اپنے خیالات کو Reels کی طرح آگے بڑھانے والے نہ بنیں بلکہ حلم، بردباری، متانت اور سنجیدگی کے ساتھ ہر معاملے کو سمجھنے اور اس پر ردعمل ظاہر کرنے والے بنیں۔
EPAPER
Updated: September 04, 2026, 3:42 PM IST | Dr. Mujahid Nadvi | Mumbai
اپنے خیالات کو Reels کی طرح آگے بڑھانے والے نہ بنیں بلکہ حلم، بردباری، متانت اور سنجیدگی کے ساتھ ہر معاملے کو سمجھنے اور اس پر ردعمل ظاہر کرنے والے بنیں۔
علامہ اقبالؒ نے اہل نظر کو ایک معتدل، توازن والا نظریہ اپنانے کی ترغیب دیتے ہوئے یہ تنبیہ بھی کی تھی کہ’’جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا۔‘‘ اس لئے کہ انسان وہی بہتر ہے جو کسی بھی معاملے کے زاویے کو ہر طرح سے جانچے، پرکھے اور اس کے بعد ہی کوئی رائے قائم کرے، یا کوئی فیصلہ کرے۔ قرآن مجید میں حضرت داؤد علیہ السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ دو فریقین ان کے پاس آئے ۔ ان میں سے ایک نے کہا یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ۹۹؍ بھیڑیں ہیں اورمیرے پاس ایک بھیڑ ہے۔ یہ کہتا ہے کہ وہ ایک بھیڑ بھی مجھے دےدے۔ یہ سن کرحضرت داؤدؑ نے فرمایا: یہ سوال کرکے اس نے تجھ پر ظلم کیا۔ لیکن فوری طور پر حضرت داؤدؑ کو یہ احساس ہوا کہ یہ ان کی آزمائش تھی۔ اس لئے کہ انہوں نے ۹۹؍ بھیڑوں والے کا بیان سنے بغیر ہی فیصلہ کردیا تھا۔ حضرت داؤدؑ کے اس فیصلے کو مفسرین نے کسی سنگین خطا سے نہیں لیکن قضاء میں ترکِ اولیٰ یا جلدی کے طور پر بیان کیا ہے۔
اگر ہم نبی کریمؐ کی حیات طیبہ کا مطالعہ کریں تو ہمیں علم ہوتا ہے کہ قرآن کا یہ حلم وبردباری کا درس آپؐ کے ہر ہر عمل سے جھلکتا ہے۔ خاص کر ان مواقع پر جہاں پر آپؐ کے جاں نثار صحابہ کرامؓ کے جذبات برانگیختہ ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: دنیا لالچ دِلاتی ہے اور انسان آخرت کو بھولنے لگتا ہے
قرآن وحدیث کی تعلیمات دراصل امت کے ہر فرد کو یہ بات سکھلانے کیلئے ہے کہ انسان کو ہر صورت حال میں اپنا حلم، اپنی بردباری، اپنا وقار باقی رکھنا چاہئے اور ہر معاملے کو ایک متوازن نظریہ سے دیکھنا چاہئے۔ جوش اور جذبات عام طور پر انسان کی قوت فیصلہ کو غیر مؤثر بنادیتے ہیں بلکہ انسان صحیح اور غلط کی تمیز میں فرق تک کو بھول جاتا ہے۔ اس سلسلے میں بارہویں صدی کےعالم دین امام محمود الزمخشری نےاپنی کتاب ’ربیع الابرار ونصوص الاخبار ‘ میں ایک بڑا ہی دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے کہ اسلامی دنیا میں عدل وانصاف کے لئے مشہور قاضی شریحؒ ؒکے پاس ایک خاتون اپنے شوہر کی شکایت کےلئے آئی اور پھوٹ پھوٹ کررونے لگی۔ وہاں امام شعبیؒ موجود تھے۔ا نہوں نے کہا: میرا خیال ہے یہ عورت مظلوم ہے اس لئے کہ وہ بہت رورہی ہے۔ یہ سن کر قاضی شریحؒنے فرمایا: حضرت یوسفؑ کے بھائی بھی رات کے وقت روتے ہوئے اپنے والد(حضرت یعقوبؑ) کے پاس آئے تھے حالانکہ وہ ظالم تھے۔
قاضی شریحؒکایہ واقعہ ہمیں اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ ہمیں ایک آنکھ بند کرکے کوئی بھی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔ جبکہ ہمارا کام کا طریقہ اس معاملے میں بالکل الٹا ہے۔ ہم آج کی اس دنیا میں مشینوں کی مدد سے جس طرح ہر کام تیزی سے کرنے کے عادی ہوگئے ہیں، بالکل اسی طرح ہم اپنی بات چیت، اپنے معاملات اور اپنے فیصلوں میں بھی نہایت جلد باز واقع ہوگئے ہیں۔ حال ہی میں نیپال میں جو تباہ کن سیلاب آیا ہے، اس کے متعلق سوشل میڈیا پر تقریبا ہر دن پوسٹ شیئر ہوتی رہتی ہے۔ ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر تین دن قبل ایک صاحب کا ایک پیغام نظر سے گزرا۔ انہوں نے ویڈیو کے ذریعہ نیپال میں پھیلی تباہی کو بتلاتے ہوئے اوپر کیپشن میں لکھا تھا کہ نیپال میں جولائی ماہ کے اخیر میں مسلمانوں پر بہت ظلم ہوا تھا، مساجد شہید کی گئی تھیں، مسلمانوں کی دوکانیں، کھیت اورگھر جلادئیے گئے تھے۔ اور ایک ماہ کے اندر ہی ایک تباہ کن سیلاب وہاں پر آگیا۔ ان کی اس پوسٹ پر ایک صارف نے جس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں ایک مسلمان کا نام تھا، اس نے سوال کیا: اگر یہ عذاب نیپال پر مسلمانوں پر ظلم کرنے کی وجہ سے آیا ہے تو اس سے ہزار گنا زیادہ ظلم غزہ میں ہوا ہے، پھر اسرائیل پر ایسا کوئی عذاب کیوں نہیں آیا؟
یہاں پر جن صاحب نے وہ ویڈیو شیئر کیا تھا وہ یا تو کوئی حلم وبردباری کی بات کہتے جس سے ان کے موقف کی تائید ہوتی۔ یا راست طور پر اعتراف کرلیتے کہ آپ کی بات صحیح معلوم ہوتی ہے، مجھ سے judgmental error ہوگیا ہے۔ لیکن اس کے برخلاف انہوں نے اپنے معترض سے خوب لمبی چوڑی کی بحث کی جس میں کوئی ٹھوس دلیل اور کوئی عقلمند ی کی بات نہ تھی بلکہ صرف جذباتیت تھی۔ سب سے خطرناک بات اس بحث میں یہ محسوس ہوئی کہ اعتراض کرنے والا شخص نام سے تو مسلمان نظر آرہا تھا لیکن اس کے پیغامات سے دہریت اور الحاد کی بو آرہی تھی۔ ایسے لوگ جو دین سے دوری کےاس دہانے پر پہنچ گئے ہوں ان سے بالمشافہ یا سوشل میڈیا پر بات کرتے وقت نہایت احتیاط کی ضرورت ہے۔ لیکن مذہب کے نام پر جوشیلے اور جذباتی لوگوں کو دین سے قریب کرنا تو دور انہیں اسلام سے متنفر کردے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ڈیجیٹل تنہائی میں اللہ کی یاد ہی گناہوں سے بچاتی ہے!
اس نکتے کو سمجھنے کے لئے اگر ہم اسلامی احکامات پر غور کریں تو ان میں موقع محل کی مناسبت سے ایک خاص لچک محسوس ہوتی ہے۔ مثلاً نیک کام کی دعوت دینا، عام حالات میں شریعت ہم سے تقاضہ کرتی ہے کہ ہم خود بھی نیک عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ اب ہم اس میں نماز کو لیتے ہیں۔مثلا ً ایک شخص نماز کو جارہا ہے اور راستے میں ایک دوسرا شخص نظر آیا، تو اب نماز کو جاتے ہوئے شخص کو چاہئے کہ اس کو بھی نماز کے لئے آنے کی دعوت دے۔ لیکن اگر اس نے ایسا کہا اور اس دوسرے شخص نے کرخت لہجے میں منع کیا، اور محسوس ہوگیا کہ کسی وجہ سے وہ پہلے سے ہی غصہ میں ہے تو اب اسلام اس دعوت دینے والے کو اس سے مزید کچھ کہنے سے روک دے گا۔اس لئے کہ بسا اوقات غصہ میں انسان اچھےاور برے کی تمیز بھی بھول جاتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ دعوت دینے والا شخص بھی جذبات میں آجائے اور اس سے کہہ دے کہ نماز کو نہیں آرہے ، مسلمان نہیں ہو کیا؟ اور وہ شخص بھی بپھرنے کی وجہ سے کہہ بیٹھے: نہیں ہوں مسلمان۔ کہنے والے نے تو خود کا خسارہ کیا ہی، لیکن کہنے پر مجبورکرنے والے نے بھی نیکی برباد اور گناہ لازم والا معاملہ اپنالیا۔ اسی لئے نیکی کی دعوت ہو یا برائی سے روکنا یا ہماری زندگی کے عام دیگر معاملات ، حلم ،بردباری اور توقف وصبر کی طاقت آزمانا ہی بڑی چیز ہے۔ یہ کامیابی کی شاہ کلید ہیں۔
اللہ عزوجل نےقرآن مجید میں مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ بلا تحقیق کسی بھی قوم کے خلاف لڑنے پر، جنگ پر آمادہ نہ ہوجاؤ۔ اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ تم جیسا سمجھ رہے ہو، معاملہ اس سے مختلف ہو: ’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔‘‘
اب اگر ہم قرآن وحدیث کے ان سارے احکامات کو ایک لڑی میں پرو کردیکھیں تو یہ سارے احکامات ہر ایمان والے کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ معاملہ فہمی، حلم اور بردباری انسانی ذہن کے لازمی اجزاء ہیں۔ ان سے انسان کی شخصیت نہ صرف نکھرتی ہے ،سنورتی ہے بلکہ انہی کے ذریعہ انسان عدل وانصاف کرپاتا ہے اور دوسروں کے ساتھ ا س کے معاملات میں بہتری آتی ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو سوشل میڈیا اورہماری روزمرہ کی زندگی میں ہمیں دوسروں کاموقف سمجھنے اور اپنی رائے مناسب اور موزوں طریقہ پر ان کے سامنے رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ آج کی اس تیز رفتار زندگی میں ہم اپنے خیالات کو Reels کی طرح تیزرفتاری سے آگے بڑھانے والے نہ ہوں بلکہ متانت، شائستگی، حلم، بردباری، نرم دلی اور سنجیدگی کے ساتھ ہر معاملے کو سمجھنے اور اس پر ردعمل ظاہر کرنے والے بنیں۔