سرسیّد احمد خان کے بچپن کے چند واقعات

Updated: October 17, 2020, 3:14 AM IST | Mumbai

سر سیّد احمد خان ۱۷؍ اکتوبر ۱۸۱۷ء میں پیدا ہوئے اور ۱۸۹۸ء میں انہوں نے وفات پائی۔ اکیاسی برس کی یہ مدت ہندوستانی تاریخ میں نہایت اہمیت کی حامل ہے۔

Sir Syed Ahmed Khan Photo: INN
سر سید احمد خان۔ تصویر: آئی این این

سترہ اکتوبر، یوم ِ پیدائش کی مناسبت سے
سر سیّد احمد خان ۱۷؍ اکتوبر ۱۸۱۷ء میں پیدا ہوئے اور ۱۸۹۸ء میں انہوں نے وفات پائی۔ اکیاسی برس کی یہ مدت ہندوستانی تاریخ میں نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ایسا دور تھا جبکہ تقریباً تمام شعبہ ہائے زندگی میں خواہ وہ سیاسی ہو سماجی ہو یا معاشی ہو، ایک تبدیلی آرہی تھی۔سر سیّد احمد خاں انیسویں صدی کی تابندہ متحرک اور بزگزیدہ شخصیتوں میں سے تھے۔ وہ بیک وقت ماہر دینیات، عالم، سماجی مصلح، ماہر تعلیم، مدبر، مصنف اور صحافی تھے۔ انہوں نے نئے ہندوستان کی تعمیر میں اہم رول ادا کیا ہے۔
 سیّد احمد خان جب دہلی میں منصف مقرر ہوئے تو وہ ہمیشہ گاڑی میں بیٹھ کر باہر جاتے تھے۔ ان کی ماں نے انہیں نصیحت کی کہ جہاں تم کو پابندی سے جانا ہو وہاں بعض اوقات تم پیدل جاؤ اور بعض اوقات سواری پر۔ کون جانتا ہے کل تمہارے پاس سواری کے لئے پیسے نہ ہوں ۔ ایسی عادت رکھو جو ناموافق حالات میں بھی جاری رہ سکے۔ چنانچہ ماں کی اس نصیحت پر سید احمد نے تمام عمر عمل کیا۔
 سیّد احمد جب گیارہ بارہ سال کے تھے تو انہوں نے ایک پرانے اور بزرگ نوکر کو ایک تھپڑ مار دیا۔ جب ان کی والدہ کو اس واقعہ کا پتہ چلا تو انہوں نے ان کو یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا کہ یہ لڑکا اس گھر میں رہنے کے لائق نہیں ہے۔ ایک خادمہ سے انہوں نے کہا کہ وہ ان کو باہر لے جائے اور سڑک پر چھوڑ دے۔ سید احمد کی خالہ نے جو کہ پڑوس میں رہتی تھیں انہیں پناہ دی لیکن ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ ان کی بہن کو اس کے بارے میں معلوم ہوگیا تو وہ بہت ناراض ہوں گی۔ تین دن کے بعد وہ ان کو ان کی والدہ کے پاس لے گئیں ۔ لیکن انہوں نے اس وقت تک ان کو معاف کرنے سے انکار کر دیا جب تک کہ وہ اس ملازم سے معافی نہ مانگ لیں ۔
 چنانچہ سیّد احمد کو گھر میں اس وقت داخل کیا گیا جب انہوں نے ملازم سے اپنے قصور کی معافی مانگ لی۔
 چند واقعات جو سید احمد اپنی بعد کی زندگی میں بیان کرتے تھے، ان سے پتہ چلا ہے کہ سر سید احمد خان کے فکر و عمل پر کس حد تک ان کی والدہ کے اثرات تھے۔
خلیق احمد نظامی کی لکھی ہوئی ’سیّد احمد خان‘ نامی کتاب سے لئے گئے چند اقتباسات

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK