آج کل کا کثیر الاستعمال لفظ ’’امیونٹی، جانئے کیا ہے یہ؟

Updated: May 16, 2020, 5:43 AM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

کورونا وائرس (کووڈ۔۱۹) کے دنیا بھر میں پھیل جانے کے بعد آپ نے بہت سے نئے الفاظ سنے ہوں گے جن کے بارے میں آپ کو وقتاً وقتاً بتایا جاتا رہا ہے۔ اس دوران سب سے زیادہ جو لفظ استعمال ہوا، وہ ’’امیونٹی‘‘ ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے لڑنے کیلئے جب تک کوئی ویکسین تیار نہیں کرلی جاتی تب تک انسان کی امیونٹی ہی اس کی حفاظت کرے گی۔ جس شخص کی امیونٹی جتنی مضبوط ہوگی، وہ اتنی تیزی سے اس وائرس سے لڑے گا۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کورونا وائرس (کووڈ۔۱۹) کے دنیا بھر میں پھیل جانے کے بعد آپ نے بہت سے نئے الفاظ سنے ہوں گے جن کے بارے میں آپ کو وقتاً وقتاً بتایا جاتا رہا ہے۔ اس دوران سب سے زیادہ جو لفظ استعمال ہوا، وہ ’’امیونٹی‘‘ ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے لڑنے کیلئے جب تک کوئی ویکسین تیار نہیں کرلی جاتی تب تک انسان کی امیونٹی ہی اس کی حفاظت کرے گی۔ جس شخص کی امیونٹی جتنی مضبوط ہوگی، وہ اتنی تیزی سے اس وائرس سے لڑے گا (اگر وہ اس وائرس کا شکار ہوجاتا ہے تو)۔ اس لئے اس دوران ایسے کئی مضامین بھی شائع ہوئے جن میں بتایا گیا تھا کہ انسان کو اپنی امیونٹی کیسے بڑھانی چاہئے۔
 سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ امیونٹی کیا ہے؟ اور ایک طالب علم کی زندگی میں اس کی کیا اہمیت ہے؟ طلبہ کی امیونٹی مستحکم کیوں ہونی چاہئے؟
’’امیونٹی‘‘ کیا ہے؟
 امیونٹی کو ’’مناعت‘‘ کہتے ہیں ۔ دراصل یہ جاندار اجسام میں پائی جانے والی ایک قوت مدافعت ہوتی ہے جو امراض کے خلاف بچاؤ یا دفاع کا کام انجام دیتی ہے، اسی وجہ سے اس کیلئے بعض اوقات قوت مدافعت کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ واضح ہوکہ طب و حکمت میں امیونٹی کیلئے مناعت کا لفظ ہی استعمال ہوتا ہے۔ مناعت سے مراد جانداروں کے جسم میں پایا جانے والا ایک ایسا نظام جو امراض کے خلاف جاندار کے جسم میں مدافعت پیدا کرے یا بیکٹیریا اور وائرس کو ان کے جسم میں داخلے کی مناعت کرے۔ 
طلبہ کی امیونٹی کیوں مستحکم ہونی چاہئے؟
 آپ سب جانتے ہیں کہ کورونا وائرس کے پھیلتےہی سب سےپہلے تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا۔ دنیا کی تمام حکومتوں نے اپنے طلبہ کی صحت کو سب سے اہم خیال کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کو مکمل طور پر بند کردیا، حتیٰ کہ امتحانات تک کو منسوخ کردیا گیا۔ سبھی اس بات سے واقف ہیں کہ طلبہ کسی بھی ملک اور قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اس لئے ان کی صحت سب سے زیادہ ضروری ہوتی ہے۔ چھوٹی عمر کے طلبہ کا مدافعتی نظام زیادہ مستحکم نہیں ہوتا اس لئے اس وائرس کے ڈر سے اسکولوں کو بند کردینے کا فیصلہ دانشمندانہ تھا۔ تاہم، بڑی عمر کے طلبہ کا مدافعتی نظام، چھوٹی عمر کے طلبہ کی نسبت بہتر ہوتا ہے لیکن ایسا ضروری نہیں ہے کہ ہر طالب علم کی امیونٹی مستحکم ہو۔ چونکہ طلبہ صبح سے لے کر رات تک مختلف نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں مشغول رہتے ہیں اس لئے ان کا اپنی صحت کی جانب توجہ دینا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔ اگر وہ وقفے وقفے سے طاقت والی غذائیں نہ کھائیں تو جلد ہی ان کی توانائی ختم ہوجائے گی اور وہ تھکن محسوس کرنے لگیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ بیمار بھی پڑ جائیں اس لئے طبی ماہرین کہتے ہیں کہ والدین کو اپنے بچوں کی صحت کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ مقوی غذاؤں کو ان کی خوراک کا حصہ بنانا چاہئے تاکہ ان کا مدافعتی نظام مستحکم رہے اور وہ اپنے روزمرہ کے کام مکمل کرتے رہیں ۔ اگر انہیں صحت بخش غذائیں کھانے کی عادت ہوگی تو وہ مستقبل میں بھی ایسی ہی غذائیں کھائیں گے۔
مدافعتی نظام کورونا وائرس کا کس طرح مقابلہ کرتا ہے؟
 کوئی بھی بیکٹیریا یا وائرس جب ہم پر حملہ کرتا ہے تو ہو تیزی سے بڑھنے لگتا ہے۔ اسی طرح کورونا وائرس بھی حملہ آور ہونے کے بعد تیزی سے جسم میں پھیلنے لگتا ہے مگر کچھ ہی منٹوں بعد جسم کا مدافعتی نظام قدرتی طور پر مداخلت کرتا ہے۔ ایسے میں خون کے سفید ذرات فعال ہو جاتے ہیں ۔ یہ حملہ آور وائرس کے خلاف مزاحمت شروع کرتے ہیں ۔اس عمل میں انہیں متعدد اقسام کی پلازما پروٹین کا تعاون حاصل رہتا ہے۔ زیادہ تر وائرس انسان کے مدافعتی نظام کے آگے مات کھا جاتے ہیں ۔ یہ عمل انتہائی تیزی سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اس دوران انسانی جسم کو معمولی سے اشارے ملتے ہیں ، یعنی سردی یا بخار کی صورت میں ۔ جس کا مدافعتی نظام ان وائرس کے آگے ہار جاتا ہے، وہ بیمار پڑ جاتا ہے۔
امیونٹی کیسے بڑھائی جائے؟
  بعض غذائیں ایسی ہیں جو جسم کے قدرتی دفاعی نظام کو مضبوط بنا کر آپ کو کئی طرح کے امراض سے بچا سکتی ہیں اور قوی امید ہے کہ اس سے جسم میں کورونا وائرس سے لڑنے کے خلاف مزاحمت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ امنیاتی نظام ہمہ وقت کئی امراض اور بیماریوں سے مسلسل لڑتا رہتا ہے۔ اسی مناسبت سے عام دستیاب غذائیں آپ کو طویل عرصے تک تندرست رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں ۔
 اپنی غذاؤں میں ان چیزوں کو ضرور شامل کریں : سرخ شملہ مرچیں ،بروکولی،کھٹے رس دار پھل، جیسے مالٹا، موسمبی، گریپ فروٹ اور لیموں وغیرہ کا رس جس کے پینے سے بدن میں وٹامن سی کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور امنیاتی نظام مضبوط ہوتا ہے،لہسن،ادرک،پالک، ہری سبزیاں ،ہلدی،دہی اور سبز چائے۔ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزہ ہماری قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے۔علاوہ ازیں ، نیندپوری کریں ، پروٹین والی غذائیں کھائیں ، رات کا کھانا ضرور کھائیں ، ذہنی دبائو کا شکار نہ رہیں اور ہلکی پھلکی ورزش کریں ۔
 اِن چیزوں سے پرہیز کریں : نمک کا استعمال کم کریں ۔ چکنائی والی غذائیں کم سے کم کھانے کی کوشش کریں ۔ واضح ہو کہ شکر کا زیادہ استعمال امیونٹی کیلئے نقصاندہ ثابت ہوتا ہے۔علاوہ ازیں سوڈا اورپروسیسڈ فوڈ بھی مدافعتی نظام کو گھٹاتے ہیں ۔ 
وٹامنز ضروری ہیں 
 سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کووڈ۔۱۹؍ کے خلاف عام طور پر جتنے بھی احتیاطی اقدامات کئے جاتے ہیں ، وہ سب اہم تو ہیں ، لیکن یہ بھی اہم ہے کہ ہم اپنی خوراک میں بہت ضروری غذائی مادوں کی موجودگی پر بھی پورا دھیان دیں کیونکہ مدافعتی نظام کیلئے ناگزیر ہیں ۔ موجودہ حالات میں وٹامن سی، وٹامن ڈی اور مائیکرو نوعیت کے دیگر غذائی مادوں ، مثلاً زنک، اور فولاد وغیرہ کا استعمال اور بھی ضروری ہو چکا ہے۔ اس لئے کہ کسی بھی انسان کے جسم میں غذائی مادوں کی کمی اس پر کورونا وائرس سمیت کئی طرح کے وائرس اور بیکٹیریا کے حملوں کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK