اس کہانی میں ریلوے اسٹیشن پر گم ہوجانے والے بچے نے اپنی روداد بیان کی ہے۔
EPAPER
Updated: August 01, 2026, 1:38 PM IST | Taskeen Zaidi | Mumbai
اس کہانی میں ریلوے اسٹیشن پر گم ہوجانے والے بچے نے اپنی روداد بیان کی ہے۔
مَیں حیران و پریشان پلیٹ فارم پر کھڑا گھبرا کر چاروں طرف دیکھ رہا تھا۔ ممی پاپا اور بہن بھائیوں کا دور تک کہیں پتہ نہیں تھا۔ کسی کو وہاں نہ پاکر کافی فکرمند ہوگیا۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ میں کہاں جاؤں کیا کروں؟ یہ لوگ مجھے اکیلا چھوڑ کر کس طرف چلے گئے؟ ایک پولیس والا مجھے گھورتا ہوا پاس سے گزر گیا میں اور پریشان ہوگیا۔ گھبراہٹ کے باعث میرے جسم سے پسینہ ٹپکنے لگا میں انتہائی فکرمند اور الجھن میں تھا کہ اب کیا کروں؟ میرے پاس پیسے نہ تھے اور نہ ہی ٹکٹ۔ میں سوچنے لگا کہ کہیں مجھے بغیر ٹکٹ کے جرم میں جیل نہ بھیج دیا جائے۔ مجھے بڑی لائن کے چار باغ اسٹیشن کا راستہ بھی معلوم نہ تھا۔ میں تو اسی چھوٹی لائن کے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر ایک اور ۲؍ پر چکر کاٹ رہا تھا۔ میری نظر دیوار پر لگے کلاک پر تھی گیارہ بجنے والے تھے۔ ڈیڈی نے بتایا تھا کہ نوچندی ایکسپریس گیارہ بج کر تیس منٹ پر لکھنؤ چار باغ سے چھوٹتی ہے۔
ہوا یوں کہ جب ہم لوگ کانپور سے میٹر گیج کی ٹرین سے لکھنؤ چھوٹی لائن کے اسٹیشن پر ۸؍ بجے رات میں اُترے تو سامان رکھ کر اور کچھ دیر ٹھہر کر پلیٹ فارم نمبر ۲؍ پر کھانا کھا یا پھر آرام کرنے لگے۔ ۹؍ بجے یہاں سے بڑی لائن کے چار باغ اسٹیشن کو چلنا تھا۔ سامان زیادہ تھا۔ دو بڑے بڑے بکس، دو ہولڈال، ایک واٹر کولر اور کئی چھوٹے چھوٹے سامان بھی۔ ممی نے کئی قلیوں سے بات کی لیکن ان کی مانگ زیادہ تھی جبکہ ٹرالی کے ذریعہ بھی بیس روپے کی اُجرت میں بآسانی پہنچ جاتا۔ اس لئے ڈیڈی ٹرالی والے کی تلاش میں چلے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: شیخ چلّی مصنف بن گئے
میں نے سوچا ابھی تو چلنے میں کچھ دیر ہے۔ چلو پلیٹ فارم پر چہل قدمی کرلیں اور میں کسی کو بتائے بغیر ٹہلتے ٹہلتے پلیٹ فارم نمبر وَن پر آگیا۔ یہ خیال بھی نہ رہا کہ سب میرا انتظار کر رہے ہوں گے اور ہمیں چار باغ جنکشن کے پلیٹ فارم نمبر ۵؍ پر جانا ہے۔
میں ٹہلتا ہوا ایک بک اسٹال پر پہنچ گیا۔ جہاں کئی نئی میگزینوں کے دلچسپ مطالعہ نے مجھے ایسا محو کر دیا کہ وقت کا صحیح اندازہ ہی نہیں ہوا۔ اب جو میں نے کلاک کو دیکھا تو وہ دس بجا رہی تھی۔ میں گھبرا کر تیزی سے پلیٹ فارم نمبر ۲؍ کی جانب دوڑا۔ وہاں پہنچ کر اور کسی کو وہاں نہ پاکر میں کافی پریشان ہوگیا۔ گھبرا کر چاروں طرف دیکھنے لگا مگر وہاں دور دور تک کوئی نہ تھا۔ میں حیران و پریشان کھڑا رہ گیا میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں کدھر جاؤں؟ یہ لوگ مجھے اکیلا چھوڑ کر کس طرف چلے گئے۔
میں نے لکھنؤ اسٹیشن پر پہلی بار دیکھا تھا اور یہاں سے بڑی لائن جانے کا راستہ بھی نہیں معلوم تھا میں سوچنے لگا شاید یہ لوگ یہ سوچ کر وہاں چلے گئے کہ میں خود وہاں آجاؤں گا۔ آخر وہ کب تک میرا انتظار کرتے ٹرین کے چھوٹنے کا وقت ہو رہا تھا۔ یقیناً ممی اور ڈیڈی سب میری وجہ سے پریشان ہوں گے اور تلاش کرتے ہوئے یہاں بھی آئیں گے اس لئے مجھے یہاں سے کہیں نہیں چلنا چاہئے۔
اسی وقت پاس کھڑے دو مسافروں کی گفتگو نے مجھے چونکا دیا۔ ان دنوں لکھنؤ اسٹیشن پر بچوں کو پکڑنے والا گروہ بہت سرگرم ہے۔ آج بھی دو بچوں کے غائب ہونے کی خبر اخبار میں چھپی ہے۔ جی آر پی والے اس سلسلہ میں سخت پریشان نظر آ رہے ہیں بھکاریوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔‘‘
میں اس خبر سے اور کانپ گیا۔ تبھی مجھے ایک شور سنائی دیا ’’پکڑو پکڑو.... وہ میرا بٹوہ لے گیا۔
اور میں نے دیکھا کہ دو آدمی ایک دوسرے کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ پھر ریلوے پولیس آگئی اور اس جیب کترے کو پکڑ کر ہتھکڑی ڈال کر میرے سامنے ہی لے کر چلی گئی۔ پولیس والوں نے مجھے بھی گھور کر دیکھا جس نے میری پریشانی اور بڑھا دی اب میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں؟
پھر مجھے یوں لگا جیسے ممی مجھے پکار رہی ہیں۔ ڈیڈی مجھے ڈھونڈ رہے ہیں۔ ’’یہ گڈّو بڑا شریر ہوگیا ہے نظر جھپکی اور غائب ہوگیا اس کے پاس نہ پیسے ہیں اور نہ ہی ٹکٹ، ٹرین آنے کا وقت بھی ہوگیا اب کیا ہوگا؟ کہیں وہ کسی غلط آدمی کے ہتھے نہ چڑھ جائے۔ جائیے اسے جاکر وہیں ڈھونڈئیے ورنہ میں رامپور نہیں جاؤں گی۔‘‘ دور سے ممی کی آواز آئی۔
اور جیسے ڈیڈی دلاسہ دیتے ہوئے کہہ رہے ہوں ’’گھبراؤ نہیں خدا پر بھروسہ رکھو ایسا کچھ نہ ہوگا وہ بارہ سال کا سمجھدار لڑکا ہے۔ کوئی ننھا منا بچہ نہیں کہ کوئی بہلا پھسلا کر اسے اپنے ساتھ لے جائیگا۔ میں ایک بار پھر انکوائری آفس سے اناؤنس کراتا ہوں۔ جمال سے کہو وہ پلیٹ فارم پر نظر رکھے۔‘‘
اور میں خیالوں سے چونک کر پھر ٹہلنے لگا میرے کان اسٹیشن کے اسپیکر کی طرف بار بار متوجہ ہونے لگے۔ جب بھی کوئی اناؤنسمنٹ ہوتا تو میں توجہ سے سنتا اس امید کے ساتھ کہ شاید میرے لئے کوئی خبر ہو کوئی پیغام ہو۔
گیارہ بجاتی ہوئی کلاک نے مجھے یاد دلایا کہ نوچندی ایکسپریس کے آنے کا وقت ہوگیا ہے میں بار بار اللہ سے دعا مانگ رہا تھا کہ مجھے گھر والوں سے ملا دے۔
کئی قلیوں سے پوچھا لیکن کسی نے بھی گائیڈ نہ کیا شاید مجھے لڑ کا سمجھ کر ٹال کر چلے گئے۔ اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا کہ میں ان کے ساتھ ہوں یا نہیں۔ آخر ایسی بھی کیا جلدی تھی۔ ٹکٹ کے بغیر میں باہر بھی تو نہیں جاسکتا اور اگر کسی کو کچھ بتاؤں بھی تو وہ میری اس کہانی پر یقین نہ کرے گا۔
میں اسی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ اچانک میری نظر ڈیڈی پر پڑی جو میری تلاش میں سرگرداں چلے آ رہے تھے۔ بال بکھرے ہوئے اور چہرے سے پریشانی عیاں تھی۔
میں نے انہیں پکارا ’’ڈیڈی.... ڈیڈی!‘‘
وہ مجھے دیکھ کر انتہائی مسرت سے میری جانب لپکے اور مجھے گلے سے لپٹا لیا اور بولے ’’بیٹا تم کہاں رہ گئے تھے؟‘‘
میں نے روتے ہوئے بتایا کہ ’’میں تو یہیں بک اسٹال پر میگزین دیکھ رہا تھا۔ آپ لوگ مجھے تنہا چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے۔ میں کافی دیر سے آپ لوگوں کو ڈھونڈ رہا ہوں۔‘‘
’’بیٹا! ہم بھی تمہیں دو گھنٹہ سے تلاش کر رہے ہیں۔ دو بار انکوائری سے بھی تمہارا نام اناؤنس کروایا۔‘‘ ڈیڈی نے بتایا۔
’’لیکن وہاں کے اسپیکر کی آواز یہاں سنائی نہیں دیتی ورنہ میں خود آپ لوگوں کے پاس پہنچ جاتا۔‘‘ میں نے صفائی پیش کی۔
تب اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ انہوں نے چھوٹی لائن کے اسٹیشن کی انکوائری سے کیوں نہیں انا ونسمنٹ کروایا۔ ڈیڈی مجھے سرنگ کے راستے سے چار باغ اسٹیشن لے کر پہنچے، ممی اور سارے ہی لوگ مجھے دیکھ کر بے انتہا خوش ہوئے۔ ممی نے روتے ہوئے مجھے گلے سے لپٹا لیا۔ پھر جلدی جلدی سامان ٹرین میں رکھا جانے لگا کیونکہ ٹرین نے سیٹی دے دی تھی۔
جب ٹرین لکھنؤ کا پلیٹ فارم چھوڑ رہی تھی تو ممی کہنے لگیں ’’سفر میں بچوں کو ہمیشہ بڑوں کے ساتھ رہنا چاہئے ورنہ ان کے گم ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ آج کل ویسے ہی بچے بہت پکڑے جا رہے ہیں۔‘‘