Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: دو سال بعد ماں اپنی نومولود بیٹی سے دوبارہ مل گئی، جذباتی مناظر

Updated: April 13, 2026, 9:17 PM IST | Gaza

غزہ پٹی میں جنگ کے دوران بچھڑنے والی فلسطینی خاتون سندس الکرد دو سال بعد اپنی بیٹی بیسان سے دوبارہ مل گئیں، جو پیدائش کے فوراً بعد ان سے جدا ہو گئی تھی۔ بچی کو اسپتال سے نکال کر مصر منتقل کر دیا گیا تھا جبکہ ماں زخمی حالت میں پیچھے رہ گئی۔ طویل تلاش کے بعد مصر کے شہر العریش میں ریکارڈز کے ذریعے بچی کا سراغ ملا۔ یہ جذباتی ملاپ ایسے وقت میں ہوا ہے جب غزہ جنگ میں ہزاروں جانیں جا چکی ہیں اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔

Sundus Al-Kurd with her daughter Bisan. Photo: X
سندس الکرد اپنی بیٹی بیسان کے ساتھ۔ تصویر: ایکس

غزہ پٹی کی جنگ زدہ فضا میں ایک نایاب مگر انتہائی جذباتی لمحہ اس وقت سامنے آیا جب فلسطینی ماں سندس الکرد اپنی بیٹی بیسان سے تقریباً دو سال بعد دوبارہ مل گئیں۔ وسطی غزہ کے علاقے دیر البلاح میں ایک سادہ خیمے کے باہر، الکرد اپنی ننھی بیٹی کو مضبوطی سے گلے لگائے ہوئے تھیں، جیسے وہ اسے دوبارہ کھونے سے خوفزدہ ہوں۔ یہ کہانی اکتوبر ۲۰۲۳ء میں شروع ہوئی، جب وہ شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں اپنے گھر میں آٹھ ماہ کی حاملہ تھیں۔ ایک اسرائیلی حملے نے ان کی زندگی کو یکسر بدل دیا، جس میں انہوں نے اپنے والدین، بہن اور ایک اور بیٹی کو کھو دیا۔ شدید زخمی حالت میں انہیں الشفا اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ہنگامی سیزیرین کے ذریعے ان کی بیٹی بیسان پیدا ہوئی۔ چونکہ بچی قبل از وقت پیدا ہوئی تھی، اسے انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ فرانس سربراہی اجلاس: آبنائے ہرمز میں بحری آزادی بحال کرنے کی کوشش

جلد ہی حالات مزید خراب ہو گئے جب اسرائیلی افواج نے نومبر ۲۰۲۳ء میں اسپتال پر کارروائی کی۔ اس دوران الکرد کو اپنی بیٹی کو وہیں چھوڑ کر جانا پڑا۔ وہ لمحہ ان کے لیے سب سے تکلیف دہ تھا۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں بہت روئی، میں اسے چھوڑنا نہیں چاہتی تھی، لیکن مجھے بتایا گیا کہ میری جان خطرے میں ہے۔‘‘ اس کے بعد قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو جنوبی غزہ اور پھر مصر منتقل کر دیا گیا۔ الکرد نے اپنی بیٹی کی تلاش کا ایک طویل اور صبر آزما سفر شروع کیا۔ وہ ہر تصویر کو دیکھ کر خود سے پوچھتی تھیں ’’کیا یہ میری بیٹی ہے؟‘‘

بالآخر، امید حقیقت میں اس وقت بدلی جب مصر کے شہر العریش میں موجود رشتہ داروں نے اسپتال کے ریکارڈز کے ذریعے بچی کی شناخت کی تصدیق کی۔ جب انہیں بتایا گیا کہ ان کی بیٹی زندہ ہے، تو وہ اس پر یقین نہیں کر سکیں۔ انہوں نے پہلی رات کے بارے میں کہا جب بیسان ان کے ساتھ سوئی، کہ ’’میری روح جیسے واپس لوٹ آئی۔‘‘ اگرچہ بیسان ابھی اپنی ماں سے پوری طرح مانوس نہیں، لیکن الکرد پرعزم ہیں کہ وہ اس کے ساتھ نیا رشتہ قائم کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’وہ ابھی مجھے نہیں جانتی، لیکن میں اسے بتاؤں گی کہ میں اس کی ماں ہوں اور میں نے اس کا انتظار کیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی پوپ لیو پر تنقید، انہیں ’انتہا پسند‘ قرار دیا، کارڈینلز نے امریکی انتظامیہ کو نشانہ بنایا

یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب غزہ میں جاری جنگ نے انسانی بحران کو شدید تر بنا دیا ہے۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک ۷۲؍ ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک اور ایک لاکھ ۷۰؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، غزہ کا تقریباً ۹۰؍ فیصد شہری ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، اور تعمیر نو کے لیے تقریباً ۷۰؍ ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

سندس الکرد اور بیسان کی کہانی اس تباہی کے بیچ امید، صبر اور ماں کی محبت کی ایک طاقتور علامت بن کر سامنے آئی ہے—ایک ایسی یاد دہانی کہ جنگ کے اندھیرے میں بھی انسانیت کی روشنی باقی رہتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK