانہیں تقسیم کرکے انسانیت کی مثال قائم کی ۔ اس طرح انہوں نے یہ پیغام بھی دیاہےکہ اگر خدمت خلق کا جذبہ ہوتو اس کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی ہے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی دونوں سوشل میڈ یا کی مدد سے۳؍لاکھ روپے جمع کرکے ایک ۱۰؍سالہ لڑکے کادل کا آپریشن کرواچکی ہیں ۔ ردا خان نے انقلاب کوبتایاکہ ’’ پرنسپل سنیتا جارج کے توسط سے ہماری کلاس ٹیچر نے ایک دن ہمیں بتایاکہ لاک ڈائون میں ماتھیرا ن بند ہونے سے گھڑ سواری وغیرہ کا کاروبار بندہے جس سے یہاں کے گھوڑے اور ان کے مالکان کی فاقےکی نوبت آگئی ہے ۔ ہمیں ان کی مدد کے بارےمیں کچھ سوچنا چاہئے ۔ ٹیچرکی یہ بات ہمارے دل کو لگ گئی۔ ہم نے ان کی مدد کا فیصلہ کرلیا۔ان کی مدد کیلئے ہم نے کرائوڈ فنڈنگ کا فیصلہ کیا۔ہم پہلے سے غیر سرکاری تنظیم ’نوبڈی ایوور سلپس ہنگری (نیس )‘ سے وابستہ ہیں ۔ ہم نے مذکورہ مقصد کیلئے ایک اپیل تیار کی اور وہاٹس ایپ ، انسٹاگرام اور ایس ایم ایس کے ذریعے اپنے رشتے داروں ، دوستوں ، خیر خواہوں ، جانوروں سے محبت کرنے والوں اور متعلقین میں اسے پھیلا دیا۔ اس اپیل کا اچھا رسپانس ملا اور ۴؍لاکھ روپے جمع ہوئے ۔‘‘ردا کےمطابق ہمارا یقین ہے کہ ہم نے جو کچھ کیاہے وہ عارضی حل ہے کیونکہ کوروناوائرس ابھی ختم نہیں ہوا ہے ۔ ا س لئے اس تعلق سے ہم نے وزیر سیاحت اور مویشی پالن کے وزیر سے تحریری اپیل کی ہے کہ وہ اس جانب توجہ دیں ۔
خون کے عطیہ کیلئے سوشل میڈیا ایپس کا استعمال
 وبائی حالات میں خون کے عطیہ کیلئے چنئی کے چیتی ناڈ اکیڈمی آف ریسرچ اینڈ ایجوکیشن کی ایک ۲۱؍ سالہ طالبہ رِیا گپتا نے ’’بلڈ ڈونر کنکٹ‘‘ مہم شروع کی ہے جس کا مقصد کورونا کی دوسری لہر کے دوران مریضوں تک خون پہنچانا ہے۔ ریا سوشل میڈیا ایپس کی مدد سے یہ مہم کامیابی سے چلا رہی ہیں ۔ اس مہم کا آغاز انہوں نے اپریل میں ’’ٹنڈر‘‘ نامی ایپ کی مدد سے کیا تھا۔ اب تک ۱۰۰؍ سے زائد ممبر اس مہم سے وابستہ ہوچکے ہیں ، اور خون کا عطیہ دے چکے ہیں ۔ ریا کہتی ہیں ہے کہ ’’ہم ایک مہینے سے اس مہم پر کام کررہے ہیں ۔ شہر میں بلڈ بینکس سے خون کا اسٹاک ختم ہورہا ہے۔ ایسے میں لوگ انسٹا گرام اور ٹویٹر کی مدد سے خون کا عطیہ مانگ رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ میڈیکل کی طالبہ ہونے کے ناتے مجھے اس تعلق سے کچھ کرنا چاہئے چنانچہ میں نے بلڈ بینکس میں کال کیا جہاں انہوں نے مجھ سے کہا کہ اسٹاک نہیں ہے آپ ہمیں کسی ڈونر کے بارے میں بتائیں ۔ چونکہ لاک ڈاؤن میں سب اپنے اپنے گھروں میں قید ہیں لہٰذا میں نے سوشل میڈیا کی مدد سے ڈونرز کو اکٹھا کیا اور انہیں ان کے قریبی اسپتالوں میں جانے کا مشورہ دیا تاکہ وہ اپنا خون کا عطیہ کرسکیں ، اور ضرورت مندوں کی مدد ہوسکے۔ اس مہم سے اب میرے کئی دوست بھی منسلک ہوچکے ہیں ، اور اب یہ ایک زنجیر کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ ‘‘ ریا کو روزانہ ۸؍ سے ۱۰؍ افراد کی خون عطیہ کرنے کی درخواست آتی ہے ۔ اسپتال بھی ان کی مدد کررہے ہیں اور کئی معاملات میں ڈونرز کے ٹرانسپورٹ کا بھی خرچ برداشت کررہے ہیں ۔ ریا نے مزید بتایا کہ ’’ہم ایک منظم گروپ کی شکل اختیار کرچکے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ شہر کے ہر میڈیکل کالج کا ایک طالب علم اس مہم سے وابستہ ہو، اس طرح ہم زیادہ سے زیادہ ڈونررز اور لوگوں تک پہنچ سکیں گے۔‘‘ یہ گروپ صرف یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ ویکسینیشن مہم میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔
بس اسٹاف کیلئے ۵۱؍ لاکھ کا فنڈ
 گزشتہ ہفتے بامبے اسکاٹش اسکول، ماہم کے طلبہ نے مل جل کر اپنے اسکول کے بس اسٹاف کیلئے ۵۱؍ لاکھ روپے کا فنڈ اکٹھا کیا۔ انہوں نے کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے یہ رقم جمع کی ہے جو ۱۵۰؍ ڈرائیور، کلینرس، اور خاتون اسٹاف (اسکول بس سروسیز سے منسلک) کو دی جائے گی۔ کورونا وائرس کی وجہ سے چونکہ کلاسیں آن لائن ہورہی ہیں اس لئے بس اسٹاف اور ان کے مالکان اپنی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے پریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں ۔ طلبہ نے انفرادی طور پر بھی رقم جمع کی ہے۔ لاونیا گپتا (دہم) اور انیتا گپتا (ششم) نامی دو طالبہ نے پڑھی ہوئی کتابیں جبکہ اپورا گپتا (ہفتم) نے ۲۰۰؍ کپ کیک آن لائن فروخت کیا ہے۔ پنجم جماعت کی ساچی سبودھی نے اپنی رقص کی صلاحیتوں کی مدد سے ۱۵؍ ہزار روپے جمع کئے ہیں ۔ ساچی نے کہا کہ ’’میں اپنے اسکول کو بہت یاد کرتی ہوں خاص طور پر اپنے بس کے اسٹاف کو۔ انہوں نے ہمیشہ ہمارا خیال رکھا ہے اور اب ہمیں ان کا خیال رکھنا ہے۔‘‘ اپورا نے کہا کہ ’’میں بیکنگ کا اپنا خواب پورا کررہی ہوں ، اور اس کی مدد سے اپنے بس اسٹاف کی مدد بھی کررہی ہوں ۔‘‘ لاونیا اور انیتا نے کہا کہ ہم اس وبائی دور کا کامیابی سے مقابلہ کررہے ہیں مگر اب وقت آگیا ہے کہ ہم ضرورت مندوں کی بھی مدد کریں ۔
کووڈ۔۱۹؍ سے لڑنے کیلئے فنڈ 
 ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر گزشتہ دنوں دو ہندوستانی نژاد امریکی طالبات نے کووڈ۔۱۹؍ سے لڑنے کیلئے فنڈ اکٹھا کیا۔ ۹؍ سالہ آنیا کمار ساپرا نے جب ہندوستان میں کوروناوائرس کی تیزی سے پھیلتی ہوئی وباء کے متعلق خبر پڑھی تو وہ لوگوں کی مدد کرنے کیلئے بے چین ہوگئی۔ چنانچہ اس نے اپنی ۶؍ سالہ بہن شائلا کمار ساپرا کے ساتھ مل کر ایک فنڈ ریزر شروع کیا۔ آنیا نے اپنی بیکنگ کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے فنڈ جمع کیا۔ دی کوئنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق آنیا نے بتایا کہ ’’میں نے جب ہندوستان میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی خبر سنی تو پریشان ہوگئی۔ اور میں نے لوگوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ ‘‘ آنیا نے جب اس بابت اپنے والدین کو بتایا تو انہوں نے اس کی حوصلہ افزائی نیز مدد بھی کی۔ آنیا کہتی ہے کہ ’’مجھے بچپن ہی سے بیکنگ کا شوق ہے اس لئے میں نے بیک کی ہوئی چیزوں کو فروخت کرنے کیلئے فلائرز بنوائے اور انہیں گھر کے اطراف میں چسپاں کروادیا۔ میں نے فلائرز اسکول میں بھی تقسیم کئے۔‘‘ آنیااور شائلا نے مل کر ۴۴۰۰؍ ڈالرس (تقریباً ۳؍ لاک ۲۰؍ ہزار روپے)کی اشیاء فروخت کیں ۔ اس رقم کو وہ ملک کے ایک ادارے کو عطیہ کریں گی جو مریضوں کیلئے آکسیجن کا بندوبست کرے گا۔ 
ہندوستانی نژاد امریکی طلبہ کی کوشش 
 گزشتہ ہفتے امریکہ میں انڈین انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کے ایک نیٹ ورک نے ملک میں کورونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر فنڈ اکٹھا کرنے کی مہم شروع کی ہے۔اس تعلق سے کارنیگی میلون یونیورسٹی کے طالب علم روشن شرما کہتے ہیں کہ ’’میں نے جب ہندوستان میں کووڈکی خراب ہوتی ہوئی صورتحال کے بارے میں پڑھا تو تشویش میں مبتلا ہوگیا چنانچہ ۲۵؍ اپریل کو کورنیل یونیورسٹی اور پٹس برگ یونیورسٹی کی مدد سے میں نے ’’گو فنڈ می‘‘ نامی ایک فنڈر یزر قائم کیا۔ یہ لانچ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ ہارورڈ اسکول کی ایک طالبہ شیاملی بڈگائیاں نے بھی ایسی ہی ایک مہم شروع کی ہے لہٰذا ہم نے’’گیو انڈیا‘‘ نامی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم دونوں کو احساس ہوا کہ دیگر ہندوستانی طلبہ بھی اس مہم سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں ، اس لئے اس مہم کو پھیلا دیا گیا،اور امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ نے رقم جمع کی۔ ‘‘ اس مہم سے امریکہ کی ۲۵؍ یونیورسٹیاں منسلک ہوچکی ہیں ، اور یہاں کے کئی طلبہ بھی اس کا حصہ بن چکے ہیں ۔ اس مہم کے ذریعے وہ ۲۵؍ لاکھ ڈالرس کا فنڈ اکٹھا کرنا چاہتے ہیں ۔ گو فنڈ می کے ذریعے شرما ۲؍ لاکھ ڈالرس اکٹھا کرنا چاہتے تھے، فی الحال اس میں ایک لاکھ ۸۴؍ ہزار ڈالرس جمع ہوگئے ہیں ۔اس فنڈ سے ملک کی دیہی علاقوں کی مدد کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK