نیند کی قیمت

Updated: January 08, 2022, 1:50 PM IST | Syaed Sadaf Irfan | Mumbai

اکبر سر دیر رات تک جمال کو کیمسٹری پڑھاتے ہیں۔ اس لئے جمال طے کرتا ہے کہ وہ اُن کی نیند کی قیمت ضرور ادا کرے گا لیکن ....

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

آج شہر کے سب سے بڑے ہوٹل میں پروفیسر جمال بیگ کے اعزاز میں زبردست تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ پروفیسر جمال بیگ کچھ عرصہ قبل ہی امریکہ سے تعلیم مکمل کرکے لوٹے تھے۔ سائنس کی دنیا میں ان کے نظریات نے انقلاب برپا کر دیا تھا۔ یہ تقریب ان کی علمی اور سائنسی خدمات کو سراہنے کے لئے منعقد کی گئی تھی۔ تقریب کے اختتام سے قبل پروفیسر جمال بیگ کو دعوت دی گئی کہ وہ اسٹیج پر آکر آج اپنی نجی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیں۔ وہ ڈائس پہ آئے تو پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ انہوں نے کہنا شروع کیا۔ ’’معزز سامعین! مَیں آپ سب کا ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے یہاں بلا کر عزت بخشی۔ میری نجی زندگی کے بارے میں آپ نے کچھ جاننے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ مَیں آپ کو اپنی زندگی کا ایک ایسا واقعہ سنانا چاہتا ہوں جس نے مجھے موجودہ مقام دلانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ مَیں دراصل کسی کا مقروض ہوں اور مجھے قیمت چکانا ہے۔‘‘ پروفیسر جمال رکے۔ سب لوگ انہیں متجسس نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ ’’یہ ان دنوں کی بات ہے جب مَیں ایچ ایس سی میں پڑھتا تھا۔ والدین وفات پا چکے تھے، اس لئے ہاسٹل میں رہتا تھا اور ٹیوشن وغیرہ پڑھا کر اپنا خرچ پورا کرتا تھا۔ سالانہ امتحانات قریب تھے۔ ہمیں پڑھنے کے لئے چھٹیاں دی جا چکی تھیں۔ مَیں لکھنے پڑھنے میں بے پروا تھا لیکن امتحانات سے کچھ عرصہ قبل پڑھائی میں سنجیدہ ہوجاتا تھا اس لئے مَیں نے پڑھنا شروع کر دیا تھا اور تقریباً امتحان کی تیاری مکمل کر لی، صرف کیمسٹری کی کتاب کا ایک باب ایسا تھا جو مجھے کسی طور سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ ہاسٹل میں اپنے کلاس فیلوز اور سینئرز سے پوچھا، لیکن کوئی بھی سمجھا نہ سکا۔ کلاس فیلو کا کہنا تھا کہ ہم تو چوائس میں چھوڑ دیں گے۔ سینئرز نے اپنی ازلی بے پروائی کی بدولت نہایت سکون سے کہہ دیا تھا کہ اب یہ باتیں کون یاد رکھے؟ مجھے کیمسٹری کے ٹیچر سر اکبر یاد آرہے تھے۔ جو بے حد اچھے اور فرض شناس استاد تھے۔ جانتے تھے کہ کس طالبعلم کو سمجھانے کے لئے کون سا طریقہ بہتر رہے گا لیکن بدقسمتی سے مجھے ان کے گھر کا پتہ معلوم نہیں تھا۔
 اسی شام میں کوئی چیز خریدنے بازار گیا تو اپنے کلاس فیلو عبداللہ سے ملاقات ہوگئی۔ مَیں نے وہیں بازار میں کھڑے کھڑے اپنا مسئلہ بتایا تو وہ ہنس پڑا۔
 ’’بھلا یہ کیا مشکل ہے۔ سر اکبر تو ہمارے محلّے میں ہی رہتے ہیں.... تین چار گلیاں چھوڑ کر.... تم میرے ساتھ چلو۔‘‘ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ مَیں فوراً اس کے ساتھ چل پڑا۔ سر کے گھر پہنچے تو پورا گھر بقعۂ نور بنا ہوا تھا۔ آج سر کی بیٹی کی شادی تھی۔ سر بہت مصروف تھے۔ ان سے ملاقات کی.... اپنا مسئلہ انہیں بتایا۔ انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے سمجھانے کی کوشش کی لیکن ا س قدر شور ہنگامے میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ سر بھانپ گئے، بولے ’’تم ایسا کرو کہ آج رات ایک بجے آجانا، مَیں تمہیں سمجھا دوں گا۔ تمہارے امتحانات بھی پرسوں سے شروع ہو رہے ہیں۔‘‘ ’’لیکن سر! آپ کی نیند....‘‘ مَیں ہچکچایا۔ ’’ارے! سونے کے لئے عمر پڑی ہے۔‘‘ وہ ہنس پڑے۔ مَیں ہاسٹل آگیا۔ رات کو وارڈن سے خصوصی اجازت لے کر سر کے گھر پہنچا۔ وہ میرا ہی انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے سمجھانا شروع کیا۔ ڈھائی گھنٹے کے بعد جب انہوں نے پڑھانا ختم کیا تو وہ باب اچھی طرح میری سمجھ میں آچکا تھا۔ سر کی آنکھیں نیند کی شدت سے سرخ ہو رہی تھیں۔ مَیں شرمندہ تھا، میری وجہ سے سر کتنے بے آرام ہوئے تھے۔ سارا دن کام کی تھکن رہی اور رات کو مَیں نازل ہوگیا تھا۔ مَیں نے اپنے خیالات کا اظہار ان کے سامنے کیا تو وہ ہنس پڑے، ’’کچھ نہیں ہوتا بیٹا! تمہارے یہ امتحان بہت اہم ہیں۔‘‘ ’’لیکن سر! آپ کی نیند میری وجہ سے خراب ہوئی اور....‘‘ مَیں نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ مَیں واقعی بہت شرمندہ تھا۔ انہوں نے پیار سے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا اور بولے، ’’جمال بیٹا! توجہ سے پڑھو۔ محنت کرو۔ دنیا میں کچھ بن کے دکھاؤ.... میری نیند کی قیمت وصول ہو جائے گی۔‘‘ یہ جملہ میرے دل میں اتر گیا۔ اس دن کے بعد سے میری توجہ پڑھائی کی طرف ہوگئی۔ دن رات محنت کی، سائنسداں بنا۔ عزت ملی، شہرت ہوئی، مَیں کامیابی کا زینہ طے کرتا گیا۔ ہر کامیابی پہ میرا دل کہتا کہ مَیں نے اپنے استاد کی نیند کی قیمت ادا کر دی لیکن دماغ کہتا.... نہیں.... میرے استاد کی نیند اتنی سستی نہیں تھی، اس کی قیمت چکانے کیلئے مجھے اور آگے جانا ہے۔ بہت سی کامیابیاں حاصل کرنا ہیں۔ لوگ محنت کرتے ہیں، نام کماتے ہیں، اپنے لئے، عزت و شہرت کے لئے، والدین کا اور اپنا نام روشن کرنے کے لئے.... لیکن میری اس دن رات کی محنت کا مقصد صرف اپنے محترم استاد کی خواہش کی تکمیل تھا۔ نہ جانے مَیں اس کوشش میں کامیاب بھی ہوا یا نہیں؟‘‘ پروفیسر جمال بیگ خاموش ہوگئے تھے۔ پورا ہال خاموش تھا۔ تمام آنکھیں عقیدت سے اس چہرے پر جمی تھیں جو مغموم نظر آرہا تھا۔ اتنے میں ہال کے ایک گوشے میں ہلچل مچی۔ سفید جھاگ جیسے بالوں والا شخص لاٹھی ٹیکتا اسٹیج پر چڑھ گیا۔ پروفیسر جمال نے غور سے اس شخص کو دیکھا، ’’سر! آپ.... آپ اور یہاں!‘‘ وہ حیرت اور خوشی سے انہیں دیکھ رہے تھے۔ سر اکبر کچھ نہیں بولے بس چپ کھڑے انہیں دیکھتے رہے۔ ’’سر! کیا میری یہ حقیر سی کاوشیں، چھوٹی چھوٹی کامیابیاں آپ کی نیند کی قیمت بن سکتی ہیں؟‘‘ انہوں نے سر کا ہاتھ تھام کر لجاجت سے پوچھا تھا۔ ’’یہ حقیر سی کاوشیں نہیں ہیں بیٹا! یہ تو روشنیوں کا وہ مینار ہے جس پہ چڑھنا کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔ آج ایک شاگرد نے اپنے استاد کو وہ قیمت ادا کی ہے جو اس سے پہلے کسی شاگرد نے کسی استاد کو ادا نہ کی ہوگی۔‘‘ سر نے بڑھ کر انہیں گلے سے لگا لیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK