Inquilab Logo Happiest Places to Work

لیٹر باکس

Updated: May 30, 2026, 11:47 AM IST | Ram Lal | Mumbai

تھوڑی دیر بعد ایک آدمی نے وہاں آکر خط ڈالا۔ اس کے خط میں جو باتیں لکھی ہوئی تھیں اُسے پڑھ کر تینوں دوست حیران رہ گئے۔ تھوڑی دیر تک آپس میں کچھ صلاح و مشورہ کیا اور پھر ڈرم میں سے با ہر نکل آئے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ونود، وجے اور بندی تین گہرے دوست تھے۔ اور تینوں تھے بے حد شرارتی، ان کی کوئی بات شرارت سے خالی نہیں ہوتی تھی۔ 
ایک بار انہوں نے پرانے اخباروں کو تازہ بنا کر کئی لوگوں کے ہاتھ بیچ ڈالا اور پھر بھاگ گئے۔ اور ایک دفعہ تو انہوں نے محلے کے ایک ڈاکٹر کی بھی خبر لے لی جو انہیں بیمار پڑ جانے پر سخت کڑوی دوائیں پلاتا تھا۔ انہوں نے محلے کے سب بچوں میں اُس ڈاکٹر کے خلاف پروپیگنڈہ کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بچے بیمار پڑنے پر اُس کے پاس جانے سے انکار کرنے لگے اور اُن کے ماں باپ کو بھی بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ تینوں دوست اپنی ایسی شرارتوں کی وجہ سے محلے بھر میں مشہور تھے۔ چھٹیوں میں تو انہیں اور زیادہ شرارتیں سوجھتی تھیں۔ 
ایک دن سڑک سڑک پر جاتے جاتے ایک ٹرک الٹ گیا۔ اُس میں لدے ہوئے سرخ روغن کے کچھ ڈرام نیچے گر کر پھٹ گئے اور روغن اِدھر اُدھر پھیل گیا۔ ایک جگہ ایک گڑھے میں بھی روغن جمع ہوگیا۔ شام کو اندھیرا ہو جانے پر تینوں دوست سڑک کی مرمت کے لئے رکھا ہوا تارکول کا خالی ڈرام لڑھکا کرلے آئے جہاں گڑھے میں سرخ روغن بھرا ہوا تھا۔ سارا روغن اُس ڈرام پر مل دیا۔ جب ڈرام ہر طرف سے سرخ رنگ میں رنگ لیا گیا تو اُس میں ایک جگہ کاٹ کر منہ بنایا۔ ایک دکاندار سے تھوڑا سا سفید روغن لے کر ڈرم پر لکھ دیا ’’لیٹر باکس‘‘ اور اسے لڑھکا کر ایک گلی کے سرے پر اس طرح رکھ دیا جس کے اندر نیچے سے وہ خود بھی کھس کر بیٹھ سکتے تھے۔ 
دوسرے دن صبح سویرے وہ تینوں اُس میں جا کر بیٹھ گئے اور اُس میں خط ڈالنے والوں کا انتظار کرنے لگے ایک آدمی نے ڈاک ڈالنے کا نیا ڈبہ دیکھ کر دوسرے آدمی سے کہا ’’ڈاک خانے والوں نے یہاں پر یہ ڈبہ رکھ کر بہت اچھا کام کیا ہے اب خط ڈالنے کے لئے بہت دور نہیں جانا پڑے گا۔ ‘‘
تھوڑی دیر بعد ایک آدمی نے وہاں آکر خط ڈالا۔ اس کے خط میں جو باتیں لکھی ہوئی تھیں اُسے پڑھ کر تینوں دوست حیران رہ گئے۔ تھوڑی دیر تک آپس میں کچھ صلاح و مشورہ کیا اور پھر ڈرم میں سے با ہر نکل آئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پرندوں کی پکار

اس کے بعد دو دن تک ونود، وجے اور نندی اپنے بنائے ہوئے لیٹر باکس کے پاس نہ گئے در اصل بات یہ تھی کہ اُس خط نے انہیں ایک بہت ہی عجیب الجھن میں ڈال دیا تھا۔ وہی خط جسے پڑھ کر وہ حیران رہ گئے تھے۔ دو دن تک وہ سوچتے رہے اور تجویزیں بناتے رہے۔ تیسرے دن صبح سویرے وہ تینوں اپنے لیٹر باکس کے پاس گئے۔ اس کے اندر بہت سے خط بھرے پڑے تھے۔ لیکن انہیں اب اتنے سارے خط پڑھنے کی فرصت نہیں تھی۔ جتنے خط انہیں ملے سب کو نکال کردوسرے اصلی لیٹر باکس میں جا کر ڈال آئے اور اپنے لیٹر باکس کو لڑھکاتے ہوئے پولیس کے تھانے میں لے گئے اور سپاہیوں کے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ سیدھے داروغہ صاحب کے کمرے میں چلے گئے۔ لیٹر باکس اب بھی ان کے ساتھ تھا جسے دیکھ کر داروغہ کو بہت غصہ آیا اور اپنے سپاہی سے بولا ’’تم نے انہیں میرے پاس آنے کی کیوں اجازت دی؟‘‘ سپاہی کے جواب دینے سے پہلے ہی ونود بول اٹھا ’’داروغہ صاحب اب زیادہ وقت ضائع نہ کیجئے ہمارے لیٹر باکس سے ملاقات کیجئے یہ آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہے۔ ‘‘ ’’کیا کہنا چاہتا ہے؟‘‘ داروغہ اب سخت غصے میں آگیا تھا لیکن ونود، وجے اور بندی میں سے کوئی نہ گھبرایا اور تینوں لیٹر باکس کے اندر گھس کر بولے ’’اپنا کان قریب لائیے۔ ‘‘
داروغہ بڑبڑاتے ہوئے اپنا کان لیٹر باکس کے منہ کے پاس لے گیا تو ان تینوں نے اُسے ایک بات سنائی جسے سن کر داروغہ حیران رہ گیا پھر خوش ہو کر بولا ’’جلدی سے باہر نکل آؤ۔ ‘‘
داروغہ نے کہا ’’اگر یہ بات غلط ہوئی تو میں بہت کڑی سزا دوں گا۔ ‘‘ تینوں دوست ایک ساتھ بولے ’’بے شک!‘‘
اس کے بعد داروغہ نے فوراً پولیس کی بس بلوائی! اس میں بہت سے سپاہی بندوقیں لے کر بیٹھ گئے۔ اگلی سیٹوں پر ڈرائیور کے ساتھ داروغہ اور ونود، وجے اور بندی بیٹھے لیٹر باکس کو بس کی چھت پر رکھ لیا گیا۔ شہر کے ایک دوسرے حصے میں پہنچ کر بس روک لی گئی۔ تمام سپاہی ایک مکان میں جا کر بیٹھ گئے۔ ونود، وجے، بندی اور داروغہ لیٹر باکس میں بیٹھ گئے۔ لیٹر باکس اتنا بڑا تھا کہ چاروں اُس کے اندر آسانی سے بیٹھ گئے۔ بس کا ڈرائیور داروغہ کا حکم پا کر لیٹر باکس کو لڑھکاتا ہوا ایک خاص بتائی ہوئی جگہ پر جا کر رکھ آیا۔ لیٹر باکس کو دیکھ کر کسی کو حیرت نہ ہوئی بلکہ سب خوش ہوئے کہ اب انہیں خط ڈالنے کے لئے بہت دور نہیں جانا پڑے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے: شرمیلا میمنا

اُن کے دیکھتے دیکھتے کتنے لوگوں نے اپنے خط اُس کے اندر ڈال دیئے لیکن لیٹر باکس کے اندر بیٹھے ہوئے آدمیوں کو ان خطوط سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ تو لیٹر باکس کے سوراخ میں سے سامنے کے مکان پر نظر جمائے ہوئے بیٹھے تھے۔ جہاں تھوڑی دیر میں ایک بارات آنے والی تھی۔ دروازے پر پھول اور پتّے لٹک رہے تھے اور لاؤڈ اسپیکر سے گانے سنائے جا رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد وہاں دس پندرہ آدمیوں کی بارات آگئی۔ آگے بینڈ باجا بج رہا تھا۔ جب سب لوگ مکان کے اندر چلے گئے تو داروغہ اور تینوں دوست باہر آگئے۔ داروغہ نے وسل بجا کر سب سپاہیوں کو وہاں بلوایا جو تھوڑی دور ایک مکان کے اندر چھپے ہوئے تھے۔ 
سپاہیوں کے آتے ہی داروغہ نے بارات والے مکان پر ہلہ بول دیا اور اندر جا کر سب براتیوں اور گھر والوں کو گرفتار کر لیا اُن لوگوں نے بہت ناراض ہو کر کہا ’’ہماری شادی میں آپ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟‘‘ داروغہ نے پستول دکھا کر کہا ’’لیکن یہ تو بتائیے دلہن اور اُس کے گھر والے کہاں ہیں ؟‘‘
وہ لوگ کوئی جواب نہ دے سکے کیونکہ وہاں سچ سچ کوئی دلہن نہ تھی۔ وہ لوگ تو بارات کا بہانہ بنا کر وہاں رکھا ہوا لوٹ مار کا بہت سا مال اور روپیہ اٹھانے آئے تھے اور یہ بات ونود، وجے اور بندی کو اُس خط کے پڑھنے کے بعد معلوم ہوئی تھی جو انہوں نے اپنے سردار کو لکھی تھی۔ ڈاکوؤں کو اتنی کامیابی سے پکڑوانے کے بعد تینوں دوستوں کو بہادر کا خطاب دیا گیا تھا اور سرکار کی طرف سے بہت سا انعام دیا گیا اور اُن کے لیٹر باکس کو سرکاری عجائب خانے میں داخل کر لیا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK