• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہال بور لینڈ مشہور امریکی ادیب،صحافی، شاعر اور ماہر فطرت تھے

Updated: February 13, 2026, 10:29 AM IST | Mumbai

Hal Borland کی خدمات کا اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے جدید صنعتی اور شہری دنیا میں رہنے والے انسان کو فطرت کی اہمیت کا احساس دلایا۔

Hal Borland was a staff writer for The New York Times. Photo: INN
ہال بور لینڈ نیویارک ٹائمز کے اسٹاف رائٹر تھے۔ تصویر: آئی این این

ہال بورلینڈبیسویں صدی کے ایک ممتاز امریکی ادیب، صحافی، شاعر اور فطرت سے گہری وابستگی رکھنے والے دانشور تھے۔ وہ۱۴؍ مئی ۱۹۰۰ء کو ریاست نیبراسکا، امریکہ میں پیدا ہوئےتھے۔ ان کا بچپن دیہی ماحول میں گزرا، جہاں کھلے میدان، جنگلات، دریا اور موسموں کی تبدیلیاں ان کی شخصیت اور سوچ پر گہرا اثر ڈالتی رہیں۔ یہی قربت بعد میں ان کی تحریروں کا بنیادی حوالہ بنی۔ رسمی تعلیم کے لحاظ سے وہ بہت زیادہ اعلیٰ ڈگریوں کے حامل نہ تھے لیکن مطالعے، مشاہدے اور تجربے نے انہیں ایک پختہ اور گہرا ادیب بنا دیا۔وہ اپنے اردگرد کی دنیا کو الفاظ میں قید کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ولیم جے مرتاگ: تاریخی عمارتوں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے علمبردار

ہال بورلینڈ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور جلد ہی’’دی نیو یارک ٹائمز‘‘ جیسے معتبر اخبار سے وابستہ ہو گئے۔ وہ کئی دہائیوں تک اس اخبار میں کالم نویسی کرتے رہے اور خاص طور پر فطرت، ماحول، موسموں، دیہی زندگی اور انسان و قدرت کے تعلق پر لکھے گئے ان کے کالم بے حد مقبول ہوئے۔ ان کی تحریر کا انداز سادہ، شفاف اور فکری تھا، جس میں نہ تصنع تھا نہ غیر ضروری پیچیدگی۔ وہ چھوٹی چھوٹی روزمرہ چیزوںجیسے خزاں میں گرتے پتے، سردیوں کی خاموشی یا بہار کی پہلی کلی کو گہرے فلسفیانہ مفہوم کے ساتھ بیان کرنے میں مہارت رکھتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ انسان اگر فطرت کو غور سے دیکھے تو زندگی کے بڑے سبق خود بخود سامنے آ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑحئے: فریڈرک فروبل: ماڈرن پری اسکول اور نرسری ایجوکیشن کے بانی

ادبی لحاظ سے ہال بورلینڈ ایک ہمہ جہت مصنف تھے۔ انہوں نے مضامین، شاعری، ناول، بچوںکیلئے کتابیں اور فطرت پر مبنی نان فکشن تحریریں لکھیں۔ ان کی مشہور کتابوں میں’’بیونڈ یور ڈور اسٹیپ‘‘ (Beyond Your Doorstep)،’’سنڈیل آف دی سیزن‘‘ (Sundial of the Seasons)، اور ’’ دی گولڈن ایئر‘‘(The Golden Year) شامل ہیں جن میں انہوں نے موسموں کی گردش اور زندگی کے باہمی ربط کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا۔ ان کی شاعری میں بھی فطرت ایک مرکزی کردار کے طور پر نظر آتی ہے جہاں خاموشی اور وقت کے بہاؤ پر گہرا غور و فکر ملتا ہے۔ وہ لفظوں کو اس طرح استعمال کرتے تھے کہ قاری کو منظر آنکھوں کے سامنے زندہ محسوس ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: نادین گورڈیمر مشہور افریقی ادیبہ ، ڈراما نگار اور سماجی کارکن تھیں

ہال بورلینڈ کی خدمات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے جدید صنعتی اور شہری دنیا میں رہنے والے انسان کو فطرت کی اہمیت کا احساس دلایا۔ وہ ماحولیات کے عملی کارکن تو نہیں تھے، لیکن ان کی تحریریں ایک طرح سے ماحولیاتی شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بنیں۔ انہوں نے انسان کو یاد دلایا کہ قدرت صرف استعمال کی چیز نہیں بلکہ احترام اور ہم آہنگی کی طالب ہے۔ ان کے کالم اور کتابیں آج بھی اس لئے اہم سمجھی جاتی ہیں کہ وہ تیز رفتار اور بے چین دنیا میں ٹھہراؤ، مشاہدے اور سادگی کی دعوت دیتی ہیں۔

۱۹۵۲ء میں ہال بورلینڈ اپنی اہلیہ کے ساتھ کنیکٹیکٹ، امریکہ چلے گئے تھے اور وہیں۲۲؍ فروری ۱۹۷۸ء کو ان کا انتقال ہوا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK