شیر خرمہ

Updated: August 01, 2021, 6:21 PM IST | Arifa Khalid Shaikh

حبا ایک امیر گھرانے کی لڑکی ہے۔ اس کے گھر کا مالی ایک دن اپنی مالکن سے اجازت لے کر اپنی بیوہ بہن اور اُس کی بیٹی نمو کو حبا کے گھر لے کر آتا ہے۔ حبا کو نمو بالکل پسند نہیں آتی۔ وہ نمو سے نفرت کرتی ہے۔ عید کی چاند رات کو حبا، نمو کے نئے کپڑے چھپا دیتی ہے لیکن بعد میں پچھتاتی ہے۔ پڑھئے مکمل کہانی:

Picture.Picture:INN
شیر خرمہ ۔تصویر: آئی این این

حبا کو اس سے اللہ واسطے کا بیر تھا۔ اُسے اس کا ہر وقت یہاں وہاں پھدکتے رہنا بالکل پسند نہ تھا۔
 کبھی اِس کمرے میں تو کبھی اس کمرے میں۔ کبھی اندر تو کبھی باہر۔ کبھی آنگن میں لگے چنبیلی کے درختوں سےپھول اکٹھا کر رہی ہے تو کبھی مالی کے ساتھ مل کر پودے لگا رہی ہے۔ کبھی ابّا کیلئے اخبار لئے جا رہی ہے تو کبھی بھیا کیلئے چائے.... جب وہ ابا یا بھیّا کے کمرے میں جاتی تو اُسے بہت بُرا لگتا۔دونوں اُسے بہت پيار کرتے تھے۔ اُسے محسوس ہوتا جیسے وہ اس کے حصے کا پیار چھین رہی ہے۔ نمو نصیبن بوا کی بیٹی تھی جو پچھلے چھ مہینوں سے یہاں ره رہی تھی۔ ۸؍ سالہ نمو تقریباً حبا کی ہم عمر تھی مگر دونوں کی قسمت میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ حبا، اُن خوش نصیب بچوں میں سے تھی جو منہ میں چاندی کا چمچہ لئے پیدا ہوتے ہیں۔ بنگلہ، گاڑی، نوکر چاکر کے ساتھ بے حد آسودگی تھی۔ اُسے ياد ہے۔جب مالی کاکا نے اپنی بیوہ بہن اور اُس کی بیٹی نمو کیلئے اُس کی امّی سے سفارش کی تھی۔
 ’’مالکن! مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔‘‘ ایک دن موقع پا کر اُنہوں نے امی سے کہا تھا۔
 ’’ہاں! ہاں! کہو کیا بات ہے۔‘‘
 ’’مالکن! اگر آپ کی اجازت ہو تو گھر اور رسوئی کے کاموں کیلئے میری بہن کو لے آؤں۔ بے چاری ان دِنوں بڑی پریشان ہے۔ شوہر کے انتقال کے بعد اس کا گزارہ مشکل ہو گیا ہے۔ ساتھ میں ایک کمسن بیٹی بھی ہے۔ اس بڑی سی دنیا میں اس کا میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔‘‘ اتنا کہہ کر مالی کاکا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
 امی کے ساتھ لان میں بید کی کُرسی پر بیٹھی وہ بڑے آرام سے اولٹین کا دودھ پی رہی تھی۔ وہ جانتی تھی اُس کی امی انکار کر دیں گی کیونکہ پہلے ہی گھر میں نوکروں کی فوج کھڑی ہے لیکن اس وقت اسے بڑا تعجب ہوا جب اُنہوں نے کہا ’’ٹھیک ہے تم اسے یہاں لے آؤ۔ بیچاری وقت کی ماری ہے۔ یہ دن بھی گزر جائیں گے۔‘‘
 اس نے غصّے میں آدھا دودھ چھوڑ دیا اور پیر پٹختی ہوئی وہاں سے اٹھ گئی۔
 اب حبا کے وہ کپڑے جو پڑےپڑے جگہ گھیر رہے ہوتے نمو کے حصے آ جاتے۔ جسے پہن نمو پریوں کی طرح اُڑتی پھرتی۔ لیکن حبا، اُس کا بس نہیں چلتا کہ وہ اپنے کپڑوں کو اس کے جسم سے نوچ لے۔ وہ خود نہیں جانتی تھی کہ آخر اِس غریب سے اس کو اتنی کھار کیوں ہے۔
  عید کی تیاریاں زوروں پر تھی۔ گھربھر میں ایک مہینے کی عبادت و ریاضت کے بعد عید کی دھوم تھی۔ حبا کی امی نے نمو اور نصیبن بوا کو عید کے جوڑے پہلے ہی سلوا دیئے تھے۔ تیسواں روزہ اپنے اختتام کی گھڑیوں میں تھا۔ کل عید یقینی تھی۔ حبا نے دیکھا.... امی، ابّا، بھیّا اور گھر کے دیگر افراد کے ساتھ نمو بھی عید کا چاند دیکھنے ٹیرس پر آئی ہوئی تھی۔ نمو اپنی ماں کا آنچل تھامے سہمی سہمی سی کونے میں کھڑی آسمان کو گھورے جا رہی تھی۔حبا کے ذہن میں ایک خیال کوندا۔ وہ سب سے آنکھ بچا کر ٹیرس سے نیچے اُتر آئی۔
  آج عید ہے۔ حبا زرق برق کپڑوں میں تتلی کی طرح اُڑتی پھر رہی تھی۔ ابھی اس کے داداجان اور دادی ماں بھی چھوٹے چاچو کی فیملی کے ہمراہ آنے والے تھے۔ ہمیشہ کی طرح اُن سے بھی خوب عید ی ملنے کی امید تھی۔ نمو کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ حبا دل ہی دل میں خوش تھی۔ تبھی داداجان کے ساتھ وہ نظر آ گئی۔ معمول کے کپڑوں میں ملبوس، آنسوؤں سے تر چہرہ لئے حسرت سے سب کو دیکھ رہی تھی۔ دادا جان کو دیکھتے ہی حبا اُن سے لپٹ گئی۔ داداجان پہلے ہی حبا کی امی اور ابا سے مل کر ہر بات سے آگاہ ہو چُکے تھے۔ حبا کے والدین نے ہر چند حبا کے دل سے نمو کیلئے بھری کدورت دور کرنی چاہی پر نا کام رہے۔ دادا جان بچوں کی نفسیات سے خوب واقف تھے۔ انہوں نے حبا کو پیار سے اپنے پاس بٹھایا ’’بیٹا! کیا آپ جانتے ہو؟ اللہ نے ہمیں کیوں بنایا؟‘‘ حبا کے انکار میں سر ہلانے پر وہ گویا ہوئے ’’اللہ نے انسان کو اس لئے بنایا تاکہ وہ دنیا میں رہ کر ایسے اچھے کام کریں کہ آخرت میں شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ اگر ہم کسی کو دکھ پہنچائے یا کسی کا دل توڑے تو اللہ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گابلکہ سزا بھی دے گا۔ اب یہی دیکھو... تمہاری امی، ابا اور بھیا نے اللہ کو راضی کرنے کیلئے نمو کو اور نصیبن بوا کو اپنے گھر میں رکھا۔ اور ہر طرح سے اُن کی مدد کی۔ کیوں ٹھیک کہا نہ میں نے؟‘‘
 دادا جان نے حبا کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ جہاں خاموشی تھی مگر اقرار صاف نظر آ رہا تھا۔ ’’اور آج! کسی نے نمو کے عید کے کپڑے چرا کر غریب کو دکھ پہنچایا۔ اتنا ہی نہیں عید الفطر کی خوشی بھی چھین لی۔ اب بتاؤ! اللہ ایسے انسان کو کیسے معاف کر سکتا ہے۔ پتہ نہیں اس کے ساتھ اللہ کیا کرے۔ ہو سکتا ہے اگلی آنے والی عید پر خود اُسے نئے کپڑے نہ ملے....‘‘
 اتنا سنتے ہی حبا زاروقطار رونے لگی ’’نہیں! نہیں! دادا جان ایسا مت کہئے۔ میں ابھی نمو کے کپڑے لا کر دیتی ہوں،جو میں نے چھپا دیئے تھے۔‘‘ نمو کا چہرہ گلاب کی طرح کھل اُٹھا۔ جب نمو نئے کپڑے پہن چُکی تو دادا جان نے دونوں بچوں کے سروں پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ’’میرے بچوں ہمیشہ یاد رکھو۔ ہر انسان ایک جیسا ہوتا ہے۔ چھوٹا بڑا اور امیری غریبی کا فرق ہم اِنسانوں نے بنا رکھا ہے۔ اللہ کے حضور۔کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا۔ اچھے اخلاق اور نیک اعمال والوں کو جنت ملتی ہے۔ اور یہ جنت دنیا کے عیش و آرام سے کئی گنا بہتر ہوتی ہے۔‘‘
 حبا اپنے کئے پر شرمندہ تھی۔ دادا جان کی باتیں اس کی سمجھ میں آ گئی۔اس نے پیار سے نمو کا ہاتھ پکڑا اور کہا ’’چلو ! امی کے ہاتھ کا بنا ہوا شیر خرمہ پئیں۔‘‘ دونوں رسوئی گھر کی طرف دوڑ پڑیں۔ داداجان ہنسنے لگے۔ اُنہوں نے پیچھے سے گہار لگائی ’’بچو! مجھے مت بھول جانا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK