منّو میاں

Updated: March 20, 2021, 11:56 AM IST | irfana Tazeen Shabnam

یہ کہانی منّو میاں کی ہے۔ ایک مرتبہ وہ فقیر کو اپنے دروازے سے خالی ہاتھ بھیج دیتے ہیں۔ اس پر ان کی امّی انہیں کہتی ہے کہ ایسی حرکت پر اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتے ہیں۔ اب منّو میاں سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ کیا کیا جائے؟ جانیں آخر میں کیا ہوتا ہے:

mannu miyan
منو میاں

منّو میاں اسکول سے لوٹے تو گھر میں چار سو میٹھی میٹھی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ وہ بستہ رکھ کر باورچی خانےکی طرف چل دیئے۔ امّاں چولہے کے پاس کھڑی کچھ پکا رہی تھیں۔ منّو میاں نے امّاں کو سلام کیا ’’السلام علیکم امّاں جی!‘‘
 ’’وعلیکم السلام.... آؤ بیٹے! تم نے ہاتھ منہ دھو لئے؟‘‘ امّاں نے پوچھا تو انہیں خیال آیا۔ وہ جھٹ غسل خانے میں گھس گئے۔ ہاتھ منہ دھونے کے بعد وہ پھر باورچی خانے میں چلے آئے۔ ’’امّاں جی! بڑی میٹھی خوشبو ہے! کیا پک رہا ہے؟‘‘ انہوں نے معصومیت سے پوچھا۔ ’’گاجر کا حلوہ پک رہا ہے۔‘‘ امّاں نے بتایا۔
 منّو میاں بہت اچھے تھے۔ انہوں نے نَدیدوں کی طرح حلوہ ابھی کھانے کی ضد نہیں کی بلکہ چپ چاپ چلے آئے۔ بستے سے کتابیں اور کاپیاں نکالیں اور آگے پیچھے ہِل ہِل کر اسکول کا سبق یاد کرنے لگے۔
 ’’اللہ ایک ہے۔‘‘
 ’’ہمارے پیارے نبی محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘
 ’’جھوٹ بولنا گناہ ہے۔‘‘
 ’’چوری کرنا، لڑنا جھگڑنا اور کسی کو مصیبت میں دیکھ کر ہنسنا بُری بات ہے، اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتے ہیں۔‘‘
 ’’غریبوں کی مدد کرنا چاہئے۔‘‘
 اتنے میں بوڑھے فقیر کی آواز آئی ’’کچھ دے دو، بابا.... بہت بھوکا ہوں۔‘‘
 منّو میاں دوڑے دوڑے دروازے پر آئے۔ ’’ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں!‘‘ منّو میاں بولے۔
 ’’کیا بات ہے بیٹا؟‘‘ امّاں نے باورچی خانے میں سے پوچھا۔
 ’’بوڑھے فقیر تھے امّاں جی! ہم نے انہیں لوٹا دیا۔‘‘
 ’’یہ تو تم نے بُرا کیا، منّو میاں! اس سے اللہ میاں ناراض ہوجاتے ہیں۔‘‘
 ’’پھر کیا ہوگا امّاں جی!‘‘
 منّو میاں ڈر گئے.... وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بہت ڈرتے تھے۔
 ’’تم نے ہمیں کیوں نہیں بتایا....؟‘‘
 ’’ہم سے غلطی ہوگئی! امّاں جی! ہمیں معاف کر دیں۔‘‘
 ’’تم اللہ میاں سے معافی مانگو.... اور آئندہ کبھی ایسی غلطی مت کرنا۔‘‘
 منّو میاں نے سر ہلایا اور اللہ سے دعا کرنے لگے۔
 ’’اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دیں۔ ہم پھر کبھی ایسی غلطی نہیں کریں گے!‘‘
 جب رات آئی تو منّو میاں امّاں کے پہلو سے لگ گئے۔
 ’’امّاں جی! کوئی کہانی سنا دیجئے نا....‘‘ منّو میاں نے کہانی کی فرمائش کی۔
 ’’ہاں.... مگر تم وعدہ کرو کہ اس میں جو اچھی باتیں ہوں گی، ان پر ضرور عمل کرو گے۔ یہ نہیں کہ ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے اُڑا دو گے....‘‘
 ’’نہیں.... امّاں جی! ضرور عمل کروں گا۔‘‘ منّو میاں نے یقین کے ساتھ کہا تو امّاں نے کہنا شروع کیا:
 کسی ملک میں ایک بادشاہ رہا کرتا تھا۔ وہ بڑا گھمنڈی اور سخت طبیعت کا تھا۔ اس کا محل تمام آرام و آسائشوں سے آراستہ تھا۔ طرح طرح کے کھانے سجے رہتے تھے، جبکہ رعایا میں غریبی عام تھی۔ لوگ بھوکوں مر رہے تھے۔ ان لوگوں کے پاس نہ کھانے کے لئے کچھ تھا اور نہ پہننے کے لئے۔ سارے لوگ بادشاہ سے بدگمان تھے۔ کیونکہ وہ خود تو بڑے ٹھاٹ سے رہتا تھا۔ اُسے اپنی رعایا کی کوئی فکر نہ تھی۔ وہ اپنی دُنیا میں مگن تھا۔
 ایک رات اُس نے خواب دیکھا کہ وہ شکار کے لئے جا رہا ہے۔ اچانک جنگل میں بڑے زور کی آندھی آئی۔ بادشاہ پریشان ہوگیا۔ گھوڑا بدک کر بھاگ نکلا تھا۔ اس نے ایک درخت کو مضبوطی سے تھام لیا۔ کچھ دیر بعد آندھی رُکی تو آس پاس کوئی نہ تھا۔ نہ شکار کا سامان، نہ سپاہی، وہ بہت گھبرایا۔ وہ جنگل میں بھٹکنے لگا۔ بھوک اور پیاس سے بُرا حال ہونے لگا۔ کچھ دور چلنے پر اُسے کوئی سفید سفید سی چیز نظر آئی۔ پاس جاکر دیکھا تو کوئی بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ آہٹ پاکر انہوں نے آنکھیں کھولیں۔
 ’’بابا مَیں بہت بھوکا ہوں اور پیاس بھی لگی ہے۔ اس جنگل میں کچھ کھانے کو نہیں ہے۔ آپ میری کچھ مدد کریں۔‘‘
 ’’مَیں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔‘‘
 ’’آپ نہیں جانتے کہ مَیں کون ہوں؟‘‘ بادشاہ نے کہنا چاہا۔ بزرگ نے روک دیا اور کہنے لگے ’’مَیں سب کچھ جانتا ہوں۔ تم وہی بدبخت بادشاہ ہو جس کی رعایا بھوکوں مر رہی ہے اور تم خود خوب مزے میں رہتے ہو۔ تم تھوڑی دیر بھوک برداشت نہیں کرسکے جبکہ تمہاری رعایا کے بے شمار لوگ کئی کئی دن کے فاقے کرتے رہتے ہیں مگر تم انہیں پھوٹی کوڑی بھی نہیں دیتے۔ تمام خزانہ جو محل میں بند کر رکھا ہے یہ سب انہی لوگوں کا ہے مگر تم انہیں اس دولت سے محروم رکھ کر خود موج کر رہے ہو۔ قیامت کے دن یہ خزانہ تمہارے لئے دہکتی ہوئی آگ بن جائے گا، تب خدا تم پر کوئی رحم نہیں کرے گا، اب تم جاؤ! چاہے بھوکے مر جاؤ، مَیں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے پھر آنکھیں بند کر لیں۔
 بادشاہ حیران و پریشان جنگل میں بھٹکتا رہا۔ وہ یہی سوچ کر پریشان ہو رہا تھا کہ جنگل سے کس طرح نکلا جائے۔ بھوک سے الگ بُرا حال ہو رہا تھا۔ بزرگ کی کہی ہوئی باتیں اُسے خوف زدہ کر رہی تھیں۔ کہیں اس حال میں مر گیا تو قیامت کے دن اس دہکتی ہوئی آگ کو سوچ کر وہ بہت گھبرانے لگا۔ اسی عالم میں اُس کی آنکھ کھل گئی۔ یہ دیکھ کر اس نے سکون کا سانس لیا کہ اپنی خواب گاہ کے نرم نرم گدّوں پر سو رہا ہے۔ اس نے اُسی وقت اپنے گناہوں سے توبہ کی اور دوسرے دن خزانے کا منہ کھول دیا اور یہ حکم جاری کیا کہ جو جتنا چاہے لے جائے۔ بادشاہ کی اس تبدیلی پر سب حیران تھے اور خوش بھی۔ شام ہوتے ہوتے پورا خزانہ رعایا میں تقسیم ہوگیا۔ سب بادشاہ کو دعائیں دیتے ہوئے چلے گئے۔
 اتنا کہہ کر امّاں خاموش ہوگئیں۔
 منّو میاں نے تمام کہانی پوری توجہ سے سنی اور اسی کے متعلق سوچتے سوچتے سو گئے۔
 دوسرے دن منّو میاں نے اُسی بابا فقیر کو نکّڑ پر کھڑے دیکھا وہ تیز تیز قدموں سے فقیر کے پاس پہنچے، ان سے معافی مانگی۔ انہیں گھر کے دروازے پر لائے اور اپنے پیسوں کی ہنڈی کے سارے پیسے جو پورے تین روپے چار آنے تھے، لاکر فقیر کے ہاتھ پر رکھ دیئے۔ فقیر بابا منّو میاں کو دعائیں دیتا چلا گیا۔
 منّو میاں پنسلوں کا نیا بکس خریدنے کے لئے پیسے جمع کر رہے تھے، وہی پیسے فقیر کو دے کر اُنہیں محسوس ہوا جیسے انہوں نے ڈھیر ساری خوشیاں خرید لی ہیں۔ وہ بہت خوش تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK