نئی بیماریوں کی ویکسین بنانےمیں زیادہ وقت کیوں لگتا ہے؟

Updated: July 17, 2020, 7:27 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

ماضی میں ایسی کئی بیماریاں پھیل چکی ہیں جن کے سبب کروڑوں لوگوں کی اموات ہوگئی تھیں ۔ اُس دور میں دنیا تکنیکی اعتبار سے اتنی مستحکم نہیں تھی کہ ان بیماریوں سے لڑنے کیلئے سائنسداں اور طبی ماہرین فوری طور پر کوئی دوا یا ویکسین تیار کرپاتے۔ اس لئے انہیں کسی بھی بیماری کا علاج تلاش کرنے یا دوا بنانے میں برسوں لگ جاتے تھے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ماضی میں ایسی کئی بیماریاں پھیل چکی ہیں جن کے سبب کروڑوں لوگوں کی اموات ہوگئی تھیں ۔ اُس دور میں دنیا تکنیکی اعتبار سے اتنی مستحکم نہیں تھی کہ ان بیماریوں سے لڑنے کیلئے سائنسداں اور طبی ماہرین فوری طور پر کوئی دوا یا ویکسین تیار کرپاتے۔ اس لئے انہیں کسی بھی بیماری کا علاج تلاش کرنے یا دوا بنانے میں برسوں لگ جاتے تھے۔ لیکن جیسے جیسے دنیا ترقی کرتی گئی بیشتر بیماریوں کا کامیاب علاج تلاش کرلیا گیا۔ غور کریں تو احساس ہوگا کہ آج دنیا میں ایسی بیماریوں کی تعداد بہت کم ہے جن کا علاج ہمارے پاس نہیں ہے۔ کورونا وائرس (کووڈ۔۱۹) کے موجودہ بحران میں آپ نے ایک مرتبہ توضرور یہ سوچا ہوگا کہ آخر جب تکنیکی اعتبار سے ہم اتنے مستحکم ہیں تو کورونا وائرس کی ویکسین یا دوا کرنے میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے؟ آج ۲۱؍ ویں صدی میں جب تکنالوجی کا بول بالا ہے اور دنیا کے بہترین دماغ اس بیماری کی ویکسین تیار کرنے میں لگے ہیں تو اب تک کیا وجہ ہے کہ ہمیں کامیابی نہیں ملی ہے؟ ان سوالوں کے جواب جاننے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ویکسین اور دوا میں کیا فرق ہوتا ہے؟ 
ویکسین اور دوا میں فرق ہے
 جی ہاں ! ویکسین اور دوا ، دو مختلف چیزیں ہیں۔ ویکسین بیماری سے محفوظ رکھتی ہے جبکہ بیماری ہو جانے کی صورت میں دوا کے ذریعے اس کا علاج کیا جاتا ہے۔ تقریباً۵؍ تا ۶؍ سال کی عمر تک کے بچوں کو پولیو کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے تاکہ ان پر پولیو کا حملہ نہ ہو۔ اسی طرح انہیں بی سی جی کا ٹیکہ بھی لگایا جاتا ہے جس سے ٹی بی کی بیماری سے محفوظ رہنے میں مدد ملتی ہے۔ خیال رہے کہ ویکسین انسان کے جسم میں برسوں تک رہتی ہے اور انہیں بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔لیکن دوا ایک مخصوص مدت تک کھائی جاتی ہے تاکہ ہمارے نظام سے بیکٹیریا اور وائرس کو ختم کیا جاسکے۔ ویکسین قوت مدافعت کو مستحکم کرتی ہے جس سے ہمارے جسم میں داخل ہونے والا وائرس یا بیکٹیریا ایک مخصوص وقت میں ختم ہوجاتا ہے۔ویکسین خود جراثیم کے خلاف اثرانداز نہیں ہوتی بلکہ جسم کے مدافعتی نظام کو جراثیم کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔ وہ اس طرح کہ عام طور پر جب جسم پر کسی وائرس کا حملہ ہو جائے تو جسم اس کے خلاف حرکت میں آجاتا ہے، لیکن اس عمل میں اتنی دیر لگتی ہے کہ وائرس کو جسم کو شدید بیمار کردینے کا موقع مل جاتا ہے۔ اور پھر انسان کی موت ہوجاتی ہے۔
ویکسین کیا ہوتی ہے؟
 ویکسین میں جراثیم کو غیر فعال کر کے، یا ان کے جسم کی مخصوص پروٹینز لے کر صحت مند انسان کے جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔ جسم اسے خود پر حملہ سمجھ کر ویکسین کے خلاف دفاعی نظام کو متحرک کر دیتا ہے۔ اگر مستقبل میں کبھی مذکورہ بیماری پیدا کرنے والے جراثیم دھاوا بولیں تو جسم اس کیلئے پہلے سے تیار ہوتا ہے، اور جلد از جلد اس کا خاتمہ کر دیتا ہے۔اس لئے ویکسین تیار کرنے میں طویل وقت لگتا ہے۔
وبا کا مؤثر علاج ویکسین ہے
 ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں بڑے پیمانے پر پھوٹنے والی وباؤں کا سب سے مؤثر علاج ویکسین ہے اور انسانوں نے انہی کی مدد سے ایسی وباؤں پر قابو پایا ہے جو ماضی میں کروڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتی تھیں ۔ لیکن کورونا وائرس کے خلاف ویکسین تیار کرنا اور پھر اسے بازار میں لانا اتنا آسان نہیں ہے۔صحت کے حکام کے مطابق اس میں کم از کم ڈیڑھ سال (خیال رہے کہ کووڈ۔۱۹؍ کی ویکسین بنانے کا کام چند مہینوں سے شروع ہے۔ اس کی ویکسین بننے میں مزید چند ماہ لگ سکتے ہیں ) لگ سکتے ہیں ، وہ بھی اُس صورت میں جب سب کچھ منصوبے کے مطابق ہو۔اس وقت دنیا میں تقریباً ۳۵؍ ادارے اس بیماری کی ویکسین بنانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں جبکہ کئی اداروں نے تجربات شروع کردیئے ہیں ۔ تاہم، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین تیار کرنے کے عمل میں جتنی بھی جلدی کی جائےمجموعی طور پر ایک تا ڈیڑھ سال لگ ہی جائیں گے۔ 
 امریکہ کے ڈاکٹر انتونی فاؤچی کے مطابق کسی بھی بیماری کی ویکسین تیار کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں ، اگر کوئی ادارہ کہے کہ وہ اس سے کم وقت میں ویکسین تیار کرسکتا ہے تو وہ احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کر رہا ہوتا ہے جو مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ویکسین تیار کرتے وقت ان تمام باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے کہ اس سے انسانوں کو کوئی دوسری بیماری یا ان کے جسم میں کوئی اور مسئلہ نہ پیدا ہوجائے۔ علاوہ ازیں ، ویکسین کم سے کم اتنی طاقتور تو ہو کہ تقریباً ۵؍ سے ۶؍ سال تک مذکورہ وائرس کا خطرہ ٹل سکے۔ 
ویکسین تیار کرنا آسان کام نہیں ہے
 ویکسین تیار کرنا آسان نہیں ہے۔ ایڈس اس کی واضح مثال ہے جس کی ویکسین گزشتہ ۴۰؍ برس سے تیار کی جارہی ہے مگر سائنسدانوں کو اب تک خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی ہے۔ ویکسین کی تیاری میں کئی نازک مراحل پیش آتے ہیں جنہیں لوگوں کی صحت کے پیشِ نظر سمجھنا ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ ویکسین صحت مند لوگوں کو لگائی جاتی ہے اس لئے اس میں اضافی احتیاط ضروری ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر کورونا وائرس کی ویکسین تیار ہو گئی تو ممکنہ طور پر اسے کروڑوں بلکہ شاید اربوں لوگوں کو دیا جائے۔ اگر ان کی ایک معمولی شرح کو بھی مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑا تو دنیا بھر میں اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسداں ہر ممکن احتیاط سے کام لے رہے ہیں ۔ 
ویکسین کیسے بناتے ہیں ؟ 
 ویکسین بنانے کیلئے وائرس کے ایسے حصے تلاش کئے جاتے ہیں جنہیں جب کسی صحت مند شخص کے جسم میں داخل کیا جائے تو جسم اس وائرس کے خلاف مؤثر مدافعت تیار کرلے۔ طبی سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ اب پورے وائرس کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ اس کے اندر سے چند مخصوص پروٹینز نکال کر انہیں بطور ویکسین استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، ماضی میں تکنالوجی نہ ہونے کے سبب وائرس کو مردہ کرکے اسے ویکسین بنانے میں استعمال کیا جاتا تھا۔اہم بات یہ ہے کہ چینی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کے جینیاتی مواد (آر این اے) کا تمام ڈیٹا ۱۰؍ جنوری ہی کو انٹرنیٹ پر نشر کر دیا تھا، جس کی مدد سے دنیا کی کوئی بھی لیبارٹری بغیر وائرس کے ویکسین کی تیاری شروع کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس چین کے شہر ووہان سے پھیلا تھا۔ یہ پہلا موقع ہو گا جب جینیاتی مواد کی مدد سے ویکسین تیار کی جائے گی اسلئے اسے بنانے میں زیادہ وقت لگ رہا ہے کیونکہ اگر ویکسین میں کوئی کمی یا بیشی ہوگئی تو انسانی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ 
ویکسین بن جانے کے بعد کیا ہوتا ہے؟
 ویکسین بن جانے کے بعد اس کا تجربہ سب سے پہلے جانوروں پر کیا جاتا ہے لیکن ایسا جانور ڈھونڈنا آسان نہیں ہے جس پر یہی وائرس اثرانداز ہو کر اسے بیمار کر سکتا ہو کیونکہ ہر جانور کی بیماریاں الگ ہوتی ہیں ۔ ایسا جانور مل جانے پر یہ دیکھنا ہو گا کہ ویکسین کے مضر اثرات کیا ہیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ فائدے کی بجائے نقصان زیادہ ہو رہا ہے؟ عام طور پر چوہوں پر ویکسین آزمائی جاتی ہے۔اس مرحلے سے گزرنے کے بعد اگلا قدم انسانوں پر تجربے کا ہے۔ سب سے پہلے صحت مند انسانوں کو ویکسین دی جاتی ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ ان پر کیا اثر ہو رہا ہے۔ کئی ہفتوں تک ان کا بغور جائزہ لیا جاتا ہے کیونکہ بعض دفعہ کسی دوا کا اثر فوری طور پر نہیں بلکہ کچھ عرصے کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس عمل میں جلدی نہیں کی جا سکتی۔یہ مرحلہ ’فیز۔وَن‘ کہلاتا ہے جس میں چند درجن صحت مند افراد پر تجربہ کیا جاتا ہے۔اس فیز میں سب درست رہتا ہے تو ’فیز۔ ٹو‘ کی شروعات کی جاتی ہے جس میں سیکڑوں افراد کو ویکسین دی جاتی ہے اور ان کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اگر اس مرحلے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہوتا تو ’فیز۔تھری‘ کا آغاز ہوتا ہے جس میں ہزاروں رضاکار حصہ لیتے ہیں ۔ اس مرحلے میں مختلف عمر، نسل اور جنس کے لوگ شامل ہوتے ہیں ۔ واضح رہے کہ اگر کسی بھی ’فیز میں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو ویکسین بنانے کا عمل دوبارہ شروع کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی بیماری کی ویکسین بنانے کیلئے برسوں لگ جاتے ہیں ۔ ویکسین بن جاتی ہے تو اسے کروڑوں اور اربوں لوگوں کیلئے تیار کرنا، اسے پیک کرنا اور ملک ملک پہنچانا، یہ بھی کافی وقت طلب کام ہے۔ اس لئے جب تک ویکسین نہیں بن جاتی تب تک ہمیں احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK