Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسکول کا پہلا دن

Updated: June 13, 2026, 12:18 PM IST | Mohammed Rafi Ansari | Mumbai

اسکول کا پہلا دن ہمیشہ یاد رہ جاتا ہے، اس کی خوبصورت یاد پر مبنی کہانی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

بچّو! یہ بہت پُرانی بات ہے۔ یوں سمجھو کہ آج سے ساٹھ برس پہلے کی۔ وہ دور آج سے بہت الگ تھا۔ لوگ سادہ زندگی گزارنے کے عادی تھے۔ سرکاری پرائمری اسکولوں میں بچے روزمرہ کے لباس میں اسکول جاتے۔ کپڑے کی ایک تھیلی میں لکھنے پڑھنے کا سامان رکھا جاتا۔ سامان بھی کیا تھا ایک سلیٹ اور سلیٹ پر لکھنے والا ایک معمولی سا قلم۔ کوئی بستہ نہ کوئی یونیفارم۔ ہم لوگوں نے اسی طرح چوتھی پاس کیا۔ اور ہائی اسکول پہنچے۔ اس اسکول کا پہلا دن آج تک یاد ہے۔ 
اس کی روداد سن لو:
چوتھی جماعت میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ وہ میرے خوابوں کا اسکول تھا۔ اس کا بڑا نام تھا۔ اسے قریب سے دیکھا.... اسکول کی عمارت بھی بڑی کشادہ تھی۔ اسکول میں ایک بہت بڑا میدان تھا، دامن ِ امید سے بھی وسیع۔ بڑے سے اسٹیج نے اسکول کی رونق اور بڑھا دی تھی۔ اسے چھو کر اور اس پر چل کر دیکھا۔ پہلے ہی دن مجھے اپنی خوش نصیبی کا احساس ہوا۔ ایک منزلہ اسکول میں بہت سے کمرے نظر آئے۔ نچلی جماعتوں کے کمرے زمینی منزلے پر اور بڑی جماعتوں کے کمرے پہلے منزلے پر تھے۔ وہیں اسٹاف روم اور پرنسپل صاحب کے کمرے کے علاوہ ایک بڑی سے لائبریری بھی تھی۔ اللہ اللہ کیا منظر تھا۔ 
مَیں مقررہ وقت سے پہلے اپنے محلّہ کے ساتھیوں کے ساتھ اسکول پہنچ گیا۔ جماعت پانچویں اے میں بینچ سلیقے سے لگے ہوئے تھے۔ مَیں نے درمیان میں بیٹھنا مناسب سمجھا۔ میرے ساتھی پیچھے کے بینچوں پر بیٹھنے کو زور دے رہے تھے۔ بچوں کا عجب حال تھا۔ کوئی مسکرا رہا تھا کوئی شرما رہا تھا۔ کوئی اندیشوں میں گرفتار تھا....
کلاس شروع ہونے کی گھنٹی بجی اور کچھ دیر بعد کلاس ٹیچر جماعت میں تشریف لائے۔ سب بچوں نے کھڑے ہو کر تعظیم کی۔ انہوں نے سلام کیا اور کلام سے پہلے اپنا تعارف پیش کرنے کو کہا۔ سب نے تعمیل کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: تالاب کے آنسو

پھر وہ مسکرا کر کہنے لگے ’’بچّو! مجھے ’متین سَر‘ کہتے ہیں۔ ‘‘ مَیں نے دیکھا لحیم شحیم متین سَر بہت نرم طبیعت کے مالک ہیں۔ آواز تیز ہے مگر لہجہ ملائم ہے۔ مجھے اچھا لگا۔ بچّوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے جو کچھ فرمایا تھا وہ سب کچھ تو یاد نہیں لیکن اتنا یاد ہے کہ انہوں نے کہا تھا ’’زندگی میں کسی سے ڈرنا نہیں چاہئے، بلکہ سمجھنا چاہئے۔ ‘‘
مَیں جسمانی طور پر تھوڑا کمزور تھا اور کچھ طبیعت میں بھی مرعوبیت تھی، جس کی وجہ سے میں زیادہ تر خاموش رہنا پسند کرتا تھا۔ اتنا خاموش کہ بعض اوقات مجھے دیکھ کر دوسروں کو غصہ آجاتا۔ اس کا مجھے نقصان بھی ہوا۔ مگر بچّو ایک بات یاد رکھنا ’’محنت کرے انسان تو کیا کام ہے مشکل۔ ‘‘
ایک راز کی بات سمجھ لو، پہلے تم اپنا جائزہ لو، دیکھو تم کیا کام بہتر طور پر انجام دے سکتے ہو، پھر اس پر خوب محنت کرو، ایسا کرنے سے تم یقیناً دوسروں سے ممتاز ہو جاؤگے.... میرا ’خط‘ جسے عرف عام میں ’رائٹنگ‘ کہتے ہیں دوسروں سے زیادہ اچھا تھا۔ مَیں ہمیشہ لکھنے کی مشق کرتا رہتا تھا۔ میری یہ خوبی میری خامیوں پر غالب رہی.... اور مَیں دھیرے دھیرے اساتذہ میں جانا پہچانا جانے لگا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ’’کامیابی ہر ان چھوٹی چھوٹی کوششوں کا نتیجہ ہے جنہیں ہم دن رات انجام دیتے ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: لیٹر باکس

اسکول کے پہلے دن ہمارے پرنسپل محسن علی نے بچوں سے خطاب کرتے ہوئے جو کچھ کہا تھا وہ بھی کچھ کچھ یاد ہے۔ محسن علی بڑی بارعب شخصیت کے مالک تھے۔ اسکول میں جس طرف سے گزرتے ’کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے‘ کا معاملہ ہوتا.... پہلے دن سارے بچے اسکول کے میدان میں جمع ہوئے ہر طرف شور برپا تھا، لیکن جیسے ہی پرنسپل صاحب تشریف لائے سنا ٹا چھا گیا.... ویسے تو انہوں نے بہت کچھ کہا مگر ایک بات یاد رہ گئی.... انہوں نے کہا تھا ’’صرف جینا زندگی نہیں ہے۔ زندگی میں رنگ و بُو چاہئے....‘‘ رنگ و بو کا مطلب ہے ’رونق‘.... رونق یعنی تازگی، شادابی، چہل پہل یہی تو حقیقت میں زندگی ہے۔ 
اب ایک مزے کی بات سنو۔ مَیں نے جس اسکول میں داخلہ لیا وہاں ایک ’بس‘ بھی تھی۔ یہ بس دور دراز کے لڑکے لڑکیوں کو اسکول لاتی لے جاتی تھی.... اس بس کو بارہا دیکھا تھا.... اسکول آکر اسے قریب سے دیکھا۔ اس بس کا نمبر پانچ تھا۔ اس کا ایک ڈرائیور بھی تھا۔ جس کا نام وسنت تھا۔ وسنت روزانہ کام سے فارغ ہو نے کے بعد بس کے نیچے گھس کر مرمت کا کام کیا کرتا۔ بس مرمت طلب تھی۔ مگر وسنت نے بھی حوصلہ نہیں ہارا تھا۔ سچ ہے دُنیا میں حوصلہ مندوں کی قدر ہوتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK