تفصیلی مطالعہ کے بجائے’خلاصہ‘ کی سہولت سے وقت تو بچ رہاہے لیکن سی ای اوز اور پروفیشنلزمیں کتب بینی کا ذوق و شوق گھٹ رہا ہے۔
EPAPER
Updated: September 23, 2026, 3:06 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
تفصیلی مطالعہ کے بجائے’خلاصہ‘ کی سہولت سے وقت تو بچ رہاہے لیکن سی ای اوز اور پروفیشنلزمیں کتب بینی کا ذوق و شوق گھٹ رہا ہے۔
اے آئی کے دور میں جہاں ہر معلومات چند سیکنڈ میں ’سمری‘ (خلاصے) کی شکل میں دستیاب ہو رہی ہے، وہیں لوگوں میں پوری کتاب پڑھنے کی عادت کم ہوتی جا رہی ہے۔ دنیا کے بڑے کارپوریٹ لیڈرز اور سی ای اوز بھی اس رجحان سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اے آئی سے تیار کردہ مختصر مواد کی وجہ سے کئی بڑے سی ای اوز کتابیں اور تفصیلی رپورٹس پہلے کے مقابلے میں کم پڑھ پا رہے ہیں۔ اس کا منفی اثر اصل سوچ، دلائل کی باریکی اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت پر پڑنے کا خدشہ ہے۔امریکی مصنفہ ڈائن بریڈی لکھتی ہیں کہ آج سی ای اوز اور اعلیٰ سطح کے لیڈروں کو ایک نئی مشکل کا سامنا ہے۔ اے آئی کی وجہ سے مواد کی مقدار تو بہت بڑھ گئی ہے، لیکن اس کے معیار پر اعتماد کم ہوا ہے۔ نتیجتاً کئی سی ای اوز کتابیں کم پڑھ رہے ہیں، اور یہ صورتحال خود انہیں پریشان کر رہی ہے۔بریڈی کے مطابق انہیں روزانہ اے آئی سے تیار کردہ متعدد پی آر پچز موصول ہوتی ہیں۔ ان سب کا فارمیٹ تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے، گریزٹنگ سے لے کر بلٹ پوائنٹس تک۔
یہ بھی پڑھئے: ملئے ایک ’اگنی ویر‘ سے جو ’ٹی نائنٹی‘ ٹینک گنر سے فوجی افسر بنا
ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور سرچ انجن آپٹیمائزیشن(ایس ای او) کمپنی گریفائٹ کے مطابق اب آن لائن مواد کا بڑا حصہ انسانوں کے بجائے اے آئی تیار کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں کچھ سی ای اوز ’آہستہ اور گہرائی سے‘ پڑھنے کی عادت دوبارہ اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف سمری پڑھنے سے دلیل کی اصل ساخت، باریکیاں اور مصنف کی منفرد سوچ نظر انداز ہو جاتی ہے۔
گہرے مطالعہ سے سوچنے کا موقع ملتا ہے
مالیاتی خدمات سے وابستہ ایک سی ای او نے بتایا کہ انہوں نے اب دوبارہ پرانے طریقے سے کتابیں پڑھنا شروع کر دی ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’’مجھے سوچنے اور حکمتِ عملی سے متعلق فیصلے کرنے کے لیے تنخواہ ملتی ہے۔ جب میں اے آئی کی سمری پڑھتا ہوں تو دلیل کی باریکیاں اور اس کی اصل انفرادیت ختم ہو جاتی ہے۔ آہستہ اور گہرائی سے پڑھنا ہی انسان کو اپنے نتائج تک پہنچنے کے لیے ضروری وقت دیتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:’’ پروفیشنل نیٹ ورکنگ‘‘ سے جین زی کیوں ہچکچاتے ہیں؟
سی ای اوز کیا کہتے ہیں؟
انسانی تجسس ہی حل ہے: ’بک شاپ ڈاٹ آرگ‘کے سی ای او اینڈی ہنٹر کا کہنا ہے کہ اے آئی جعلی اور سرچ ٹرینڈز سے فائدہ اٹھانے والی کم معیار کی کتابیں بھی تیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس مسئلے کا مقابلہ صرف انسانی ایڈیٹنگ اور انسانی تخلیقی صلاحیت کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔
اوسط درجے کا خطرہ: ’ون اسٹریٹجی گروپ‘ کے سی ای او ڈیوڈ میڈون کے مطابق آرٹی فیشیل انٹیلی (اے آئی) کی وجہ سے آن لائن مواد کا عمومی معیار ’بی پلس‘ گریڈ جیسا ہو گیا ہے۔ لیکن صرف اے آئی ٹولز کا دستیاب ہونا کسی شخص کو عظیم مفکر نہیں بنا دیتا۔ ان کے مطابق اے آئی لوگوں کو ’اوسط‘ بنانے کی طرف لے جا رہا ہے، اور اس رجحان سے بچنا ضروری ہے۔ کتب بنی کی عادت اورتفصیلی مطالعہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔
۴۰؍فیصد امریکیوں نے گزشتہ سال ایک بھی کتاب نہیں پڑھی۔سروے رپورٹ کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا اور اے آئی کے ذریعے دستیاب عام نوعیت کے مواد کو پڑھنے میں وقت کا گزر جانا ہے۔ گریفائٹ نے۶۵؍ ہزار سے زائد انگریزی زبان کے آن لائن مواد کا تجزیہ کیا۔ اسکے مطابق نومبر۲۰۲۳ء میں انٹرنیٹ پر موجود تقریباً ۳۶؍ فیصد مواد اے آئی کے ذریعے تیار کیا گیا تھا۔ ۲۰۲۴ء کے اختتام تک یہ شرح بڑھ کر۴۸؍ فیصد ہو گئی۔ مئی۲۰۲۵ء میں اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شرح۵۱ء۷؍ فیصد تک پہنچ گئی، یعنی پہلی مرتبہ اے آئی سے تیار ہونے والا مواد انسانی تحریروں سے زیادہ ہو گیا۔
۲۰۲۶ء کے آغاز میں شائع شدہ نئے مضامین میں اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شرح۹ء۴۹؍ فیصد رہی۔