اندھوں کی قسمیں

Updated: January 15, 2022, 1:19 PM IST | Aadil Aseer Dalhvi | Mumbai

بیربل، اکبر بادشاہ کو اندھوں کی اقسام کی ایک فہرست تیار کرکے دیتا ہے جسے دیکھ کر سب حیران رہ جاتے ہیں۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ایک بار اکبر بادشاہ نے ناراض ہو کر بیربل کو اندھا کہہ دیا۔ بیربل نے کہا ’’حضور جب آپ مجھے اندھا کہہ ہی رہے ہیں تو یہ بھی بتا دیں کہ خادم کا تعلق اندھوں کی کون سی قسم سے ہے؟‘‘ اکبر نے حیران ہو کر پوچھا ’’کیا اندھوں کی بھی کئی قسمیں ہوتی ہیں؟ ذرا ہمیں ان کے نام بتاؤ پھر ہم تمہیں بتائیں گے کہ تمہارا تعلق اندھوں کی کون سی قسم سے ہے۔‘‘ بیربل نے جواب دیا ’’مہابلی! آپ جانتے ہیں کہ بعض لوگ پیدائش اندھے ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں کے آنکھیں تو ہوتی ہیں مگر وہ دیکھ نہیں سکتے کہ اُن کے اطراف میں کیا ہو رہا ہے۔ کچھ لوگوں کو دولت بھی اندھا بنا دیتی ہے۔ کچھ لوگوں کے جسم کے بعض اعضاء ہی اندھے ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بہت سی قسمیں ہیں جو اس وقت مجھے یاد نہیں آرہی ہیں۔ اگر آپ کا حکم ہو تو خادم ان میں سے بعض اندھے آپ کی خدمت میں پیش کرسکتا ہے۔‘‘
 اکبر نے بیربل کو حکم دیا کہ یہ سب اندھے ہمیں دکھائے جائیں۔ بادشاہ کا حکم سن کر بیربل نے کچھ دن کی مہلت مانگی اور اجازت لے کر دربار سے چلے گئے۔ بعدازاں ایک دن بازار میں چٹائی بچھا کر اور قلم دوات کاغذ لے کر کچھ لکھنے کے لئے بیٹھ گئے۔ اب جو بھی اُن کا جاننے والا اُدھر سے گزرتا حیران ہو کر پوچھتا کہ کیا کر رہے ہیں۔ بیربل خاموش رہتے لیکن اُس کا نام ضرور لکھ لیتے۔ شام تک انہوں نے یہی کیا۔ دوسرے دن بیربل نے حلیہ بدل لیا۔ نہایت پھٹے پرانے کپڑے پہن لئے اور گھر سے نکل گئے۔ وہ لوگ جو اُن کو جانتے تھے یہ سمجھے کہ بیربل بادشاہ کی نظر سے گر گئے ہیں جس کی وجہ سے اُن کی یہ حالت ہوگئی ہے۔ اُن میں سے کچھ لوگ جو اُن سے بہت حسد رکھتے تھے خوش ہوئے بعض جو لوگ اُن کے بہت قریبی تھے اُن سے نظر بچا کر نکل گئے۔ بیربل نے ایسی حالت میں اپنے خاص خاص دوستوں سے بات کرنے کی کوشش کی تو وہ بہانے بنانے لگے۔ بعض نے اُن کو پہچاننے سے ہی انکار کر دیا۔ بیربل نے اُن لوگوں کے نام بھی اپنی کاپی میں درج کر لئے۔ دوسرے دن بیربل دربار میں پہنچے اور بولے ’’حضور! آج میں کئی قسم کے اندھے آپ کے سامنے پیش کرنے والا ہوں۔ آپ ملاحظہ فرمائیں۔‘‘ پھر بیربل نے بادشاہ کو اُن لوگوں کے نام بتائے جو انہوں نے فہرست میں لکھ رکھے تھے۔ حکم شاہی کے مطابق اُن لوگوں کو بلایا گیا۔ بادشاہ اُن کو دیکھ کر بہت حیران ہوا کیونکہ وہ سب آنکھ والے تھے۔ بادشاہ نے پوچھا ’’بیربل! یہ کیا ماجرا ہے۔ تم ان آنکھوں والوں کو اندھا کیسے کہہ سکتے ہو؟‘‘ بیربل نے جواب دیا: ’’مہابلی....! یہ لوگ آنکھیں تو رکھتے ہیں مگر ان کو یہ نہیں معلوم کہ آنکھوں کا مصرف کیا ہے۔ کل کی ہی بات ہے مَیں بازار میں بیٹھا ہوا لکھ رہا تھا۔ انہوں نے مجھ سے آکر پوچھا کہ بھائی آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ خود غور فرمائیں۔ اگر ان کے پاس آنکھیں تھیں تو انہیں یہ کیسے نظر نہیں آیا کہ مَیں لکھ رہا ہوں۔‘‘ بعدازاں بیربل نے دوسرے کچھ لوگوں کو پیش کرکے کہا کہ ’’یہ لوگ صرف روپیہ پیسہ ہی دیکھتے ہیں اس کے علاوہ کوئی چیز ان کو نظر نہیں آتی کیونکہ کل جب مَیں بازار میں پھٹے پرانے کپڑے پہن کر نکلا تو انہوں نے مجھے پہچاننے سے صاف انکار کر دیا جبکہ یہ مجھے اچھی طرح جانتے تھے۔‘‘ بیربل نے کہا ’’حضور...! ان کے علاوہ ٹانگوں کے اندھے پھر کسی دن آپ کے سامنے پیش کروں گا۔‘‘ چند روز بعد کا واقعہ ہے کہ حسب ِ معمول اکبر کا دربار لگا ہوا تھا۔ بیربل نے اپنے پاس میں بیٹھے ہوئے درباری کے کان میں کہا ’’محل میں آگ لگ گئی ہے۔‘‘ یہی بات سب نے ایک دوسرے سے کہہ دی۔ فوراً ہی یہ بات سارے دربار میں پھیل گئی جس کی وجہ سے دربار میں بھگدڑ مچ گئی۔ سب ایک دوسرے پر گر کر بھاگنے لگے۔ تھوڑی ہی دیر میں دربار میں سناٹا ہوگیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ محل میں آگ نہیں لگی تھی صرف بیربل نے افواہ اڑائی تھی۔ اب تو سب ناراض ہونے لگے۔ بادشاہ بھی ناراض ہوا کہ ’’بیربل یہ کیا حرکت تھی؟ تم نے ہمارے دربار میں ابتری پھیلا دی۔‘‘ بیربل نے کہا ’’حضور! مَیں تو یہ چاہتا تھا کہ آپ ٹانگوں کے اندھے بھی ملاحظہ فرمالیں۔ دیکھئے کس کے پیر میں کس کا جوتا ہے۔ کون ننگے پیر ہے۔ اب جو دیکھا تو ہر ایک نے جلدی اور گھبراہٹ میں ایک دوسرے کا جوتا پہن رکھا تھا۔ اکبر نے جو یہ دیکھا تو اس کو ہنسی آگئی اور دیگر لوگ جو ناراض ہو رہے تھے وہ بھی خاموش ہوگئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK