EPAPER
Updated: August 03, 2026, 3:16 PM IST | Singapore
برطانوی میوزک بینڈ Massive Attack کے بانی ارکان رابرٹ ڈیل ناجا (Robert Del Naja) اور گرانٹ مارشل (Grant Marshall) پر سنگاپور میں تاحیات داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ۲۹؍ جولائی کو ہونے والے کنسرٹ کے دوران دونوں نے اسٹیج پر فلسطینی پرچم لہرایا اور ’’Free Palestine‘‘ کے نعرے لگوائے، جو سنگاپور کے Public Order Act اور غیر ملکی قومی علامات کی عوامی نمائش سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ حکومت نے کہا کہ یہ اقدام ملک میں ’’سماجی ہم آہنگی اور یکجہتی برقرار رکھنے‘‘ کے لیے ضروری تھا۔
سنگاپور نے برطانوی بینڈ Massive Attack کے بانی ارکان رابرٹ ڈیل ناجا اور گرانٹ مارشل پر ملک میں تاحیات داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ۲۹؍ جولائی کو سنگاپور میں منعقدہ بینڈ کے کنسرٹ کے بعد کیا گیا، جہاں دونوں فنکاروں نے اسٹیج پر فلسطینی پرچم لہرایا اور حاضرین کے ساتھ ’’Free Palestine‘‘ کے نعرے لگوائے۔ سنگاپور کی حکومت کے مطابق دونوں فنکاروں نے ملک کے Public Order Act اور ان قوانین کی خلاف ورزی کی جن کے تحت عوامی اجتماعات میں غیر ملکی قومی علامات یا ایسے سیاسی مظاہروں پر پابندی ہے جو عوامی نظم و نسق یا سماجی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتے ہوں۔
Massive Attack get BANNED from Singapore after waving a Palestinian flag on stage.
— Oli London (@OliLondonTV) August 1, 2026
Two members of the British band have been issued warnings by police and banned from re-entering Singapore after displaying the flag.
They are also banned from performing again in the country. pic.twitter.com/bnI440Ywtu
حکام نے ایک بیان میں کہا کہ ’’یہ کارروائی ملک میں سماجی ہم آہنگی اور یکجہتی برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھی۔‘‘ حکومت کا کہنا ہے کہ سنگاپور مختلف مذاہب، نسلوں اور قومیت پر مشتمل ایک کثیرالثقافتی معاشرہ ہے، اس لیے حکام عوامی تقریبات میں ایسے سیاسی یا بین الاقوامی تنازعات سے متعلق مظاہروں کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتے ہیں، جن سے معاشرتی کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا:لائبریری سے۱۵۰؍ سال قبل لی گئی کتاب لوٹائی گئی، جرمانہ ۱۸؍ لاکھ۷۰؍ہزار
دوسری جانب Massive Attack طویل عرصے سے فلسطینی عوام کی حمایت اور غزہ میں جنگ بندی کے مطالبات کے حوالے سے کھل کر آواز اٹھاتا رہا ہے۔ بینڈ کے ارکان ماضی میں بھی اپنے کنسرٹس اور عوامی بیانات میں فلسطین کے حق میں اظہارِ یکجہتی کرتے رہے ہیں۔ تاحیات پابندی کے بعد نہ تو بینڈ کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے آیا اور نہ ہی دونوں فنکاروں نے سنگاپور کے فیصلے پر کوئی عوامی بیان جاری کیا۔ یہ اقدام ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ فنکاروں کے سیاسی اظہارِ رائے، عوامی اجتماعات میں احتجاج اور مختلف ممالک کے عوامی نظم و ضبط سے متعلق قوانین کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔