آکسیجن دنیا بھر میں موضوع بحث، جانئے اس کی بابت ۱۰؍ باتیں

Updated: April 30, 2021, 7:30 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

کورونا وائرس کی دوسری لہر سے کئی ممالک بری طرح متاثر ہیں اور انہیں آکسیجن کی سخت ضرورت پیش آرہی ہے، بحیثیت طالب علم آپ کا اس قیمتی گیس کے متعلق جاننا ضروری ہے۔

Symbolic image: PTI
علامتی تصویر: پی ٹی آئی

دنیا بھر میں آکسیجن کیلئے ہاہاکار مچی ہوئی ہے، ہندوستان سمیت کئی ممالک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافے کے سبب آکسیجن کی شدید قلت ہوگئی ہے۔ ایسے سخت وقت میں دنیا کے تمام ممالک ایک دوسرے کی مدد کررہے ہیں تاکہ اس وائرس کے سبب زیادہ افراد جاں بحق نہ ہوں ، اور انہیں فوری طور پر آکسیجن مل جائے۔ ملک کے اسپتال میں آکسیجن کی مسلسل فراہمی کو ممکن بنانے کیلئے بڑے پیمانےپر کوشش کی جارہی ہے۔ ہمارے ملک میں آکسیجن کے دستیاب ذرائع کی تین قسموں پر حکومت سخت توجہ مرکوز کررہی ہے: تجارتی مقاصد کیلئے استعمال ہونیوالی ہوا سے آکسیجن کی علاحدگی کے یونٹ، درمیانے درجے پر پیداوار کیلئے پریشرسوئنگ جو گیس جذب کرتے ہیں اور آکسیجن کانسنٹریٹر جو گھروں اور چھوٹے کمروں میں غذائی اجزاء تیار کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ جانئے اس گیس کے متعلق ۱۰؍ اہم باتیں ۔
میڈیکل اور انڈسٹریل آکسیجن میں فرق
 ہم جس ہوا میں سانس لیتے ہیں وہ متعدد گیسوں کا مرکب ہوتی ہے جیسے آکسیجن ، نائٹروجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ وغیرہ جبکہ میڈیکل آکسیجن ایسی آکسیجن جو ہوتی ہے جو مکمل طور پر خالص ہوتی ہے اور اسے طبی علاج کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ خاص طور پر انسانوں کیلئے بنائی جاتی ہے۔جس سلنڈر میں اسے محفوظ کیا جاتا ہے، وہ کسی بھی قسم کی آلودگی سے پاک ہوتا ہے، اور اس میں دوسری کسی گیس کو نہیں رکھا جاتا جبکہ انڈسٹریل آکسیجن خالص نہیں ہوتی بلکہ یہ متعدد گیسوں کا مرکب ہوتی ہے، ہرچند کہ ان کی مقدار انتہائی کم ہوتی ہے۔
میڈیکل آکسیجن کا استعمال
 میڈیکل آکسیجن عام طور پر طبی سہولیات جیسے اسپتالوں اور کلینک میں رکھی جاتی ہے، اور اسے یہیں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال ہنگامی حالات، مریضوں کیلئے زندگی کی سہولت، جو خود ہی سانس نہیں لے سکتا اسے سپورٹ کرنے کیلئے، اور آکسیجن تھیراپی کیلئے نیز کسی ایمرجنسی کی صورت میں فرسٹ ایڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے کھلاڑی جو انتہائی بلندی پر ٹریننگ حاصل کرتے ہیں ، وہ بھی میڈیکل آکسیجن استعمال کرتے ہیں ۔ علاوہ ازیں ، کوہ پیما بھی میڈیکل آکسیجن استعمال کرتے ہیں ۔
آکسیجن کیسے بنائی جاتی ہے
 آکسیجن بنانے کیلئے ہوا کو مائع میں تبدیل کیا جاتا ہے، اور پھر اس سے دیگر گیسوں کو علاحدہ کرکے آکسیجن کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ یہ آکسیجن مائع حالت میں جمع کی جاتی ہے، اس کے بعد اسے سلنڈرز میں بھرنے کے دوران گیس میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ سلنڈرز کو اچھی طرح صاف کیا جاتا ہے، آلودہ سلنڈر زیادہ دباؤ کی صورت میں پھٹ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی قسم کی غیر خالص آکسیجن مریض کے جسم میں چلی جائے تو اس سے اس کی حالت مزید خراب ہوسکتی ہے، یا پھر اس کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔
سب سے زیادہ آکسیجن پیدا کرنے والی ریاست
 ہندوستان میں سب سے زیادہ آکسیجن مہاراشٹر میں بنائی جاتی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر گجرات ہے۔ لیکن دونوں ہی ریاستوں میں آکسیجن کی شدید قلت ہوگئی ہے اس کی وجہ یہ ہےکہ یہ دونوں ہی ریاستیں دیگر ریاستوں کو بڑے پیمانے پر آکسیجن سپلائی کرتی ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں آکسیجن سلنڈرز کی کمی نہیں ہے لیکن غیر یقینی صورتحال اچانک پیدا ہونے کے سبب چند ریاستوں میں اس کی قلت ہوگئی ہے۔ متعدد ریاستوں میں ضرورت سے زیادہ آکسیجن سلنڈرز موجود ہیں ۔
ہندوستان کتنی آکسیجن بناتا ہے
 واضح رہے کہ ہندوستان یومیہ ۷؍ ہزار ٹن آکسیجن (مائع حالت) بناتا ہے جبکہ اس میں سے ۲؍ ہزار ٹن کو گیس میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان آکسیجن بنانے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق کووڈ کی وباء سے قبل صرف ۲۰؍ فیصد آکسیجن ہی ہیلتھ کیئر کے شعبے کو سپلائی کی جاتی تھی مگر اب اسے بڑھا کر ۷۰؍ فیصد کردیا گیا ہے۔ مگر مانگ اور سپلائی کے یکساں نہ ہونے کے سبب یہ ان ریاستوں کو نہیں پہنچ رہی ہے جہاں ضرورت زیادہ ہے۔
ملک کا سب سے بڑا آکسیجن مینوفیکچرر
 ملک کا سب سے بڑا آکسیجن مینوفیکچرر ’’آئی ناکس ایئر پروڈکٹس‘‘ ہے۔ ملک میں اس کے ۸؍ پلانٹ ہیں جن میں یومیہ ۲۰۰؍ ایم ٹی پی ڈی آکسیجن تیار کی جاتی ہے۔ یہ پلانٹ ۲؍ ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے لگائے گئے ہیں ۔ منی کنٹرول کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں آکسیجن کا ایک پلانٹ نصب کرنے کیلئے ۲۵۰؍ کروڑ روپے خرچ ہوں گے جس میں ۱۵۰؍ ایم ٹی پی ڈی آکسیجن یومیہ تیار کی جاسکے گی۔علاوہ ازیں ، ایسے اسپتالوں میں آکسیجن کے چھوٹے پلانٹ ہوتے ہیں جہاں قریب میں کوئی آکسیجن پلانٹ نہیں ہوتا۔
قدرتی طور پر سب سے زیادہ آکسیجن کون پیدا کرتا ہے
 ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ انسانوں کو آکسیجن قدرتی طور پر ملتی ہے، اور دلچسپ بات یہ ہےکہ یہ آکسیجن ایک چھوٹے سے پودے سے حاصل ہوتی ہے جو سمندروں میں پایا جاتا ہے۔ اس کا نام فائٹو پلانکٹن ہے۔دنیا کی نصف سے زائد آکسیجن اسی پودے سے پیدا ہوتی ہے جبکہ نصف دنیا کے دیگر پودوں ، درختوں اور گھاس سے ملتی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق ۵۰؍ سے ۸۰؍ فیصد آکسیجن ہمیں سمندروں سے حاصل ہوتی ہے۔
وہ ملک جہاں قدرتی طور پر سب سے زیادہ آکسیجن ہے
 برازیل دنیا کا ایسا ملک ہے جہاں قدرتی طور پر سب سے زیادہ آکسیجن پیدا ہوتی ہے۔ اسے ’’لنگس آف دی ورلڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اسی ملک میں دنیا کا سب سے بڑا جنگل امیزون ہے جس کے متعلق سائنسداں کہتے ہیں کہ یہاں سے دنیا کو ۲۰؍ فیصد آکسیجن ملتی ہے۔خیال رہے کہ امیزون کے بارانی جنگلات آکسیجن بناتے ہیں اس لئے گزشتہ سال جب یہاں آگ لگی تھی تو اسے بچانے کیلئے عالمی سطح پر کوششیں ہوئی تھیں ۔
کیا درخت آکسیجن استعمال کرتے ہیں ؟
 ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں جبکہ آکسیجن خارج کرتے ہیں ۔ لیکن جب درخت پھل دیتے ہیں یا جب ان میں پھول لگتے ہیں تو وہ ہوا سے آکسیجن جذب کرتے ہیں ۔ اہم بات یہ ہےکہ وہ جتنی آکسیجن جذب کرتے ہیں اس سے کئی گنا زیادہ خارج کردیتے ہیں ۔ درختوں کے ذریعے آکسیجن بننے کا عمل ضیائی تالیف (وہ عمل جس سے سبز پودے سورج کی روشنی میں فضائی کار بن ڈائی آکسائیڈ اور پانی سے کاربو ہائیڈ ریٹس اور آکسیجن بناتے ہیں )کہلاتا ہے۔
آکسیجن کے متعلق چند دلچسپ باتیں 
آکسیجن لفظ یونانی زبان کے لفظ ’’آکسی جینس‘‘ سے بنا ہے جس کا معنی ہے ایسڈ بنانے والا۔
اس گیس کا کوئی رنگ، کوئی لذت یا کوئی خوشبو نہیں ہے۔یہ فضا میں قدرتی طور پر خالص ہوتی ہے۔
کم و بیش انسانی جسم کا ۲؍ تہائی حصہ آکسیجن پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ انسانی جسم میں پانی کی شکل میں ہے۔
اس گیس کا جوہری عدد ۸؍ ہے جبکہ دوری جدول میں اسے ’’او‘‘ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق یہ تیسرا ایسا عنصر ہے جو کائنات میں وافر مقدار میں پھیلا ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK