جنریشن زیڈ سرخیوں میں ہے۔ دہلی کے جنتر منتر کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں کئی چھوٹے چھوٹے جنتر منتر کے ذریعہ اس نسل نے خود کو اس طرح متعارف کیا ہے کہ ثبوت سامنے نہ ہوتا تو کوئی نہ مانتا۔
EPAPER
Updated: August 01, 2026, 1:47 PM IST | Shahid Latif | Mumbai
جنریشن زیڈ سرخیوں میں ہے۔ دہلی کے جنتر منتر کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں کئی چھوٹے چھوٹے جنتر منتر کے ذریعہ اس نسل نے خود کو اس طرح متعارف کیا ہے کہ ثبوت سامنے نہ ہوتا تو کوئی نہ مانتا۔
جب جنریشن زیڈ یا جین زی کی اصطلاح ہر خاص و عام تک پہنچی تب سے میری کوشش تھی کہ اُس شخص یا ادارہ کو تلاش کروں جس نے ایک کے بعد دوسری نسل کو نام دینے کی روایت ڈالی۔ میرے ذہن میں سوال تھا کہ جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو جس پہلی نسل کو نام دیا گیا اُسے ’’جنریشن اے‘‘ کیوں نہیں کہا گیا اور سیدھے جنریشن ایکس پر کیوں چھلانگ لگائی گئی؟ اور ایک نسل کو بے بی بومر ، پھر جنریشن وائی کو جنریشن وائی کے علاوہ ملینئل نام کیوں دیا گیا؟
آج کل کسی بھی موضوع پر تحقیق زیادہ مشکل نہیں رہ گئی ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت سے اتنا تعاون بہرحال مل جاتا ہے کہ آپ کے سر کا بوجھ کسی حد تک کم ہوجائے۔ مصنوعی ذہانت سے دریافت کیا تو اس کا جواب تھا کہ نسلوں کو نام دینے کا سلسلہ کسی ایک شخص یا ادارہ کا مرہون منت نہیں بلکہ یہ فوٹوگرافرس، رائٹرس اور میڈیا ریسرچرس کی غیر منصوبہ بند مگر مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہے۔ ۱۹۵۳ء میں رابرٹ کیپا نے اپنی تصویری پیشکش (فوٹو ایسے Essay) کو جنریشن ایکس نام دیا تھا۔ اس کے بعد مصنف ڈوگلاس کوپ لینڈ نے ۱۹۹۱ء میں اپنی کتاب کے ذریعہ اس کی تشہیر میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کتاب کے نام کا ابتدائی حصہ ’’جنریشن ایکس‘‘ تھا۔
یہ بھی پڑھئے: نظام میکدہ ساقی بدلنے کی ضرورت ہے
انٹرنیٹ سے یہ معلومات بھی ملتی ہے کہ ممکنہ طور پر اس کا خیال اُن انگریزی مصنفینسے مستعار ہو جنہیں ’’دی لوسٹ جنریشن‘‘ (گمشدہ نسل) کہا گیا تھا۔ یہ ایسے ادباء تھے جو پہلی جنگ عظیم کے اواخر میں لکھ رہے تھے اور جن کے سامنے تباہی تھی، تاراجی تھی، بے سرو سامانی تھی، مایوسی تھی اور ایسا ہی بہت کچھ تھا۔ دی لوسٹ جنریشن کے ادباء میں جن ناموں کو کافی اہمیت حاصل رہی اُن میں ٹی ایس ایلیٹ، ایذرا پاؤنڈ، ای سی کیومنگ، سیلویا بیچ اور ارنسٹ ہیمنگوے کے نام آتے ہیں۔ بہرکیف، اس مختصر تحقیق سے گتھی اتنی تو سلجھی کہ جنریشن ایکس کو ایک فوٹوگرافر اور ایک مصنف کے ذریعہ شہرت ملی۔ مگر، ایک سابقہ نسل کو، جو ۱۹۴۶ء سے ۱۹۶۴ء کے درمیان پیدا ہوئی، ’’بے بی بومر‘‘کیوں کہا گیا؟ یہ سوال ذہن میں آتے ہی ایسا لگا کہ اس پر مزید تحقیق کرنی ہو گی اس لئے فی الحال سوال کو سوال ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہے ورنہ جنریشن زیڈ یا جین زی پر گفتگو نہیں ہوسکے گی۔ آگے بڑھنے سے قبل بطور یاد دہانی عرض کردوں کہ بے بی بومرس کے بعد جو نسل آئی وہ جنریشن ایکس کہلائی، اس کے بعد کی نسل جنریشن وائی یا ملینئل کہلائی، اس کے بعد آنے والی نسل کو جنریشن زیڈ یا جین زی نام دیا گیا اور اب اس کے چھوٹے بھائی بہن بھی دُنیا میں آچکے ہیں۔ انہیں جنریشن الفا کہا جاتا ہے۔
جب سے جنریشن زیڈ یا جین زی نے خود کو متعارف کرایا ہے اس کی چاروں طرف دھوم ہے۔ اخبارات و رسائل میں جین زی پر مضامین چھپ رہے ہیں، بحثیں ہورہی ہیں، ادارے اور کمپنیاں اس نسل کی ترجیحات اور کئی دیگر ادارے اور کمپنیاں اس کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کررہی ہیں۔ اس نسل کی شہرت سے دیگر ہم عصر نسلوں (بے بی بومرس، جنریشن ایکس اور وائی) کو حسد ہورہا ہو تو اس پر کسی کو حیران اور پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ مگر اس نسل کو صرف شہرت نہیں ملی، بہت سی غلط فہمیاں بھی اس سے منسوب رہیں۔ مثلاً یہ کہا گیا کہ یہ نسل کاہل ہے۔ خود پسند ہے۔ تکنالوجی کی نئی ایجادات و آلات کی دُنیا کی شہری (ڈجیٹل نیٹیو) ہے، سوشل میڈیا اس کی خوراک ہے، اسے حقیقی دُنیا سے رغبت یا اُنسیت نہیں ہے۔ ضدی ہے۔ اس کے افراد دفتر جانا پسند نہیں کرتے۔ انہیں گھر سے کام کی سہولت چاہئے۔ ملازمت دینے والے ان پر زیادہ بھروسہ نہیں کرسکتے، وغیرہ۔
یہ بھی پڑھئے: کام کرنے کی عمر والوں کی آبادی بڑھ رہی ہے
مگر اس نسل نے اُن سب پر، جو غلط فہمیوں میں مبتلا تھے، بہت کچھ واضح کردیا اور یہ بات ذہن نشین کرا دی کہ اس نسل میں ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، یہ باخبر نسل ہے، سوچتی اور غور کرتی ہے، اپنے بڑوں سے تبادلۂ خیال کرکے کسی نتیجے پر پہنچنے کے بجائے انٹرنیٹ سے معلومات اکٹھا کرتی ہے، اُن کا تجزیہ کرتی ہے اور مناسب نتیجہ اخذ کرتی ہے۔ اس نسل کے لوگ بھلے ہی پیش رو نسل سے گفتگو نہ کریں مگر اپنے ہم عمروں سے ضرور بات چیت کرتے ہیں۔ یہ سب تو ہونا ہی تھا کیونکہ یہ پہلی نسل ہے جو مکمل طور پر تکنالوجی کے سائے میں پیدا ہوئی اور پروان چڑھی۔ معاشی عدم استحکام، ماحولیات کے تئیں بے چینی، کووڈ کی وبا اور اب مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی اس کے ساتھ ساتھ چلے اور چل رہے ہیں۔ اس کے باوجود یہ نسل متفکر نہیں ہوتی بلکہ اُس اعتماد کے سہارے آگے بڑھتی ہے جو اپنے وسائل خود پیدا کرنے کے عزم سے میسر آتا ہے۔سب سے اہم خصوصیت اس نسل کی یہ ہے کہ پریشان دکھائی دینا اسے پسند نہیں۔ ’’مَیں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا‘‘ کے مصداق یہ زحمت کو رحمت میں بدلنے کیلئے تیار رہتی ہے اسی لئے جنتر منتر پر آپ نے دیکھا کہ اس نسل کے جتنے لوگ موجود تھے، سب محض دھرنا نہیں دے رہے تھے بلکہ انہوں نے دھرنے کو میلے میں تبدیل کرلیا تھا، کوئی ڈراما کررہا ہے، کوئی گیت گا رہا ہے، کوئی تقریر کررہا ہے، کوئی نعرے لگا رہا ہے، کوئی رقص کررہا ہے اور کوئی کسی اور ذریعہ سے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے اور دیگر کا دل بہلا رہا ہے۔ یہ ندرت سب نے دیکھی۔ اس جدت کا سب نے مشاہدہ کیا۔ دھرنے کو میلہ بنانے میں اس نسل نے اپنی اختراع پسندی اور ذہنی خلاقی کا ایسا ثبوت دیا کہ دیکھنے والے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے۔
یہ بھی پڑھئے: نئی نسل ہندوستان کی نئی امید
جنریشن زیڈ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس نے اپنا الگ ذخیرۂ الفاظ بنالیا اور نت نئی لفظیات اور فقروں کو اپنی گفتگو کا حصہ بنا کر یہ کمال بھی کیا کہ ایک عامیانہ بولی (Slang) ایجاد کرلی۔ مثلاً اس نسل کے نزدیک اظہارِ پسندیدگی کیلئے ’’پو‘کی‘‘، جھوٹ کیلئے ’’کیپ‘‘ سچ کیلئے ’’نوکیپ‘‘ اور کسی کو وجہ بتائے بغیر نظر انداز کرنے کی ادا کو ’’گھوسٹنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بولی ٹھیک نہیں ہے، اس کا زبان کی صحت اور معیار سےکوئی تعلق نہیں مگر اس نسل کو اتنا کریڈٹ تو دیا ہی جانا چاہئے کہ اس نے ٹک ٹاک، ویڈیو گیمس وغیرہ سے اخذ کی گئی غیر مانوس زبان کو آپسی گفتگو میں ذریعہ ٔ اظہار بنایا۔ مختصر یہ کہ کل تک سب نالاں تھے، آج ہر خاص و عام اس نسل کی تعریف کررہا ہے۔ ہندوستان میں اس نے ابھی ابھی ایک بڑی جنگ جیتی ہے۔