شمالی جنگل میں پانی کا ایک ہی تالاب تھا لیکن وہ اتنا بڑا تھا کہ تمام جانوروں کی ضرورت کے لئے کافی تھا۔ تمام جانور اسی تالاب پر اپنی پیاس بجھانے آتے تھے۔
EPAPER
Updated: June 06, 2026, 1:13 PM IST | Muhammad Umar Ahmed Khan | Mumbai
شمالی جنگل میں پانی کا ایک ہی تالاب تھا لیکن وہ اتنا بڑا تھا کہ تمام جانوروں کی ضرورت کے لئے کافی تھا۔ تمام جانور اسی تالاب پر اپنی پیاس بجھانے آتے تھے۔
ایک بار ایسا ہوا کہ برسات کا موسم نہیں آیا اور اتنی شدید گرمی پڑی کہ جھیلوں، دریاؤں اور تالابوں کا پانی بھاپ بن کر اُڑ گیا۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے پودے مرجھانے لگے اور کھیتیاں اُجڑنے لگیں۔ سب سے زیادہ شمالی جنگل متاثر ہوا جہاں شیر، چیتے، بھالو، بندر، بھیڑیے، ہرن، مور، ہُدہُد، طوطے، نیل کنٹھ، گینڈے، ہاتھی اور بھی بہت سے جانور رہتے تھے۔ اس جنگل میں سیکڑوں سفید چڑیاں بھی رہتی تھیں۔ ان کے جھنڈ کے جھنڈ درختوں پر شور مچاتے تھے۔ پورا جنگل ان کی دل فریب آوازوں سے گونجتا رہتا تھا۔
شمالی جنگل میں پانی کا ایک ہی تالاب تھا لیکن وہ اتنا بڑا تھا کہ تمام جانوروں کی ضرورت کے لئے کافی تھا۔ تمام جانور اسی تالاب پر اپنی پیاس بجھانے آتے تھے۔ جنگل کے کالے ہاتھیوں کو نہانے کا بے حد شوق تھا۔ وہ جب بھی تالاب پر پانی پینے آتے تو نہانے لگ جاتے۔ شرارتی تو وہ تھے ہی، سونڈوں میں پانی بھرتے اور ایک دوسرے پر پھینکنا شروع کر دیتے۔
بارش نہ ہونے کی وجہ سے تالاب کا پانی دھیرے دھیرے کم ہونے لگا۔ وہ جانور جو پہلے یہاں نہایا کرتے تھے، اب بڑی احتیاط سے پانی خرچ کرنے لگے۔ تالاب کا دل بہت بڑا تھا اور اسکے دل میں جانوروں کیلئے بڑی محبت تھی لیکن پانی کی کمی نے اس کی محبت چھین لی تھی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ تالاب کا پانی بالکل ختم ہوگیا۔ سفید چڑیوں اور رنگ برنگے تو توں کے جھنڈ کے جھنڈ جب پانی پینے کیلئے تالاب پر اترے تو پانی نہ پاکر پیاس سے بے چین ہوگئے۔ وہ تالاب کے سینے پر دور دور تک اڑے لیکن انہیں پانی نہ ملا۔ پھر انہوں نے پیاس کی شدت سے تڑپ تڑپ کر تالاب کے سینے پر اپنی جان دیدی۔
مچھلیاں گیلی اور نم دار کیچڑ میں ایک دو دن زندہ رہیں۔ پھر کیچڑ خشک ہونے پر مرگئیں۔ جنگل کے دوسرے جانور بھی پیاس سے مرنے لگے اور جب کالے ہاتھیوں کے ایک غول نے تالاب کے سینے پر تڑپ تڑپ کر جان دی تو تالاب کو بے حد صدمہ ہوا۔ ’’لیکن مَیں کیا کرسکتا ہوں۔ ‘‘ اس نے بے بسی کے ساتھ اپنا منہ چھپا لیا۔
کچھ پانی موجود تھا۔ پہاڑوں پر جمی برف جب پگھلتی تو اس میں پانی جمع ہو جاتا تھا۔ جنگل کے بچے کھچے جانور اسی چشمے کی وجہ سے زندگی کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑے ہوئے تھے۔ اس چشمے کی وجہ سے جنگل میں کچھ رونق باقی تھی لیکن جوں جوں وقت گزر رہا تھا، رونقیں پانی کی کمی کی وجہ سے دم توڑ رہی تھیں۔ پودے اور پھول مرجھا گئے تھے اور موت کا خوف جانوروں کے چہروں پر عیاں تھا۔
ایک صبح جب تالاب کے قریب کچھ جانوروں نے پیاس سے دم تو ڑا تو تالاب سے ان کے تڑپنے کا منظر دیکھا نہ گیا اور اس نے صدمے کی وجہ سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ ابھی اسے آنکھیں بند کئے چند ہی منٹ ہوئے تھے کہ اسے اپنے اوپر کسی پرندے کے پھڑپھڑانے کی آواز سنائی دی۔ تالاب نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو ایک نہایت خوبصورت سنہرے پرندے کو اپنے کنارے پر بیٹھا پایا۔ اس کی نیلی آنکھوں میں بلا کی کشش تھی۔ ’’کیا تم اس جنگل کے سب سے بڑے تالاب ہو؟‘‘ اس نے سوال کیا۔
تالاب نے جواب دیا ’’ہاں، میں ہی سب سے بڑا تالاب ہوں۔ ‘‘ ’’کیا تمہیں جنگل کے جانوروں سے محبت ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
تالاب نے کہا ’’ہاں ! بہت محبت ہے۔ ‘‘
’’جب وہ پیاس سے مرتے ہیں تو تمہیں بہت دکھ ہوتا ہوگا؟‘‘ ’’ہاں، بہت دکھ ہوتا ہے۔ ‘‘ تالاب کے لہجے میں بلا کی افسردگی تھی۔
’’پھر تو تم ان کی موت پر آنسو بہاتے ہوگے؟‘‘
’’نہیں مجھے رونا نہیں آتا۔ ‘‘
’’اس کا مطلب ہے کہ تمہارا دل جانوروں کی محبت سے خالی ہوچکا ہے۔ ‘‘ پرندے نے افسوس سے سر ہلایا تو تالاب چیخا ’’نہیں .... نہیں، میرا دل تو صرف پانی سے خالی ہوا ہے۔ ‘‘
پرندے نے کہا ’’تم جھوٹ بولتے ہو۔ تم میں اگر ذرا سی بھی محبت ہوتی تو تم ان کیلئے آنسو بہاتے، اس طرح انہیں پینے کیلئے پانی مل جاتا اور وہ اس طرح پیاس سے تڑپ تڑپ کر نہ مرتے۔ ‘‘
پھر پرندے نے افسوس سے اپنی گردن ہلائی اور کہا ’’تم خود غرض ہو اور خود غرض لوگ صرف اپنے لئے جیتے ہیں۔ ‘‘ اتنا کہہ کر سنہرا پرندہ اُڑ کر دور افق میں گم ہوگیا۔
سنہرا پرندہ بالکل ٹھیک کہتا ہے۔ میں واقعی خود غرض ہوں۔ اس پرندے کی باتوں نے جیسے تالاب کے دل پر چوٹ لگا دی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا اور اتنا رویا کہ تالاب پانی سے بھر گیا۔
جنگل کے بچے کھچے جانور جب اس کے قریب آئے تو پانی دیکھ کر حیران رہ گئے۔ انہوں نے خوب ڈٹ کر پانی پیا۔ شیر نے کہا ’’تھوڑا تھوڑا پانی پئو!‘‘ لیکن جانوروں نے پیٹ بھر کر پانی پیا۔ دوسرے دن جانور تالاب پر آئے تو پانی کل سے بھی زیادہ تھا۔ اب کالے ہاتھیوں نے پانی اپنی سونڈوں میں بھر کر سوکھے پودوں میں ڈالنا شروع کیا۔ مرجھائے ہوئے پودے کھل اُٹھے اور ان میں زندگی کی رونق بحال ہوگئی۔
تالاب جانوروں کی زندگی بچانے کے لئے روز رونے لگا۔ وہ اتنا روتا کہ تالاب شام تک لبالب پانی سے بھر جاتا۔ جنگل کی گمشدہ رونقیں پانی کی وجہ سے دوبارہ لوٹ آئیں۔ جانور خوشی سے ناچنے لگے۔ کچھ ہی دونوں میں بارش بھی ہوگئی اور سارا جنگل سرسبز ہوگیا۔
تالاب اب بہت خوش تھا۔ وہ پرندوں کی خوشبو بھری چہکار اور جانوروں کے مسرت انگیز گیت سنتا۔ اسے کالے ہاتھیوں کی چنگھاڑ بھی سنائی دیتی لیکن اب وہ سفید چڑیوں کو، جنگل کے جانوروں کو اور جنگل کے سرسبز نظاروں کو دیکھ نہیں سکتا تھا کیونکہ مسلسل رونے کی وجہ سے وہ اندھا ہوچکا تھا۔