غرور کا سر نیچا

Updated: July 10, 2021, 3:59 PM IST | Mohammad Umar Ahmad Khan

محمود کو اس کی سالگرہ پر اس کے ماموں ایک سائیکل تحفے میں دیتے ہیں۔ تحفے میں سائیکل ملنے کے بعد وہ پورا دن اسی پر گزارتا۔ وہ سائیکل اتنہائی تیز رفتاری کے ساتھ چلاتا ۔ ایک دن اس کے والد کے دوست اسے سمجھاتے ہیں لیکن اس پر کوئی بھی نصیحت کام نہیں کرتی۔ پڑھئے مکمل کہانی:

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

محمود کو اس کی سالگرہ پر اس کے ماموں نے ایک خوبصورت سائیکل تحفے میں دی۔ محمود کے تو مزے ہوگئے۔ اب وہ ہوتا اور سائیکل ہوتی۔ پہلے بھی وہ سائیکل چلاتا تھا مگر بڑے محتاط طریقے سے۔ لیکن اب اپنی سائیکل تھی۔ سارا دن اس کے پاس رہتی۔ اس لئے محمود کو کوئی پروا نہ تھی۔ اب وہ سائیکل چلاتا تو انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ۔ کبھی گلیوں میں دوڑاتا تو کبھی سڑکوں پر موڑ کاٹتے وقت وہ اتنی تیز رفتاری کے ساتھ سائیکل موڑتا کہ لوگوں کے دل دھک سے رہ جاتے۔ انہیں یوں لگتا جیسے سائیکل گرنے والی ہو لیکن سائیکل نہ گرتی کیونکہ محمود سائیکل کو گرنے سے پہلے ہی سنبھال لیتا۔ محمود اتنا نواب ہوگیا تھا کہ سائیکل کے بغیر کوئی کام نہ کرتا۔ اس کی امّی قریب سے بھی کوئی چیز منگواتیں تو محمود سائیکل پر سوار ہو کر جاتا۔ جو چیز چند قدم چل کر حاصل کی جاسکتی تھی وہ محمود سائیکل پر سوار ہو کر لاتا۔ تیز سائیکل چلانا اور سائیکل پر اُلٹے سیدھے کرتب دکھانا محمود کا مشغلہ بن گیا تھا اسے اس بات کا ذرا بھی خیال نہ آتا کہ کہیں اس کے اُلٹے سیدھے کرتب اور تیز رفتاری حادثے کا باعث نہ بن جائے۔
 فضل الدین صاحب محمود کے گھر کے سامنے رہتے تھے۔ بچے انہیں ’’انکل‘‘ کہہ کر پکارتے۔ انہیں بھی بچوں سے بڑی محبت تھی۔ وہ بچوں کو اچھی اچھی باتیں بتاتے اور بری باتوں پر ٹوکتے۔ محمود کو جب انہوں نے تیز رفتاری سے سائیکل چلاتے اور اوٹ پٹانگ کرتب دکھاتے دیکھا تو بہت گھبرائے، سیدھے محمود کے گھر گئے اور محمود کے ابّا کو بتایا کہ وہ محمود کو تیز سائیکل چلانے سے روکیں ورنہ کوئی حادثہ ہوسکتا ہے۔ فضل صاحب کی بات سن کر محمود کے ابّا مسکرائے۔ فخر سے ان کا چہرہ تن گیا۔ انہوں نے مسکرا کر کہا ’’فضل صاحب! آپ تو ڈر گئے، مجھے دیکھئے! مَیں اس کا باپ ہوں مگر مجھے اس کے سائیکل تیز چلانے پر کوئی اعتراض یا خوف نہیں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میرا بچہ بہت ماہر ہے۔ اسے سائیکل پر پورا کنٹرول ہے۔ اور ویسے بھی صاحب! یہی تو بچّوں کی عمر ہوتی ہے۔ اگر ابھی سے ہم نے اپنے بچوں کو ڈرا ڈرا کر رکھا تو ڈر اور خوف بچوں کے لاشعور میں بیٹھ جائیگااور جب یہی بچّے بڑے ہوں گے تو اپنی زندگی کی گاڑی کو کس طرح چلائینگے۔‘‘
 فضل صاحب نے بڑے تحمل سے محمود کے ابّا کی گفتگو سنی۔ انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ محمود کے والد اپنے بچے پر اندھا دھند اعتماد کر رہے ہیں۔ خطرے کا احساس دلانے کیلئے انہوں نے کہا ’’میرا مطلب یہ ہے کہ آپ محمود کو کم از کم اس بات کا احساس ضرور دلائیں کہ حد سے زیادہ تیز رفتاری خطرناک ہوتی ہے۔‘‘ ’’اچھا جناب! مَیں سمجھا دوں گا۔ محمود کے ابّا نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
 فضل صاحب نے محمود کو بھی سمجھایا کہ تیز رفتاری سے سائیکل چلانا درست نہیں۔ انہوں نے کہا ’’زندگی کی گاڑی میں توازن رکھنا چاہئے نہ زیادہ تیز چلانا چاہئے نہ زیادہ آہستہ۔‘‘ انہوں نے محمود کو بتایا کہ جو لوگ زندگی کی گاڑی میں توازن نہیں رکھتے، اعتدال سے کام نہیں لیتے وہ آگے چل کر نقصان اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے محمود کو مشورہ دیا ’’محمود بیٹے! سائیکل تیز نہ چلایا کرو اس میں ہر وقت حادثہ کا ڈر رہتا ہے۔‘‘
 ’’واہ انکل! آپ بھی کیا بات کرتے ہیں۔ کیا آپ نے مجھے ایسا ہی سمجھ رکھا ہے۔ مَیں سائیکل چلانے کے سارے اسرار و رموز سے واقف ہوں۔‘‘ محمود ایک لمحے کو خاموش ہوا پھر دوسرے ہی لمحے کندھے اُچکا کر فضل صاحب سے بولا ’’اور انکل! ویسے بھی یہ تیز رفتاری کا زمانہ ہے جو اس دوڑ میں تیز چلے گا وہی منزل پائے گا اور جو اس تیز رفتار زمانے کے ساتھ نہیں چل سکتا وہ بہت پیچھے رہ جائے گا۔‘‘ محمود کے لہجے میں غرور ٹپک رہا تھا۔ فضل صاحب مایوس ہو کر بولے ’’جیسی تمہاری مرضی بیٹے! میرا جو فرض تھا وہ مَیں نے پورا کر دیا۔‘‘
 ’’اونہہ! بڑے آئے سمجھانے والے! ڈرپوک کہیں گے۔‘‘ فضل صاحب کے جانے کے بعد محمود منہ بنا کر بڑبڑایا۔ اسی وقت امّی نے اسے آواز دی ’’محمود بیٹے دکان سے صابن تو لے آؤ۔‘‘ محمود نے امّی سے پیسے لئے، سائیکل اٹھائی اور باہر جانے لگا۔
 ’’ارے! دکان کون سے دور ہے پیدل ہی چلے جاؤ۔‘‘ امّی بولیں۔ لیکن.... محمود نے اپنی امّی کی بات معمول کے مطابق سنی اَن سنی کر دی۔
 اس نے تیز سائیکل چلائی۔ موڑ پر جیسے ہی محمود نے تیزی سے سائیکل موڑی سامنے سے اچانک گاڑی آگئی۔ گاڑی کے ڈرائیور نے فل بریک لگا دیئے لیکن محمود بہت تیزی میں تھا اسے بریک لگانے کی مہلت بھی نہ مل سکی۔ ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ محمود بری طرح گاڑی سے ٹکرا گیا۔ لوگ اسے فوراً اسپتال لے گئے۔ جہاں اس کے سر کی مرہم پٹی کی گئی اور اس کے ٹوٹے ہوئے ہاتھ پر پلاسٹر چڑھایا گیا۔ محمود کو بہت تکلیف ہو رہی تھی۔ وہ بڑی مشکل سے اپنی چوٹوں کی تکلیف کو برداشت کر رہا تھا۔
 محمود کی امّی کو کسی نے خبر دی کہ محمود کا حادثہ ہوگیا ہے۔ ان کا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ انہوں نے فوراً فون کرکے محمود کے ابّا کو دفتر سے بلوایا۔ محمود کے ابّا بھی بہت پریشانی کے عالم میں گھر آئے۔
 محمود کی سائیکل بالکل ٹوٹ پھوٹ گئی تھی لیکن گھر والوں کو محمود کی بڑی فکر تھی۔ آخر خدا خدا کرکے محمود اسپتال سے آیا۔ اس کی حالت دیکھ کر اس کی امّی رونے لگی۔ لوگوں نے انہیں دلاسہ دیا۔ فضل صاحب کو پتہ چلا تو وہ بھی دوڑے دوڑے آئے اور محمود کی خیریت پوچھنے لگے۔ محمود بہت شرمندہ تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر وہ فضل انکل کی بات مان لیتا تو کبھی حادثہ نہ ہوتا نہ ہی اسے تکلیف اٹھانی پڑتی نہ ہی گھر والے پریشان ہوتے۔ اسے پتہ چل گیا تھا کہ جو بڑوں کی بات نہیں مانتے وہ ہمیشہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ تیز رفتاری حادثے کا سبب بنتی ہے اور غرور کا سر نیچا ہوتا ہے۔ محمود کے ابّا بھی یہی سوچ رہے تھے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK