ایرانی صدر پیزشکیان نے ایک بیان میں کہا کہایران پر وقار انداز میں جنگ ختم کرنے کا خواہاں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو تہران سے اس کے جوہری حقوق چھیننے کا کوئی حق نہیں۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 10:07 PM IST | Tehran
ایرانی صدر پیزشکیان نے ایک بیان میں کہا کہایران پر وقار انداز میں جنگ ختم کرنے کا خواہاں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو تہران سے اس کے جوہری حقوق چھیننے کا کوئی حق نہیں۔
ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے اتوار کو کہا کہ ایران امریکہ کےمابین جنگ کو ’’وقار کے ساتھ‘‘ ختم کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو تہران سے اس کے جوہری حقوق چھیننے کا کوئی حق نہیں ہے۔خبر رساں ادارے آئی ایس این اےکے مطابق،پیزشکیان نے ایران کی وزارت کھیل و نوجوانان کے دورے کے دوران کہا، ’’ٹرمپ کہتا ہے کہ ایران کو اپنے جوہری حقوق استعمال نہیں کرنے چاہئیں، لیکن یہ نہیں بتاتا کہ ایران نے کیا جرم کیا ہے۔‘‘انہوں نے قوم سے مطالبہ کیا کہ وہ خونخوار اور ظالم دشمن کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہوں۔ صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو موجودہ ماحول کو اس طرح سنبھالنا چاہیے کہ ہمیں جنگجو کے طور پر پیش نہ کیا جائےکیونکہ ہم اپنا دفاع کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا آبنائے ہرمز پر دوبارہ کنٹرول قائم ، ٹرمپ کا ’’بلیک میل ‘‘کے خلاف انتباہ
بعد ازاں پیزشکیان نے آسٹریلیا میں خواتین فٹ بال ٹیم کی کارکردگی اور دو کھلاڑیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’ہماری بیٹیوں نے آسٹریلیا میں دشمن کو سخت جواب دیا۔ وہ دو پیاری لڑکیاں جو دشمنوں کی طرف سے گمراہ کی گئی تھیں، جب بھی واپس آئیں گی، ان کا استقبال کیا جائے گا؛ ان کے لیے ہمارے بازو کھلے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اورخطے میں موجود امریکی اثاثوں پر حملے کیے ۔جبکہ۸؍ اپریل کو پاکستان کی ثالثی سے دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی عمل میں آئی، جس کے بعد سے جنگ تعطل کا شکار ہے۔ تاہم گزشتہ ہفتے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان میں مستقل امن کے لیے مذاکرات ہوئے، اور اسلام آباد میں ایک اور اجلاس کی کوششیں جاری ہیں۔