پھول

Updated: May 22, 2021, 5:13 PM IST | Mohammad Idris

راشد کو بہت زیادہ غصہ آتا ہے اور غصہ کی حالت میں وہ کچھ بھی کر جاتا ہے مگر بعد میں اسے بے حد افسوس ہوتا ہے۔ اس کا دوست حامد اسے ہمیشہ سمجھاتا رہتا ہے۔ لیکن غصے کی وجہ سے راشد زبیر کے سر پر پتھر مار کر بھاگ جاتا ہے۔ پڑھئے مکمل کہانی:

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

راشد کو غصہ بہت آتا تھا۔ وہ ذرا ذرا سی بات پر ناراض ہوجایا کرتا تھا۔ کسی کی مذاق میں کہی ہوئی بات بھی اس سے برداشت نہیں ہوتی تھی۔ وہ اپنا ذہن بالکل استعمال نہیں کرتا تھا۔ اس کو کوئی بھی آسانی سے کسی کے بھی خلاف بہکا سکتا تھا۔ وہ ہر ایک سے لڑنے کو ہر وقت تیار رہتا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے دوست بہت کم تھے۔ مگر حامد جو ٹھنڈے مزاج کا لڑکا تھا، اس نے راشد سے دوستی نہیں توڑی تھی۔ حامد کو معلوم تھا کہ راشد دل کا برا نہیں، مگر اسے اپنے غصے پر قابو نہیں ہے۔ وہ اکثر اسے سمجھاتا رہتا تھا کہ تم غصہ نہ کیا کرو۔
 راشد نے کہا ’’مگر مَیں کیا کروں؟ مجھ سے بالکل برداشت نہیں ہوتا اور خاص طور پر غلط بات تو مَیں برداشت کر ہی نہیں سکتا۔ سب میرے دبلے ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں۔ لمبو کہتے ہیں تو مجھے غصہ آجاتا ہے۔‘‘ ’’تم طاہر اور امین کی باتوں میں کیوں آجاتے ہو؟ وہ دونوں تو لڑائی جھگڑا کروا کے خوش ہوتے ہیں۔‘‘ حامد نے کہا۔ ’’مگر وہ بالکل صحیح بات کرتے ہیں۔ وہ مجھے بتاتے ہیں کہ میرے پیچھے میرا کس طرح مذاق اڑایا جاتا ہے؟‘‘ راشد نے کہا۔ حامد نے سمجھایا ’’نہیں نہیں.... وہ تمہیں بہکاتے ہیں۔ یقین کرو تمہارے پیچھے کوئی تمہیں کچھ نہیں کہتا۔ کسی کو اتنی فرصت نہیں کہ تمہارے خلاف بات کرے۔ طاہر اور امین تو تمہیں دوسروں سے لڑوا کر تماشہ دیکھتے ہیں۔ تم کو چاہئے کہ تم ان کی باتوں میں نہ آؤ۔ اپنا ذہن استعمال کرو۔‘‘
 مگر راشد چونکہ اپنا ذہن استعمال نہیں کرتا تھا۔ اسے پھر طاہر اور امین نے بہکایا ’’دیکھو زبیر تمہیں لمبو کہتا ہے۔ اور کل کس طرح گا رہا تھا اونٹ رے اونٹ! تیری کون سی کل سیدھی.... یہ اکثر تم پر فقرے کستا ہے۔ تم ایک بار اسے مزہ چکھا دو تاکہ آئندہ تمہیں چڑانے کی ہمت نہ کرسکے۔‘‘
 ’’مَیں لڑتا تو ہوں، مگر ہاتھا پائی نہیں کرسکتا۔ وہ بہت طاقتور لڑکا ہے۔ مَیں اس کا کس طرح مقابلہ کرسکتا ہوں؟ وہ بہت موٹا بھی ہے۔‘‘ راشد نے کہا۔ ’’ہاتھا پائی کی کیا ضرورت ہے؟ دور سے ہی ایک پتھر اٹھاؤ اور دے مارو۔‘‘ طاہر اور امین نے مشورہ دیا۔ ’’ہاں! یہ ٹھیک ہے۔ کل میں ایسا کروں گا۔ اب وہ مجھے کچھ کہہ کر دیکھے۔‘‘ راشد نے بات مانتے ہوئے کہا۔
 دوسرے دن راشد کہیں جا رہا تھا کہ زبیر جو اپنی دکان پر بیٹھا تھا اسے دیکھتے ہی بولا ’’ہاں بھئی کھمبے! کہاں چل دیئے! کیا کہیں بجلی کی تاریں باندھنی ہیں جس کے لئے تمہاری ضرورت پڑگئی؟ تم تو چلتے پھرتے کھمبے ہو۔‘‘
 راشد تو پہلے ہی بھرا ہوا تھا۔ اٹھا کر ایک وزنی پتھر دے مارا جو نشانے پر بیٹھا اور زبیر کا سر پھٹ گیا۔ یہ حرکت کرکے راشد وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا اور سیدھا اپنے گھر پہنچا اور کمرے میں جاکر دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ پتہ نہیں کیا ہوا ہوگا؟ اس وقت کوئی تھا بھی نہیں۔ اس کا خون تو کافی بہہ گیا ہوگا۔ راشد دل کا برا نہیں تھا۔ اس نے جو کچھ بھی کیا غصے میں کیا، اب اس کو بہت افسوس ہو رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں دستک ہوئی۔ وہ ڈر گیا کہ پولیس تو نہیں آگئی کہیں۔ اس نے کھڑی سے دیکھا۔ حامد کھڑا ہوا تھا۔ اس نے دروازہ کھول دیا۔
 ’’یہ کیا کیا تم نے؟ بنا دیا اپنا تماشا، پورے محلے والے تمہارے خلاف باتیں کر رہے ہیں۔‘‘
 ’’وہ.... وہ زبیر کا زیادہ نقصان تو نہیں ہوا؟‘‘ راشد نے حامد کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ’’چھوڑو، جاؤ جاکر ان ہی کی بات مانو جن کی باتیں تمہیں اچھی لگتی ہیں اور جو تمہارے خیال میں تمہارے ہمدرد ہیں۔‘‘ حامد نے راشد کا ہاتھ جھٹکا۔ ’’مہربانی کرکے مجھے بتاؤ۔ زبیر کا خون زیادہ تو نہیں بہہ گیا؟‘‘ حامد نے اسے دیکھا۔ وہ بالکل معصوم نظر آرہا تھا۔ ’’کیوں اپنا ذہن استعمال نہیں کرتے ہو؟ زبیر کو وقت پر طبی امداد مل گئی تھی۔ اب وہ بالکل ٹھیک ہے۔‘‘
 ’’شکر ہے میرے اللہ!‘‘ راشد نے سچے دل سے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اللہ نے اسے بڑی مصیبت سے بچا لیا تھا۔ اگر زبیر کا زیادہ نقصان ہوجاتا تو راشد کی مصیبت ہی آجاتی۔ وہ دل سے اس کا نقصان نہیں چاہتا تھا۔ اسے طاہر اور امین نے بہکا دیا تھا۔ وہ حامد کو ساتھ لے کر زبیر کی عیادت کرنے پھول لے کر گیا۔
 زبیر اس وقت سو رہا تھا۔ اس کے والدین بہت خوشی سے ملے۔
 ’’انکل! مَیں بہت شرمندہ ہوں۔‘‘ راشد نے کہا۔ ’’بیٹے! تمہارا قصور بھی نہیں ہے۔ ہمارے بیٹے کی عادت ہی کچھ ایسی ہے۔ اس کے ساتھ ایسا ایک نہ ایک دن ہونا تھا۔ کسی کی چڑ بنانا بہت بری بات ہوتی ہے۔‘‘ اتنے میں زبیر کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے راشد کو دیکھ کر منہ پھیر لیا اور غصہ سے کہا ’’اس نے میرا سر پھاڑ دیا تھا۔ مَیں اس سے بات بھی نہیں کرنا چاہتا۔‘‘
 ’’اور تم جو اس کی چڑ بنا رہے تھے؟ تمہیں اس حرکت کی سزا ملی ہے اور راشد کو دیکھو، وہ پھر بھی شرمندہ ہے۔ تمہاری عیادت کو آیا ہے۔ پھولوں کا تحفہ لے کر، جو محبت کا اظہار ہوتے ہیں۔‘‘
 ’’اچھا خود ہی مار کر خود ہی سہلانے آیا ہے۔‘‘ زبیر نے کہا۔ ’’ہاں! ایسے لوگ بھی کم ہوتے ہیں۔ تم ایک سمجھدار لڑکے ہو۔ پھول لانے کا مطلب خود سمجھ جاؤ۔ یہ تم سے دوستی کرنا چاہتا ہے۔‘‘ زبیر کے والد نے کہا۔ ’’نہیں بھئی، مجھے اس کے غصے سے بہت ڈر لگتا ہے۔ ابھی تو صرف سر پھاڑا ہے، آگے نہ جانے اس کا غصہ کیا رنگ دکھائے؟‘‘ زبیر نے کہا۔ ’’غصہ مَیں نے چھوڑ دیا۔ مَیں حامد کی باتوں پر عمل کروں گا۔‘‘ راشد نے کہا۔
 ’’تو ٹھیک ہے، مَیں نے بھی دشمنی چھوڑ دی۔‘‘ اب ہم دونوں مل کر طاہر اور امین سے بدلا لیں گے۔ وہ دوسروں کو لڑواتے ہیں۔‘‘ زبیر نے راشد سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔ ’’کیا تم لوگوں نے اس لئے ہاتھ ملائے ہیں کہ بدلہ لو۔ بدلہ لینا بری بات ہے۔‘‘ والد صاحب نے کہا۔
 ’’نہیں، ہم مذاق کر رہے تھے۔ میرا مطلب ہے کہ ہم پھول دیں گے اور کہیں گے کہ پھولوں جیسے بن جاؤ، دنیا کو مہکاؤ، کانٹوں سے زخمی نہ کرو۔‘‘ اور پھر سب ہنسنے لگے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK