Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ میں ۳۴۵؍ طلبہ اور اساتذہ فوت، سیکڑوں تعلیمی ادارے تباہ

Updated: April 13, 2026, 10:00 PM IST | Tehran

ایران کی وزارت تعلیم کے مطابق ۲۸؍ فروری سے جاری ایران اسرائیل امریکہ تنازع میں کم از کم ۳۴۵؍ طلبہ اور اساتذہ کی موت ہوچکی ہے جن میں ۲۷۸؍ طلبہ اور ۶۷؍ اساتذہ شامل ہیں۔ مزید ۱۹۶؍ طلبہ اور عملے کے ۲۶؍ افراد زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق ۹۰۰؍  سے زائد اسکولوں اور درجنوں تعلیمی و ثقافتی مراکز کو نقصان پہنچا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایران میں جاری جنگ کے انسانی اثرات مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں، جہاں وزارت تعلیم نے انکشاف کیا ہے کہ ۲۸؍ فروری سے شروع ہونے والے ایران امریکہ اسرائیل تنازع کے دوران کم از کم ۳۴۵؍ طلبہ اور اساتذہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں ۲۷۸؍ طلبہ اور ۶۷؍ اساتذہ شامل ہیں، جو اس تنازع کے تعلیمی شعبے پر پڑنے والے شدید اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید برآں، ۱۹۶؍ طلبہ اور عملے کے ۲۶؍ افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ تعلیمی انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ حکام کے مطابق ۹۳۳؍ اسکول، ۵۴؍  انتظامی عمارتیں، ۱۷؍ ثقافتی مراکز، ۳۶؍ اسپورٹس ہالز اور آٹھ طلبہ کیمپ تباہ یا متاثر ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی پوپ لیو پر تنقید، انہیں ’انتہا پسند‘ قرار دیا، کارڈینلز نے امریکی انتظامیہ کو نشانہ بنایا

یہ اعداد و شمار اس وسیع تباہی کی عکاسی کرتے ہیں جو ملک کے تعلیمی نظام کو درپیش ہے، جہاں ہزاروں طلبہ اپنی تعلیم سے محروم ہو سکتے ہیں۔ یہ تنازع ۲۸؍ فروری کو شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے کیے، جس کے بعد تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ ساتھ عراق، اردن اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس جنگ میں مجموعی طور پر ۳۳۰۰؍ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور انسانی بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ حال ہی میں دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم سفارتی کوششیں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات، جو تقریباً ۲۱؍ گھنٹے جاری رہے، بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ فرانس سربراہی اجلاس: آبنائے ہرمز میں بحری آزادی بحال کرنے کی کوشش

ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کو پہنچنے والا نقصان طویل مدتی اثرات مرتب کرے گا، کیونکہ نہ صرف انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے بلکہ ایک پوری نسل کی تعلیم بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاشرے کے بنیادی شعبوں، خصوصاً تعلیم، کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK