دُنیا کو امن کا پیغام دیتی کہانی۔
EPAPER
Updated: August 29, 2026, 1:36 PM IST | Shakeel-ur-Rehman | Mumbai
دُنیا کو امن کا پیغام دیتی کہانی۔
ارشد کو آج کافی دیر ہوگئی تھی، آج اسکول کے میدان میں فٹ بال کا میچ نہ ہوتا تو اتنی دیر کبھی نہ ہوتی وہ لمبے لمبے قدم بڑھاتا چلا جا رہا تھا اس کا اسکول اس کے گاؤں سے دور تھا، اور اُسے ’’بوڑھی گنڈک‘‘ ندی پار کرکے اسکول پہنچنا ہوتا تھا اور اسے ہر روز کشتی کا یہ مختصر سفر اچھا لگتا تھا۔
جب ارشد گھاٹ کے قریب پہنچا تو کافی اندھیرا پھیل چکا تھا، ملّاحوں نے کشتیوں کو رسّی سے باندھ دیا تھا اور اپنی اپنی جھوپڑیوں میں آرام کر رہے تھے اور گیت گا رہے تھے۔ ارشد کو بڑی کوفت ہوئی، اس کے دماغ میں ایک بات آئی، ملّاحوں میں رامو ملّاح ارشد کو بہت پیار کرتا تھا۔ یہ سوچ کر ارشد رامو کی جھوپڑی میں آیا، اس نے دیکھا رامو سویا پڑا ہے۔ ارشد نے آگے بڑھ کر رامو کو آواز دی ’’رامو چاچا، رامو چاچا۔‘‘ بڑی مشکل سے رامو اُٹھا اور اس نے پوچھا ’’کون ہو؟‘‘ ’’مَیں ہوں ارشد، اسکول میں دیر ہوگئی ہے، اس پار جانا ہے، مجھے جلد پہنچادو، امّاں انتظار کر رہی ہوں گی۔‘‘ ’’تم ہو ارشو! اچھا آؤ آؤ۔‘‘ رامو اُٹھ گیا۔ باہر نکل کر اس نے دیکھا بالکل اندھیرا تھا ’’مگر اندھیرا کافی ہوگیا ہے، جاؤ گے کیسے؟‘‘ رامو نے پوچھا۔
یہ بھی پڑھئے: جے ای ای ایڈوانسڈ کے ٹاپر شبھم کمار کی کامیابی کا راز، سوشل میڈیا سے دوری
’’مَیں چلا جاؤں گا، تمہاری طرح ڈرپوک اور بزدل نہیں ہوں۔‘‘ ارشد نے رامو کا ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچتے ہوئے کشتی کے پاس لایا۔ رامو نے کشتی دریا میں اتار دی، ارشد بیٹھ گیا اور کشتی چلنے لگی، بوڑھی گنڈک کے سینے پر کشتی چلی جا رہی تھی۔ رامو کشتی چلاتے ہوئے بولا ’’یہ تو بتاؤ کہ اس پار جانے کے بعد تمہیں جنگل بھی پار کرنا ہے، اُسے کس طرح پار کرو گے جبکہ تمہارے پاس کوئی روشنی نہیں ہے، مجھے تو اس جنگل میں بہت ڈر لگتا ہے۔‘‘
’’مَیں جنگل سے گزر جاؤں گا، مجھے ڈر نہیں لگتا۔‘‘ ارشد نے پانی سے کھیلتے ہوئے جواب دیا۔ ’’جی ہاں، جب بھوت سامنے آئے گا تو ساری شیخی نکل جائے گی، سمجھے!‘‘ رامو بولا۔ ’’بھوتوں پر مجھے اعتبار نہیں ہے۔‘‘ ارشد بولا۔ ’’ہاں ہاں بزرگوں کی باتوں کا تمہیں کیوں اعتبار آئے گا۔‘‘ رامو اس طرح بولا جیسے بھوتوں پر اعتقاد رکھنے کیلئے دُنیا کے سارے بزرگ فرما گئے ہیں۔ تھوڑی دیر میں کشتی پار لگ چکی تھی، ارشد جلدی سے اُتر گیا۔
یہ بھی پڑھئے: کم سرمایہ میں شروع ہونے والے کاروبارجن کی ’ڈیمانڈ‘بڑھ رہی ہے
اب ارشد جنگل سے گزر رہا تھا۔ یہاں اور زیادہ اندھیرا تھا، اُسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا، وہ بہت سنبھل سنبھل کر آگے بڑھ رہا تھا، ابھی کچھ ہی دور گیا تھا کہ اُسے روشنی نظر آئی، روشنی آہستہ آہستہ تیز ہوتی گئی ارشد گھبرا رہا تھا کہ وہ آخر کس چیز کی روشنی ہے۔ اس نے دیکھا وہ بالکل انوکھی روشنی تھی، دودھ کی طرح سفید.... ارشد کو محسوس ہوا جیسے زمین پر چاند اتر آیا ہے۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اور اُسے بار بار رامو کی بات یاد آ رہی تھی کہ اس جنگل میں بھوت رہتے ہیں۔ ارشد نے ہمت نہیں ہاری اور بڑھتا چلا گیا۔ جتنا آگے گیا اسے روشنی اور نزدیک اور تیز معلوم ہوتی گئی، اس نے آسمان کی طرف نگاہیں اٹھائیں، تمام اندھیرا تھا، البتہ تارے ضرور چمک رہے تھے لیکن اس جنگل میں اتنی تیز روشنی تھی جیسے چاند غلطی سے اس جنگل میں آگیا ہو۔ ارشد گھبراتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا، تھوڑی دور اور آگے بڑھا کہ اُسے ایک نہایت ہی ضعیف عورت نظر آئی جو زمین پر بیٹھی چکّی پیس رہی تھی، اس کی چکّی چاندی کی تھی اور اس سے چاندی کے سفوف نکل رہے تھے، ارشد کا خوف کچھ اور بڑھ گیا۔ لیکن اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی، جب اس نے دیکھا کہ اس عورت کے بڑے بڑے سفید بالوں اور دونوں چمکتی ہوئی آنکھوں سے روشنی نکل کر تمام جنگل میں پھیلی ہوئی تھی، سر کا ایک ایک بال چمک رہا تھا، آنکھوں کی روشنی انتہائی تیز تھی۔ ارشد کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ چاند کے قریب آگیا ہے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس نے ایسی عورت ضرور کہیں دیکھی تھی۔ بوڑھی عورت خاموش بیٹھی تھی اور چکّی چلا رہی تھی۔ ارشد کو غور سے دیکھا اور پھر فوراً اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ اس کی آنکھیں بند ہوتے ہی چاند جیسی روشنی پھیکی پڑ چکی تھی۔ صرف بالوں کی روشنی سے تمام اُجالا تھا۔
ارشد نے ہمت کرکے پوچھا ’’آپ کون ہیں؟ ایسا لگتا ہے جیسے مَیں آپ کو بہت بار دیکھ چکا ہوں۔‘‘ ضعیف عورت نے آنکھیں کھول دیں، روشنی تمام جنگل میں تیز ہوگئی اس نے کہا ’’بیٹے! یہ ٹھیک ہے کہ تم لوگ مجھے برابر دیکھتے ہو۔ مَیں چاند کی بڑھیا ہوں، چاند میں رہتی ہوں، تم لوگ اس زمین سے مجھے چکّی چلاتے ہوئے برابر دیکھتے ہو؟‘‘ ’’آپ چاند کی بڑھیا ہیں؟‘‘ ارشد نے گھبرا کر کہا۔
’’گھبرانے کیا بات ہے۔‘‘ بڑھیا نے کہا ’’مَیں ساری دُنیا کے بچوں کی نانی ہوں۔ چاند میرا لڑکا ہے۔ اس لئے تم سب لوگ چاند کو ماموں کہتے ہو۔ مَیں نے اپنے لڑکے کو اپنی روشنی کافی دے رکھی ہے، روشنی تو در اصل میرے بالوں سے پیدا ہوتی ہے۔ مَیں عرصہ سے ادھر اُدھر رہتی ہوں، کبھی مریخ میں کبھی زہرہ میں، کبھی تمہاری زمین پر.... تمہاری زمین پر بھی آتی ہوں تو بہت چھپ کر رہتی ہوں اس لئے کہ مجھے تمہاری زمین سے نفرت ہوگئی ہے۔ تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ مَیں آسمان سے زمین کی حالت دیکھتے دیکھتے تنگ آگئی ہوں اور انسانوں سے اتنی شدید نفرت ہوگئی ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں اور بالوں کا نور دینا گوارا نہیں کیا ہے اور اپنی چکّی لے کر اِدھر اُدھر بھاگتی رہی ہوں۔ تمہاری زمین پر بھی اسی وقت آتی ہوں جب سارے انسان سو جاتے ہیں یا ایسی جگہ پر آتی ہوں جہاں مجھے انسان نظر نہیں آتا ہے۔ نہ جانے اس دُنیا کے انسانوں کو کیا ہوگیا ہے۔ مجھے ان کی حالت دیکھ کر بڑا دکھ ہوتا ہے، مَیں چاند میں بہت کم جاتی ہوں، یہی وجہ ہے کہ تم لوگ چاند کی بڑھیا کو آج کل بہت کم دیکھتے ہو اور اس کی جگہ سیاہ دھبے زیادہ نظر آتے ہیں۔‘‘ چاند کی بڑھیا چکّی بدستور چلا رہی تھی۔ ’’آپ درست فرما رہی ہیں۔ لیکن یہ تو بتائیے کہ آپ کو اس دُنیا کے انسانوں سے نفرت کیوں ہوگئی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اکبر اور بیربل کے دو دلچسپ قصے
’’انسان کی بُرائی پوچھتے ہو بیٹے، اس کی فہرست بہت لمبی ہے، انسان جنگ کی باتوں میں اتنا اُلجھا ہوا ہے کہ اسے امن چین قائم رکھنے کیلئے کبھی غور کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی ہے، مَیں آسمان سے سب کچھ دیکھتی رہتی ہوں۔ وہ چھپ چھپ کر دُنیا کو تباہ کرنے کا پلان تیار کرتا رہتا ہے، زہریلے بم اور بارود بناتا ہے، اس سے زمین تباہ کرتا ہے۔ ہرے بھرے کھیت اجاڑ دیتا ہے۔ دُنیا کا رنگ و روپ چھین لیتا ہے۔ انسان کی عقل پر ماتم کرنے کا وقت بھی چلا گیا۔ تم لوگ جس نازک دور سے گزر رہے ہو اُسے مَیں اچھی طرح جانتی ہوں اس لئے کہ مَیں آسمان سے یہ سب کچھ دیکھتی رہتی ہوں۔ تم جانتے ہو دُنیا اور کائنات کے سارے سیارے ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں؟ ’’مَیں جانتا ہوں، ہر سیارے میں کشش ہوتی ہے، اسکے بغیر کوئی سیارہ اپنی جگہ پر قائم نہیں رہ سکتا ہے۔ مَیں نے کتابوں میں پڑھا ہے۔‘‘ ارشد بولا۔
’’ہاں! اگر کوئی سیارہ کمزور ہوگا تو اس کی شامت آجائے گی۔ مضبوط سیارہ اُسے اپنی طرف کھینچ لے گا اور کمزور سیارے کی ساری قوت ختم ہو جائے گی۔ سیارہ کی طاقت اس وقت ختم ہوگی جب وہ سیارہ ہلکا ہو جائیگا۔ تمہاری دُنیا میں ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم بار بار گرتے جائیں تو زمین کی طاقت ختم ہو جائیگی، دُنیا کی تباہی اپنی جگہ پر ہے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ہوگا کہ آفتاب زمین کو اپنی طرف کھینچ لے گا اور ساری زمین جل کر ختم ہو جائیگی، مجھے انسانوں سے ہمدردی ہے، مَیں انہیں دودھ بھری روشنی دیتی رہتی ہوں۔ اگر تباہ ہوگی یہ دُنیا تو چاند کی بڑھیا سے کون ماں اپنے بچے کیلئے دودھ بھات مانگے گی، چندا ماموں کو ہاتھ کے اشاروں سے کون ننھا بچہ بلائے گا، مَیں روشنی کن کھیتوں اور سمندروں کو دوں گی۔ مَیں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ جب تک انسان اپنی یہ ذلیل حرکت سے باز نہ آئیگا اور دُنیا کو تباہ کرنے کا ارادہ ترک نہ کرے گا مَیں چاند پر جا کر چکّی نہیں چلاؤں گی اور زمین پر ہمیشہ ہمیشہ پھیکی پھیکی روشنی پھیلتی رہے گی۔‘‘ یہ سب کچھ کہہ کر چاند کی بڑھیا اپنی چکّی لے کر غائب ہوگئی۔ پھر تمام اندھیرا پھیل گیا اور ارشد تیز تیز قدم اٹھاتا اپنے مکان کی طرف چل دیا۔ چاند کی بڑھیا کی باتیں اس کے ذہن میں گھوم رہی تھیں۔
ارشد کی ماں اس کے انتظار میں بیٹھی تھی۔ ارشد کو دیکھتے ہی اس نے سینے سے لگا لیا۔ دیر سے آنے کی وجہ دریافت کی، ارشد نے رامو چا چاسے لے کر چاند کی بڑھیا تک کی ساری باتیں بتا دیں۔ ارشد کی ماں نے بھی کہا ’’اللہ کی مار ہو لڑائی چاہنے والوں پر۔‘‘ اور وہ رات پھر ارشد کو سینے سے لگا کر جاگتی رہی۔ ان کے دماغ میں چاند کی بڑھیا کی باتیں گونج رہی تھیں۔