دیانت کا ثمرہ

Updated: January 16, 2021, 1:06 PM IST | Mohammed Ismail

یہ کہانی ایک دیانتدار بینک کے مالک کی ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جب اس کی دیانتداری کا امتحان لیا جاتا ہے۔ جانیں وہ اس میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں:

Dayanat Ka Samra
دیانت کا ثمرہ

جرمنی کے شہر فرینک فورٹ کے ایک بینک کے مالک کا ذکر ہے کہ وہ بہت ہی دیانتدار تھا۔ لوگ اس کی ایمانداری پر بہت ہی رشک کرتے تھے۔ اور شہر بھر میں وہ عزت اور قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ وہاں کا شہزادہ بھی اس کی دیانتداری کے گیت گایا کرتا تھا۔
 اتفاق سے فرانس اور جرمنی کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔ ایک مہینے کی مسلسل لڑائی کے بعد جرمنی کو شکست فاش ہوئی۔ اور جرمنی کا شہزادہ شکست کھا کر میدان جنگ سے بھاگ نکلا۔ جب وہ بھاگتا ہوا اس شہر میں سے گزرا، تو اسی بینک کے مالک کے پاس گیا۔ اور اس سے کہا کہ ’’بھائی میرے پاس بہت سے ہیرے جواہرات اور اشرفیاں ہیں۔ چونکہ مجھ کو بڑی بھاری زک اٹھانی پڑی ہے۔ اور مَیں جان بچانے کی خاطر میدان ِ جنگ سے بھاگ نکلا ہوں۔ اس لئے اندیشہ ہے کہ اگر یہ تمام جواہرات وغیرہ میرے پاس رہے تو ضرور دشمن کے ہتّے چڑھ جائیں گے۔ اور میری جان بھی مفت میں جائے گی۔ اس لئے بہتر ہے کہ یہ تمام روپیہ اپنے پاس بطور امانت رکھو۔ جب کبھی امن بحال ہوگا۔ مَیں اگر واپس لے لوں گا۔‘‘ بینک والے نے پہلے تو انکار کر دیا۔ اور کہا کہ ’’فرانسیسی فوج ضرور شہر میں آکر لوٹ مچائے گی۔ اگر آپ کا روپیہ ضائع ہوگیا، تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟‘‘
 شہزادنے نے کہا ’’مجھے آپ کی بات پر یقین ہے۔ اگر خدانخواستہ میرا روپیہ جاتا رہا۔ تو مَیں آپ سے کبھی بھی طلب نہ کروں گا۔ اور اگر قسمت سے بچ گیا تو پھر مجھے واپس کر دیجئے گا۔‘‘ بینک کے مالک نے شہزادے کی اس شرط کو منظور تو کر لیا۔ لیکن وہ تمام روپیہ اپنے باغ کے ایک کونے میں دفن کرکے واپس آہی رہا تھا کہ فرانسیسی فوج نے تمام شہر پر قبضہ کرکے لوٹ مچا دی۔ اور یہ بینک بھی فوج کی زد سے نہ بچ سکا۔ سپاہیوں کا ایک گروہ بینک میں گھس آیا۔ بینک کا مالک ان کو دیکھتے ہی اُٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ اور ان سے ادب کے ساتھ یہ کہا کہ میرے پاس ۵؍ لاکھ پونڈ ہیں۔ اور یہ سب آپ کی نذر ہیں۔ مگر میری جان بخشی کی جائے۔‘‘ سپاہیوں کو اور کیا چاہئے تھا۔ وہ تمام پونڈ لے کر واپس چلے گئے۔ بینک کے مالک نے اس طریقہ سے شہزادہ کا تمام روپیہ تو بچا لیا۔ لیکن اب اس کے پاس اپنی ایک کوڑی تک نہ رہی۔ اور سب کاروبار بند ہوگیا۔ تو اس نے شہزادہ کے روپیہ میں سے کچھ روپیہ صرف کرکے اپنے کاروبار کو ازسرنو شروع کر دیا۔
 نیک آدمیوں کا خدا مددگار ہوتا ہے۔ اُس کا کاروبار پھر پہلے کی طرح چمک اُٹھا۔ اور تھوڑے ہی عرصہ میں تمام کھوئی ہوئی پونجی کو دوبارہ حاصل کر لیا۔
 چند سالوں کے بعد پورے ملک میں امن قائم ہوگیا۔ تو شہزادہ بھی اپنے شہر کو واپس آگیا۔ شہزادے کو فرانسیسی سپاہیوں کی لوٹ کا علم تھا۔ اُس نے سوچا کہ اب روپیہ کا ملنا تو بہت مشکل ہے۔ فرانسیسی سپاہیوں نے بینک پر ضرور دھاوا بولا ہوگا۔ اور تمام روپیہ اپنے قبضہ میں کرکے رفو چکّر ہوگئے ہوں گے۔ اس خیال سے وہ عرصہ تک خاموش رہا۔ اور اس تمام واقعہ کا کسی سے ذکر تک بھی نہ کیا۔
 تھوڑے ہی دنوں بعد بینک کے مالک کو شہزادہ کی واپسی کا پتہ چل گیا۔ وہ فوراً اُسکے پاس حاضر ہوا۔ اور اپنے تمام روپیہ کے ضائع ہونے کا کچا چٹھا کہہ سنایا۔ اُس نے شہزادہ سے کہا کہ آپ کا تمام روپیہ میرے پاس بالکل محفوظ پڑا ہے۔ آپ جس وقت چاہیں مجھ سے لے سکتے ہیں۔‘‘
 شہزادہ یہ سن کر دنگ رہ گیا۔ اور حیرانی سے بینک والے سے کہنے لگا کہ ’’تم تو کہتے تھے کہ میرا تمام ذاتی روپیہ سپاہیوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔ مگر مجھے تو تمہاری مالی حالت میں کچھ تبدیلی نظر نہیں آتی۔ یہ کیا بھید ہے؟‘‘
 بینک والے نے جواب دیا ’’آپ سچ کہتے ہیں۔ مجھ سے ایک بہت بھاری غلطی ہوئی۔ یعنی مَیں نے کاروبار کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے آپ کی بغیر اجازت کچھ روپیہ صرف کر دیا۔ جس سے تھوڑے ہی عرصہ میں میرا کام پہلے کی طرح چل پڑا۔ اور بہت سا روپیہ پیدا کر لیا۔ جس کی وجہ سے میری مالی حالت میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اب مَیں آپ کو آپ کے مال سے بھی کئی گنا زیادہ دینے کے لئے تیار ہوں۔ کیونکہ مَیں نے آپ کے مال سے فائدہ اٹھایا ہے۔‘‘
 شہزادہ اس بات پر بہت خوش ہوا۔ اس کی دیانتداری پر عش عش کرنے لگا۔ اور نے اِدھر اُدھر دیکھ کر کہا ’’میرا تمام روپیہ اپنے پاس رکھو۔ حسب ضرورت مَیں آپ سے لے لیا کروں گا۔‘‘
 شہزادے نے بینک کے مالک کی تعریف بڑے بڑے بادشاہوں سے کی۔ اور اُس کے کاروبار میں اس قدر ترقی ہوئی کہ تمام یورپ میں اس کے مقابلے کا کوئی امیر نہ تھا۔
 بچو....! دیانتداری سے کام کرنے والے ہمیشہ خوش و خرم رہتے ہیں۔ تم کو بھی ہر کام دیانتداری سے کرنا چاہئے تاکہ تم بھی دنیا میں نیک نام پیدا کرسکو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK