EPAPER
Updated: July 16, 2026, 5:15 PM IST | Kyiv
فیڈوروف کی برطرفی کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ انہوں نے بدھ کی رات دیر گئے اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ”یوکرینی عوام کی خدمت کرنا میرے لئے بڑے اعزاز کی بات تھی۔“ مظاہرین نے بڑے پیمانے پر ان کی برطرفی کو فیڈوروف اور فوجی کمانڈر ان چیف اولیکسینڈر سیرسکی کے درمیان اندرونی لڑائی کا نتیجہ قرار دیا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے حکومت میں وسیع تبدیلیاں متعارف کراتے ہوئے عوامی سطح پر مقبول لیڈر اور وزیرِ دفاع میخائیلو فیڈوروف کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جس کے بعد جمعرات کے دن کئی شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ دارالحکومت کیف سمیت مختلف شہروں میں کئی ہزار افراد مرکزی مقامات پر جمع ہوئے اور زیلنسکی کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین اس موقع پر قومی ترانہ گا رہے تھے اور یوکرین اور یورپی یونین (ای یو) کے پرچم لہراتے ہوئے ”شرم کرو“ اور ”فیڈوروف کو واپس لاؤ“ کے نعرے لگا رہے تھے۔
Ukrainians rally against Zelenskyy`s firing of Fedorov across Ukraine
— GMan | GMan’s Chronicle (@FAB87F) July 16, 2026
Cardboard-sign protests against the dismissal of Defense Minister Mykhailo Fedorov broke out in Kyiv and at least 16 other cities on the morning of 16 July, timed to the parliament se… pic.twitter.com/Ca0wQsidRY
واضح رہے کہ فیڈوروف کو محض چھ ماہ قبل جنوری ۲۰۲۶ء میں وزیر دفاع مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے روس کے ساتھ جاری جنگ کے دوران یوکرینی فوج میں اصلاحات لانے کی کوششیں کیں اور جدت پسند کے طور پر مقبولیت حاصل کی۔ انہیں ایک ایسے وقت میں عہدے سے ہٹایا گیا ہے جب یوکرین نے حالیہ مہینوں میں اس تنازع میں اپنی سب سے مضبوط پوزیشن حاصل کی تھی۔ گزشتہ کچھ ماہ کے دوران یوکرین نے روس کی پیش قدمی کو سست کر دیا ہے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کے ذریعے روس کی تیل اور فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی حملے اور دھمکیوں کے جواب میں ایران کا بھی پلٹ وار
فیڈوروف کی برطرفی کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ انہوں نے بدھ کی رات دیر گئے اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ”یوکرینی عوام کی خدمت کرنا ان کیلئے بڑے اعزاز کی بات تھی۔“ مظاہرین نے بڑے پیمانے پر ان کی برطرفی کو فیڈوروف اور فوجی کمانڈر ان چیف اولیکسینڈر سیرسکی کے درمیان اندرونی لڑائی کا نتیجہ قرار دیا۔
فیڈوروف کا پس منظر
فیڈوروف کے پس منظر نے ان کی برطرفی کو خاص طور پر حیران کن بنا دیا ہے۔ وزیر دفاع کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے، انہوں نے ۲۰۱۹ء سے یوکرین کے وزیر برائے ڈجیٹل ٹرانسفارمیشن کے طور پر خدمات انجام دیں، اس دوران انہوں نے ’دیا‘ (Diia) جیسی انتہائی کامیاب اسٹیٹ سروسیز ایپ تیار کی اور یوکرین کے ڈرون آرمی پروگرام کو منظم کیا۔ انہوں نے اختراع، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے نائب وزیرِ اعظم کے طور پر بھی کام کیا۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: میونسپل اراضی پر قائم مندر، ہندو کمیونٹی سینٹر کی نیلامی پر تنازع
فیڈوروف پہلی بار ۲۰۱۲ء میں زیپوریشیا کے اسٹوڈنٹ میئر منتخب ہونے کے بعد عوامی توجہ کا مرکز بنے۔ بعد میں ۲۰۱۹ء میں زیلنسکی کی انتخابی فتح کے بعد سیاست میں آنے سے پہلے انہوں نے ڈجیٹل مارکیٹنگ کمپنی کی بنیاد رکھی۔ وزیرِ دفاع کے طور پر ان کا سات ماہ کا دورِ اقتدار اس وسیع تر رد و بدل کے حصے کے طور پر اچانک ختم ہوگیا۔ ان کے علاوہ، یوکرینی وزیرِ اعظم یولیا سوائریڈینکو کو بھی پارلیمنٹ نے ۲۵۸ ووٹوں سے برطرف کر دیا، جس سے یوکرینی قانون کے تحت پوری کابینہ کا استعفیٰ عمل میں آیا۔
زیلنسکی نے نافٹوگاز کے سی ای او کو وزیراعظم کے عہدے کیلئے نامزد کیا
سوائریڈینکو کی برطرفی کے بعد، زیلنسکی نے سرکاری توانائی کمپنی ’نافٹوگاز‘ (Naftogaz) کے سی ای او سرگئی کوریٹسکی کو وزیرِ اعظم کے عہدے کیلئے ورخووناراڈا (پارلیمنٹ) میں نامزد کیا ہے۔ پارلیمانی اسپیکر روسلان اسٹیفن چک نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ”مقررہ طریقۂ کار کے مطابق مستقبل قریب میں“ اس پر غور کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ملائیشیا میں مقیم کسی بھی اسرائیلی شہری کو ملک بدر کردیا جائے گا: وزیراعظم
زیلنسکی نے ہفتے کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ تازہ ترین سیاسی حکمتِ عملی کے تحت یوکرین کو نئی حکومت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس تبدیلی کو ملک کی تیاریوں اور طرزِ حکمرانی کو مضبوط بنانے کے مقصد سے تعبیر کیا تھا۔ جولائی ۲۰۲۵ء میں وزیرِ اعظم بننے والی سوائریڈینکو کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ انہیں امریکہ میں یوکرینی سفیر کا عہدہ دیا جاسکتا ہے۔ کوریٹسکی کی تقرری کیلئے پارلیمانی منظوری درکار ہے جس کے بعد ہی وہ باضابطہ طور پر اپنا عہدہ سنبھال سکیں گے اور نئی حکومت کی تشکیل کر سکیں گے۔