شیخ چلّی نے اعلان کر دیا کہ وہ مصنف بننے جا رہے ہیں۔ اگلے ہی دن بازار سے پانچ موٹی کاپیاں، رنگ برنگے قلم، ایک مہنگی ڈائری اور ایک بڑا چشمہ خرید لائے۔
EPAPER
Updated: August 01, 2026, 1:35 PM IST | Qazi Mohammad Shamsuddin | Mumbai
شیخ چلّی نے اعلان کر دیا کہ وہ مصنف بننے جا رہے ہیں۔ اگلے ہی دن بازار سے پانچ موٹی کاپیاں، رنگ برنگے قلم، ایک مہنگی ڈائری اور ایک بڑا چشمہ خرید لائے۔
ایک دن حسب ِ معمول شیخ چلّی محلے کے نکڑ پر بیٹھے دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھے۔ چائے کے کپ پر کپ خالی ہو رہے تھے، مگر باتیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ اتنے میں ایک دوست نے ہنستے ہوئے کہا:
’’شیخ صاحب! آپ کے پاس تو دنیا بھر کا تجربہ ہے۔ اتنی کہانیاں سناتے ہیں، اتنے قصے بیان کرتے ہیں، کبھی کچھ لکھ بھی لیا کریں۔ کیا معلوم آپ کی کتاب چھپ جائے، آپ مشہور مصنف بن جائیں، انعامات ملیں، ٹی وی پر انٹرویو آئیں، اور رائلٹی سے دولت ہی دولت برسنے لگے۔‘‘
دوست نے تو یہ بات مذاق میں کہی تھی، لیکن شیخ چلّی نے اسے بالکل سنجیدگی سے لے لیا۔ ان کے دماغ میں فوراً وہی پرانا ’’انڈوں والا محل‘‘ تعمیر ہونا شروع ہوگیا۔
وہ سوچنے لگے: ’’پہلے ایک کتاب لکھوں گا، پھر پبلشر اسے چھاپے گا، ہزاروں نہیں لاکھوں کاپیاں فروخت ہوں گی۔ پھر میری کتاب پر فلم بنے گی، اس کے بعد مختلف ملکوں میں میرے لیکچر ہوں گے۔ لوگ آٹو گراف لینے کے لئے قطاریں لگائیں گے، اور میں رائلٹی سے اتنا امیر ہو جاؤں گا کہ نوٹ گننے کے لئے الگ ملازم رکھنا پڑے گا۔‘‘
اب شیخ چلّی نے اعلان کر دیا کہ وہ مصنف بننے جا رہے ہیں۔ اگلے ہی دن بازار سے پانچ موٹی کاپیاں، رنگ برنگے قلم، ایک مہنگی ڈائری اور ایک بڑا چشمہ خرید لائے۔ دوست نے پوچھا: ’’چشمہ کیوں خریدا؟‘‘ شیخ بولے: ’’ہر بڑا مصنف چشمہ لگا کر ہی لکھتا ہے، اس لئے پہلے شکل تو مصنفوں جیسی ہونی چاہئے!‘‘
گھر پہنچ کر انہوں نے میز پر کتابوں کا ڈھیر لگا دیا۔ روز صبح قلم ہاتھ میں لیتے، دو گھنٹے سوچتے، ایک جملہ لکھتے اور پھر اسے کاٹ دیتے۔ کبھی کھڑکی سے باہر دیکھتے، کبھی چھت کو گھورتے اور کبھی سر کھجلاتے۔ آخرکار کئی دن کی محنت کے بعد انہوں نے ایک کہانی مکمل کر ہی لی۔
خوشی خوشی کہانی اپنے دوست کو پڑھنے کیلئے دی۔ دوست نے پوری کہانی پڑھی، سر پکڑا اور بولا: ’’شیخ صاحب! اس کہانی میں نہ آغاز سمجھ میں آتا ہے، نہ انجام۔ ہیرو پہلے صفحے پر بچہ ہے، دوسرے پر بوڑھا ہو جاتا ہے اور تیسرے پر اچانک بادشاہ بن جاتا ہے۔ پلاٹ کہیں نظر نہیں آتا، کردار آپس میں لڑتے کیوں ہیں، یہ بھی معلوم نہیں، اور آخر میں سب ہنس کیوں رہے ہیں، اس کی بھی کوئی وجہ نہیں!‘‘ شیخ چلّی بولے: ’’یہی تو جدید ادب ہے، عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آتا!‘‘ دوست نے ہنس کر کہا: ’’جدید ادب اپنی جگہ، مگر یہ تو خود آپ کی بھی سمجھ میں نہیں آیا ہوگا!‘‘
شیخ چلّی نے ہار نہ مانی۔ انہوں نے کہانی ایک استاد کو دکھائی۔ استاد نے فرمایا: ’’بیٹا! پہلے اچھی کتابیں پڑھو، زبان سیکھو، کہانی لکھنے کا فن سمجھو، پھر قلم اٹھانا۔ صرف خواب دیکھنے سے کوئی مصنف نہیں بنتا۔‘‘ مگر شیخ چلّی کہاں ماننے والے تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب ایک پبلشر کے پاس بھیج دی۔ ساتھ ہی ایک خط بھی لکھا: ’’جناب! میری کتاب چھاپنے کے بعد رائلٹی کی رقم براہِ کرم قسطوں میں بھیجتے رہیے گا، کیونکہ ایک ساتھ اتنے پیسے سنبھالنا میرے لئے مشکل ہوگا۔‘‘
چند دن بعد پبلشر کا جواب آیا: ’’محترم! پہلے کتاب قابلِ اشاعت تو ہو، پھر رائلٹی کی بات کیجئے۔ فی الحال ہماری رائے ہے کہ آپ مزید مطالعہ کریں، اچھی تحریریں پڑھیں اور لکھنے کی مشق جاری رکھیں۔‘‘ یہ خط پڑھتے ہی شیخ چلی کے سارے خواب ایسے ٹوٹے جیسے ہوا میں بنا ہوا محل اچانک زمین پر آگرے۔
کچھ دن بعد وہ پھر حسب ِ معمول نکڑ پر بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے۔ دوست نے پوچھا: ’’شیخ صاحب! کتاب کا کیا بنا؟‘‘
شیخ نے لمبی سانس لی اور بولے: ’’کتاب تو نہ چھپی، البتہ یہ ضرور معلوم ہوگیا کہ مصنف بننے سے پہلے قاری بننا ضروری ہے۔‘‘
سب دوست زور زور سے ہنسنے لگے۔
اتنے میں ایک اور دوست بولا: ’’شیخ صاحب! اگر آپ اپنی کتاب کے بجائے اپنی زندگی کے کارنامے لکھ دیں تو وہ ضرور بک جائے گی، کیونکہ لوگ آپ کی حرکتوں پر ہنس ہنس کر پیسے ضرور خرچ کریں گے۔‘‘
سبق: کامیابی صرف خواب دیکھنے سے نہیں ملتی، بلکہ مسلسل مطالعہ، محنت، مشق اور تنقید کو برداشت کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص پہلے سیکھتا ہے، وہی آگے چل کر اچھا مصنف بنتا ہے۔