تاریخ شاہد ہے کہ مکہ میں بعض ابتدائی سامعین نے کیسا طومار باندھا تھا۔ مگر، ان میں وہ بھی تھے جو اسے خدا کا کلام سمجھ رہے تھے۔ ان کا دل کہہ رہا تھا کہ یہ کسی انسان کا کلام ہوہی نہیں سکتا۔
EPAPER
Updated: September 04, 2026, 3:47 PM IST | Dr. Akhtar Hussain Azmi | Mumbai
تاریخ شاہد ہے کہ مکہ میں بعض ابتدائی سامعین نے کیسا طومار باندھا تھا۔ مگر، ان میں وہ بھی تھے جو اسے خدا کا کلام سمجھ رہے تھے۔ ان کا دل کہہ رہا تھا کہ یہ کسی انسان کا کلام ہوہی نہیں سکتا۔
دعوت واصلاح کے عمل کے مؤثر اور پائیدار ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اُس منہج سے زیادہ سے زیادہ قریب اور ہم آہنگ ہو جسے رسولِ اکرم ؐ نے اختیار کیا۔ بقول امام مالکؒ: اس قوم کے آخری حصے کی اصلاح بھی اس وقت تک نہ ہو گی جب تک وہ اسی طریقے کو نہ اختیار کرے جس طریقے پر ابتدا میں اصلاح ہوئی تھی۔ بعثت نبوی کا ابتدائی دور ہو یا بعد کے ادوار، اللہ کے رسولؐ کے دعوتی منہج میں تذکیر بالقرآن کی خصوصیت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ آپ ؐ نے افراد کو دعوت دی یا قبائل کو، وفود کو تبلیغ کی یا شاہانِ وقت کو، آپؐ کی دعوتی گفتگو میں تلاوتِ قرآن کا التزام ہر جگہ دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ اللہ نے آپؐ کو مکی دور میں ہی اس بات کی ہدایت کی تھی:
’’اور اس (قرآن کی دعوت اور دلائل) کے ذریعے ان کے ساتھ بڑا جہاد کرو۔‘‘
گویا نظامِ باطل کو اگر چیلنج کرنا ہے تو مکی دور میں بھی جہاد کرنا ہو گا اور یہ جہاد قرآن کے ابلاغ کے ذریعے ہو گا۔ عرب کی اکھڑ اور جھگڑالو قوم کو ڈرانا بھی قرآن سنائے بغیر ممکن نہ تھا۔ فرمایا:
’’سو بیشک ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں ہی آسان کر دیا ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا سکیں اور اس کے ذریعہ جھگڑالو قوم کو ڈر سنا سکیں۔‘‘(مریم:۹۷)
تمام انسانیت کو خبردار کرنے کے لئے بھی یہی مؤثر ذریعہ ہے:’’ یہ (قرآن) ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لئے، تاکہ ان کو اس کے ذریعے سے خبردار کر دیا جائے۔‘‘ (ابراہیم :۵۲)
قرآن کی تاثیر ایک مسلّمہ حقیقت ہے۔ تلاوت کی تاثیر سے عرب کی اکھڑ اور جھگڑالو قوم نے اسلام قبول کیا اور جنھوں نے قبول نہیں کیا انھوں نے بھی اس کی تاثیر کا کھلے لفظوں اعتراف کیا۔ دوران دعوت قرآن سنانا نہ صرف سنتِ نبویؐ ہے بلکہ صحابہؓ کا عمل بھی ہے۔
تاثیر قرآن
قرآن کافروں کو انفرادی طور پر بھی اور ان کے مجمعوں کے اندر بھی سنایا گیا اور ان میں سے ہر ایک نے اس کی عظمت اور تاثیر کا اعتراف کیا۔
یہ بھی پڑھئے:اپنے خیالات کو Reels کی طرح آگے بڑھانے والے نہ بنیں
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ قریش کا سردار ولید بن مغیرہ نبی ؐ کے پاس آیا۔ آپؐ نے اسے قرآن پڑھ کر سنایا ۔قرآن سن کر وہ نرم پڑ گیا۔ ابوجہل کو خبر پہنچی تو ولید کے پاس پہنچ کر اس نے کہا:’’اے چچا جان !آپ کی قوم آپ کے لئے مال جمع کرنا چاہتی ہے۔‘‘ولید نے پوچھا ’’کس لئے؟‘‘ ابو جہل نے کہا:’’آپ کو دینے کے لئے ، کیونکہ آپ محمد ؐ کے پاس اس لئے گئے تھے تا کہ آپ کو ان سے کچھ مل جائے۔‘‘ ولید نے کہا: ’’قریش کو خوب معلوم ہے کہ میں ان میں سے سب سے زیادہ مال دار ہوں (مجھے محمدؐ سے مال لینے کی ضرورت نہیں )۔ ابو جہل نے کہا:’’تو پھر آپ محمد ؐ کے بارے میں ایسی بات کہیں جس سے قوم کو یقین ہو جائے کہ آپ محمد ؐ کے منکر ہیں۔‘‘ ولید نے کہا: ’’میں کیا کہوں ؟اللہ کی قسم ! تم میں سے کوئی آدمی مجھ سے زیادہ اشعار اور قصیدوں کا جاننے والا نہیں ہے۔ اللہ کی قسم !محمد ؐ جو کچھ کہتے ہیں، وہ ان میں سے کسی چیز کے مشابہ نہیں ہے۔ اللہ کی قسم !وہ جو کچھ کہتے ہیں اس میں بڑی حلاوت اور کشش ہے اور ان کا کہا ہوا ایسا تناور درخت ہے جس کے اوپر کا حصہ خوب پھل دیتا ہے اور نیچے کا حصہ خوب سرسبز ہے۔ یہ کلام ہمیشہ اونچا رہنے والا ہے۔ کوئی کلام اس سے برتر نہیں ۔ ایسا کلام جو اپنے سے نیچے والے کلاموں کو تو ڑ کر رکھ دیتا ہے۔‘‘
ابوجہل نے کہا کہ آپ کی قوم اس وقت تک آپ سے راضی نہ ہو گی جب تک آپ محمد ؐ کے خلاف کچھ کہیں گے نہیں۔ولید نے کہا :’’اچھا اس بارے میں مجھے کچھ سوچنے دو۔‘‘کچھ دیر سوچ کر ولید نے کہا: ’’محمد کا کلام جادو ہے جسے وہ دوسروں سے سیکھ کر بیان کرتا ہے۔‘‘(بیہقی، البدایہ ، ج۳، ص۶۰؛ تفسیر ابن کثیر، ج ۴،ص۴۴۳)
حضرت جابر ؓ بن عبداللہ اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایات کے مطابق ایک دن قریش نے مشورہ کیا کہ محمد ؐ کو سمجھانے کے لئے ایسے آدمی کا انتخاب کیا جائے جو جادو کا جاننے والا، کاہن اور سب سے بڑا شاعر ہو۔ عتبہ بن ربیعہ کے نام پر ان کا اتفاق ہوا کہ اس سے بہتر کوئی آدمی نہیں ۔ عتبہ بن ربیعہ قریش کے نمائندے کی حیثیت سے حضوؐر کے پاس آیا اور کہنے لگا:
’’اے بھتیجے :میں سمجھتا ہوں کہ آپ ہم سب سے بہترین خاندان والے اور سب سے اونچے مرتبے والے ہیں لیکن آپ نے ہمیں ایک ایسی مصیبت میں ڈال دیا ہے کہ کسی نے اپنی قوم کو ایسی مصیبت میں مبتلا نہ کیا ہو گا ۔ اس کی وجہ سے قوم کا اتحاد پارہ پارہ ہو گیا ہے۔ اگر اس سے آپ کا مقصد مال جمع کرنا ہے تو آپ ؐ کی قوم آپ کے لئے اتنا مال جمع کر دے گی کہ آپ ہم سب سے زیادہ مال دار ہو جائیں۔ اگر آپ باد شاہ بننا چاہتے ہیں تو ہم سب آپ کو اپنا باد شاہ بنا لیتے ہیں۔ اگر آپ کو کسی عورت کی خواہش ہو تو قریش کی جس عورت سے چاہیں ہم آپ سے شادی کرا دیتے ہیں۔ اگریہ سب جنّاتی اثرات سے ہے تو قوم آپ کا علاج اپنے خرچے پر کروانے کے لئے تیار ہے۔ بشرطیکہ آپ اس دعوت سے باز آ جائیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:آپ ؐ کا ازواجِ مطہرات کیساتھ سلوک : چند مثالیں پڑھئےاور اپنا محاسبہ کیجئے
عتبہ کی بات سن کر رسولِ اکرمؐ نے پوچھا: ’’اے ابو الولید تم نے اپنی بات مکمل کر لی؟‘‘ عتبہ نے جواب دیا ’’جی ہاں۔‘‘ اب حضور ؐ نے سورۂ حم السجدہ پڑھنا شروع کی۔ حتیٰ کہ آپ اس آیت پر پہنچے :
’’پھر اگر یہ منہ پھیرتے ہیں تو آپ کہہ دیں کہ میں تمہیں ایسی چنگھاڑ کے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسی چنگھاڑ (کا عذاب) عادوثمود پر آیا۔‘‘ (الفصلت:۱۳)
یہ سن کر عتبہ اتنا گھبرایا کہ بے ساختہ اس نے آپؐ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر کہا:بس کریں۔ پھر عتبہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا لیکن ان آیات سے وہ اتنا مرعوب ہوچکا تھا کہ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ قریش کو کیا جواب دے۔ سرداران قریش نے اس کے اترے چہرے کو دیکھ کر دور سے ہی کہا: ’’عتبہ جس شان کے ساتھ گیا تھا، ا س کا چہرہ بتا رہا ہے کہ وہ اس شان کے ساتھ واپس نہیں آ رہا ہے۔‘‘ قریش کی مجلس میں پہنچ کر اس نے کہا: ’’میں نے اس سے تمام طریقوں سے بات کی اور پھر محمد ؐ نے میری بات کا ایسا جواب دیا جو جادو ہے، نہ شعر اور نہ کہانت۔ اس نے جو کلام سنایا اللہ کی قسم ! میرے کانوں نے ایسا کلام نہیں سنا ۔ اے قریش آج تم میری بات مان لو ، آئندہ چاہے نہ ماننا۔ اس آدمی کو اس کے حال پر چھوڑ دو، کیونکہ وہ تو اس کام کو چھوڑنے والا نہیں ہے۔ اگر وہ ان عربوں پر غالب آیا تو اُس کی برتری تمہاری برتری، اُس کی عزت تمہاری عزت ہوگی۔ اور اگر عربوں نے اسے دبا لیا تو تمہارے آپس میں لڑے بغیر تمہارا مقصد پورا ہو جائے گا۔‘‘
یہ سن کر قریش نے کہا:’’اے ابو الولید !لگتا ہے تم بھی بے دین ہو گئے ہو۔‘‘ (دلائل النبوہ، بیہقی، ص۷۵؛ مجمع الزوائد، ج ۶، ص۲۰، البدایہ، ج ۳، ص۶۲)
ان دو واقعات سے معلوم ہوا کہ ادبی وشعری ذوق رکھنے والے لوگ قرآن کی عظمت اور تاثیر کلام سے مرعوب تھے اور یہ بھی کہ کافروں کی بڑی سے بڑی بات کا مؤثر جواب وہی ہے جو آیاتِ قرآنی کے ذریعے دیا جائے۔ اسی طرح سیرت ابن ہشام میں بیان شدہ وہ واقعہ کہ ابوسفیان ، ابوجہل، اخنس بن شریق اور ابن وہب ثقفی تین رات تک مسلسل حضور ؐ کی تلاوتِ قرآن چھپ کر سنتے رہے اور جب ایک دوسرے کے سامنے آتے تو نہ سننے کا وعدہ کرتے لیکن اگلے دن پھر ایک ایک کر کے سننے پہنچ جاتے اور قرآن کی عظمت کا اعتراف کرتے۔ حضرت عمر ؓ نے چھپ کر حضور ؐ سے قرآن سنا اور اس سے مرعوب ہوئے۔
معلوم ہوا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بلند آواز سے تلاوت کر کے دوسروں کو سنانے کے مواقع پیدا کرتے تھے۔ اور یہ بھی کہ کافر قرآن کی تاثیر سے خوف زدہ تھے۔ قرآن نے ان کے اس خوف کو یوں بیان کیا ہے:
’’اور کافر لوگ کہتے ہیں: تم اِس قرآن کو مت سنا کرو اور اِس (کی قرات کے اوقات) میں شور و غل مچایا کرو تاکہ تم (اِن کے قرآن پڑھنے پر) غالب رہو۔‘‘ (الفصلت:۲۶)
یہ بھی پڑھئے:مواخاتِ مدینہ: ایثار اور خود کفالت کا حسین امتزاج
عظمت ِ قرآن کا اعتراف
اعلانیہ تبلیغ کے آغاز میں جب قریش نے زائرین حرم کے سامنے اپنا مشترکہ موقف طے کرنے کے لئے اجتماع کیا اور اس میں نبی اکرمؐ کے بارے میں آپ کے کاہن، شاعر، دیوانے اور جادوگر ہونے کی تجاویز پیش ہوئیں تو ان کے سردار ولید بن مغیرہ نے ایک ایک تجویز کے بودے پن کو واضح کیا اور قرآن کی عظمت کا یوں اعتراف کیا: ’’خدا کی قسم اس کلام میں بڑی حلاوت و شیرینی ہے۔ اس کی جڑ پائیدار اور شاخیں پھل دار ہیں۔ یہ پیغام غالب ہونے والا ہے، اسے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا اور یہ سب کو کچل کر رکھ دے گا۔‘‘ ( سیرۃ ابن ہشام، ص۲۳۳)
حضرت امیر معاویہ ؓ راوی ہیں کہ ان کے والد ابوسفیان اپنی بیوی ہندہ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھائے اپنے کھیت کی طرف چلے۔ میں بھی اپنی گدھی پر سوار ان دونوں کے آگے چل رہا تھا۔ میری نو عمری کا زمانہ تھا۔ اس دوران حضوؐر ہمارے پاس پہنچے ۔ میرے باپ نے مجھے کہا: ’’اے معاویہ ! تم سواری سے نیچے اتر جاؤ تا کہ محمد ؐ اس پر سوار ہو جائیں‘‘۔ چنانچہ میں اس سے اتر گیا اور حضوؐر اس پر سوار ہو گئے ۔ آپ کچھ دیر ہمارے ساتھ چلے اور پھر ہماری طرف توجہ کرتے ہوئے فرمایا:’’اے ابو سفیان بن حرب، اے ہند بنت عتبہ !اللہ کی قسم تم ضرور مرو گے اور پھر تمہیں زندہ کیا جائے گا۔ پھر نیکوکار جنت میں اور بد کار دوزخ میں جائیں گے اور میں تمہیںبالکل صحیح اور حق بات بتا رہا ہوں اور تم دونوں سب سے پہلے عذاب الٰہی سے ڈرائے گئے ہو۔‘‘ پھر حضوؐر نے سورہ الفصلت کی ابتدائی ۱۱؍آیات تلاوت فرمائیں۔ جب آپ اپنی بات سے فارغ ہوگئے تو سواری سے اُتر گئے اور میں اس پر سوار ہو گیا۔ میری ماں ہند نے میرے باپ سے کہا: ’’کیا اس جادو گر کیلئے تم نے میرے بیٹےکو اس کی سواری سے اتارا؟ ابو سفیان نے کہا: ’’نہیں! اللہ کی قسم وہ جادو گر اور جھوٹے نہیں ہیں۔‘‘ (طبرانی ، ابن عساکر، الہیثمی ج۴، ص۲۰، کنزالعمال ، ج ۷، ص۹۴)
کلام پاک کی چند آیات نے کس طرح قبیلے کے سردار کا دل پھیر دیا
قبیلہ دوس کے سردار طفیل بن عمرو مکہ گئے تو قریش کے چند آدمی ان سے ملے اور انہیں کہا کہ ہماری قوم کے محمدؐ نا می شخص سے کوئی بات نہ کرنا۔ وہ ایسا جادو اثر کلام رکھتا ہے کہ جس کے ذریعے اس نے باپ بیٹے، بھائی بھائی اور میاں بیوی کے درمیان جدائیاں ڈال دی ہیں۔ انہوں نے اتنا اصرار کیا کہ طفیل دوسی کے بقول : میں نے حضوؐر کے کلام سے بچنے کیلئے کانوں میں روئی ٹھونس لی اور آپ ؐ سے دور رہنے کی کوشش کی۔ ایک صبح جب حضوؐر خانہ کعبہ کے پاس کھڑے نماز پڑھ رہے تھے تو میں بھی آپؐ کے قریب کھڑا ہو گیا ۔ تمام تر احتیاط کے باوجود اللہ نے مجھے آپ ؐ کی تلاوت کے الفاظ سنا ہی دیئے ۔ مجھے وہ کلام بہت ہی بھلا محسوس ہوا۔ میں نے اپنے دل میں کہا: ’’میری ماں مجھے روئے !میں ایک قبیلے کا سردار ہوں، خود شاعر ہوں، اچھے بُرے کلام میں تمیز کر سکتا ہوں ، کیا حرج ہے کہ میں محمد ؐ کی بات سنوں ۔ دل لگتی بات ہو گی تو قبول کر لوں گا۔ کوئی زبر دستی تو میرے ساتھ کر نہیں سکتا۔ چنانچہ میں خدمت رسولؐ میں حاضر ہو گیا۔ اپنی رُوداد سنانے کے بعد عرض کیا:’’آپؐ اپنی دعوت میرے سامنے پیش کیجئے!‘‘ حضوؐر نے میرے سامنے اسلام کو پیش کیا اور قرآن سنایا ۔ اللہ کی قسم میں نے اس سے پہلے اس سے زیادہ عمدہ کلام اور انصاف والی بات نہیں سنی تھی، چنانچہ میں کلمۂ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو گیا ۔(دلائل النبوہ للبیہقی)