کسی ملک میں ایک بہت بڑا بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کی ایک اکلوتی بیٹی تھی۔ بہت ہی خوبصورت اور ہنس مکھ۔ ننھی منی شہزادی کا گورا چٹا چہرہ اور گھنگھریالے سنہری بال بہت ہی بھلے معلوم ہوتے تھے۔ وہ ہر وقت خوش و خرم رہتی۔
EPAPER
Updated: July 25, 2026, 3:27 PM IST | Imtiaz Ali Taj | Mumbai
کسی ملک میں ایک بہت بڑا بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کی ایک اکلوتی بیٹی تھی۔ بہت ہی خوبصورت اور ہنس مکھ۔ ننھی منی شہزادی کا گورا چٹا چہرہ اور گھنگھریالے سنہری بال بہت ہی بھلے معلوم ہوتے تھے۔ وہ ہر وقت خوش و خرم رہتی۔
کسی ملک میں ایک بہت بڑا بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کی ایک اکلوتی بیٹی تھی۔ بہت ہی خوبصورت اور ہنس مکھ۔ ننھی منی شہزادی کا گورا چٹا چہرہ اور گھنگھریالے سنہری بال بہت ہی بھلے معلوم ہوتے تھے۔ وہ ہر وقت خوش و خرم رہتی۔ لیکن یہ خوبصورت شہزادی ایک ٹانگ سے لنگڑی تھی۔ جب وہ ایک لاٹھی کے سہارے لنگڑاتی ہوئی چلتی تو بادشاہ کو بہت افسوس ہوتا۔ اُس نے بہت کوشش کیں۔ علاج کیلئے دور دور سے حکیم اور ڈاکٹر بلوائے۔ لیکن شہزادی کی ٹانگ درست نہ ہوئی۔
ایک رات بادشاہ نے خواب دیکھا۔ ایک پَری آکر اُس سے کہنے لگی ’’مَیں تجھے ایک بہت اچھی خبر سنانے آئی ہوں۔ تیری سلطنت میں ایک جگہ جادو کے جوتے ہیں۔ لیکن تو انہیں خود نہیں ڈھونڈ سکتا۔ ایک چھوٹا سا لڑکا وہ جوتے لائے گا۔ ان جوتوں کو پہننے سے شہزادی کی ٹانگ اچھی ہوجائے گی۔‘‘ یہ کہہ کر پَری غائب ہوگئی۔
بادشاہ خوش خوش اُٹھا اور حکم دیا کہ ساری سلطنت میں ڈھنڈورا پٹوا دو کہ اتوار کو شہزادی کی سالگرہ ہے۔ اُس دن سارے ملک کے لڑکوں کو دعوت ہوگی لیکن ایک شرط ہے۔ ہر لڑکا شہزادی کیلئے جوتوں کا ایک ایک جوڑا لے کر آئے۔ جس لڑکے کے پاس ضرورت کے مطابق جوتے نکلے اُس کے ساتھ شہزادی کی شادی کر دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: کہاوتوں کی کہانی: دودھ کا دودھ پانی کا پانی
اِس خبر سے سلطنت بھر میں ہل چل مچ گئی۔ جلدی جلدی عجیب غریب جوتے بنائے جانے لگے۔ سب لڑکے بڑی کوشش سے جوتے ڈھونڈنے اور بنوانے لگے۔ ہر ایک دل میں کہتا تھا کہ شاید میری ہی قسمت جاگ اُٹھے۔
شہر سے کچھ فاصلے پر ایک جنگل تھا۔ وہاں ایک بہت ہی غریب لڑکا تھا۔ اُس کا نام تو تھا کامگار مگر کھانے کو روٹی بھی نصیب نہ ہوتی تھی۔ سارا دن جنگل میں رہتا تھا۔ اس نے عمر بھر پیسہ کی صورت تک نہ دیکھی تھی۔ اس لئے اُس کے پاس جوتا تو کہاں سے آتا۔ کپڑے بھی پھٹ کر چیتھڑا ہو رہے تھے۔ لیکن وہ سوچنے لگا کہ اگر مجھے کہیں سے جوتے مل جائیں تو ایک بار تو ضرور بادشاہ کی دعوت میں جاؤں۔ وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اُس کے کان میں کھٹ کھٹ کی آواز پڑی۔ حیران ہو کر ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ کچھ دور پر ایک پَری نظر آئی۔ جو صندل کے ایک درخت کے نیچے بیٹھی چھوٹے چھوٹے خوبصورت جوتے گانٹھ رہی تھی۔
کامگار نے سُن رکھا تھا کہ اگر کوئی موچی پَری نظر آئے تو اُس کی طرف نظر جما کر دیکھتے رہنا چاہئے۔ نہیں تو وہ فوراً غائب ہوجاتی ہے۔ اس لئے اُس نے وہیں نظر گاڑے رکھی۔ جہاں وہ پَری بیٹھی جوتے گانٹھ رہی تھی۔ مگر پَریوں کو یہ بات بھی پسند نہیں کہ کوئی اُنہیں جوتے بناتے دیکھ لے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ پَریاں زمین میں جس جگہ اپنی دولت گاڑ کر رکھتی ہیں۔ وہیں بیٹھ کر جوتے گانٹھتی رہتی ہیں۔ کوئی جوتے گانٹھتے دیکھ لے تو پَریوں کو اندیشہ ہوجاتا ہے کہ کہیں یہ ہماری دولت نہ اُڑا لے۔ اِس لئے جب کامگار پَری کے پاس جا کر باتیں کرنے لگا تو وہ بہت ناراض ہوئی۔ جھنجھلا کر بولی ’’کم بخت تُو کہاں سے آمرا۔ ابھی اتنے بہت جوتے مرمت کرنے کو پڑے ہیں۔ نیا ایک بھی تیار نہیں ہوا۔ اوپر سے تو آن دھمکا۔‘‘
کامگار نے کہا ’’مجھے شہزادی کی دعوت میں جانا ہے۔ اور اُس کیلئے جوتوں کی ایک جوڑی لے جانی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تمہارے بنے ہوئے جوتے دُنیا بھر کے جوتوں سے اچھے ہوں گے۔ بس مجھے ایک اچھا سا جوڑا بنا دو۔ میرے پاس دام دینے کو پیسے تو ہیں نہیں۔ لیکن تمہیں ضرور کوئی ایسی ترکیب معلوم ہوگی جس سے کسی طرح مَیں تمہاری مہربانی کا بدلہ دے سکوں۔‘‘ یہ سُن کر پَری بولی ’’تُو بڑا کوئی کا ہے۔ ایسی طرح بات کرتا ہے کہ ڈانٹنے ڈپٹنے کو بھی جی نہیں چاہتا۔ اچھا سنو! سامنے کے جنگل میں جادو کے کنول اُگتے ہیں۔ اگر تُو مجھے تین کنول وہاں سے لا دے تو مَیں تیرے لئے جوتوں کی جوڑی کا بندوبست کر دوں گی۔‘‘ کامگار نے پوچھا ’’کنول کیسے ہوتے ہیں؟‘‘ لیکن پَری نے کچھ جواب نہ دیا۔ چُپ چاپ بیٹھی اپنا کام کرتی رہی۔ جیسے کسی نے منہ سی دیا ہو۔
بے چارہ کامگار نااُمید ہو کر جنگل کی طرف چلا۔ راستے میں اُسے ایک ہنس ملا۔ جس کے پاؤں میں کانٹا چبھا ہوا تھا۔ کامگار نے کانٹا نکال دیا۔ اور پوچھنے لگا ’’تمہیں معلوم ہے۔ جادو کے کنول کہاں اُگتے ہیں؟‘‘ لیکن ہنس نے قیں قاں کرکے سَر ہلا دیا۔ گویا کہ ہمیں معلوم نہیں۔
کامگار اور بھی اداس اور ناامید ہوگیا۔
آگے چلا تو ایک گلہری ملی۔ وہ شکاری کے جال میں پھنسی ہوئی تڑپ رہی تھی۔ کامگار نے گلہری کو جال سے چھڑا کر پوچھا ’’تمہیں معلوم ہے۔ جادو کے کنول کہاں اُگتے ہیں؟‘‘ افسوس کہ گلہری کو بھی کچھ پتہ نہ تھا۔ اُس نے بھی ’چک چک‘ کرکے سَر ہلا دیا۔ اتنے میں ایک بھوکا عقاب کسی جانور پر جھپٹا۔ اور جھٹ اُسے پنجوں میں دبوچ لیا۔ بے چارہ ننھا سا جانور اس کا مقابلہ کیا کرتا؟ چیں چیں کرنے اور تڑپنے لگا۔
کامگار نے ایک ڈھیلا اُٹھا کر زور سے عقاب کے دے مارا۔ اور شور مچانے لگا۔ عقاب گھبرا کر اُڑ گیا۔ اور ایک جنگلی کبوتر اُس کے پنجے سے چھوٹ کر کامگار کے سامنے آگرا۔
کبوتر ادھ موا سا ہو رہا تھا۔ کامگار نے اُسے اُٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ جب گرمی پہنچنے سے اُس کو ذرا ہوش آیا۔ تو کامگار نے درخت پر چڑھ کر کبوتر کو اُس کے گھونسلے میں رکھ دیا۔
اِس کبوتر کی بڑھیا ماں گھبرائی ہوئی اِدھر اُدھر اُڑتی پھرتی تھی۔ کامگار نے اُس سے پوچھا ’’تمہیں معلوم ہے جادو کے کنول کہاں اُگتے ہیں؟‘‘ کبوتری غٹر غوں غٹر غوں کرتی اُڑی۔ اور دو چار منٹ میں واپس آگئی۔ اُس کی چونچ میں کنول کے تین پھول تھے۔ ایک سنہری، دوسرا چاندی جیسا سفید اور تیسرا لال رنگ کا۔ اُس نے تینوں پر پھول کامگار کو دے دیئے۔ اور پھر غٹر غوں غٹر غوں کرنے لگی۔ کامگار پھول پا کر خوش خوش پَری کی طرف چلا۔ خوشی کے مارے اس قدر مست ہو رہا تھا کہ اُسے معلوم بھی نہ ہوا کہ اُسکے تینوں دوست ہنس، گلہری اور کبوتر اُسکے ساتھ ساتھ آرہے ہیں۔
پَری وہاں نہ تھی۔ تھوڑی دیر کیلئے کہیں اُٹھ کر چلی گئی تھی۔ اور اُس کی غیر حاضری میں دو چور اُس کا خزانہ لوٹ رہے تھے۔ اتنے میں کامگار وہاں پہنچ گیا۔ اسے اکیلا دیکھتے ہی دونوں اس پر جھپٹ پڑے۔ انہوں نے تو اسی وقت کامگار کا خاتمہ کر دیا ہوتا۔ لیکن ہنس نے بڑھ کر دونوں کے پاؤں پر اِس زور سے ٹھونگیں ماریں کہ درد سے بلبلا اُٹھے۔ پھر گلہری نے جھپٹ کر اُن کے ہاتھ کاٹ کھائے۔ اتنے میں کبوتری آکر اُن کی آنکھوں کے سامنے پھڑپھڑانے لگی۔ جس سے اُن کو کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ وہ بہت گھبرائے کہ یہ کن مصیبتوں نے آلیا۔ ادھر اوپر سے پَری بھی آپہنچی۔ وہ اُنہیں دیکھتے ہی لال پیلی ہو کر بولی ’’شیطانو! خیر چاہتے ہو تو دُم دبا کر بھاگ جاؤ۔ ورنہ ابھی تم کو پتھر بنا دوں گی۔‘‘ پھر کیا تھا۔ چور سَر پر پاؤں رکھ کر ایسے بھاگے کہ جنگل سے باہر جا کر دم لیا۔ اُن کے جانے کے بعد کامگار نے کہا ’’مَیں کنول کے پھول تو لے آیا تھا۔ لیکن افسوس چوروں سے گتھم گتھا ہونے میں سب خراب ہوگئے۔‘‘ پَری نے کہا ’’تم نے میرا خزانہ بچا دیا۔ اب مَیں بھی تمہاری مدد کروں گی۔ دیکھو وقت بہت کم ہے۔ کل شہزادی کی سالگرہ ہے۔ اس لئے آج ہی چلے جاؤ۔ وہاں جا کر سنہری اور سفید پھول شہزادی کے پاؤں سے لگا دینا۔ اور لال اپنے پاس رکھنا۔ جب وہ تمہارے ساتھ یہاں آجائے تو اُس وقت اس لال پھول کو اپنے سَر پر رکھ لینا۔‘‘
کامگار اسی وقت محل کی طرف چل پڑا۔ وہ بھوکا پیاسا محل کی طرف بھاگا۔ وہاں جا کر چپ چاپ ایک کونے میں کھڑا ہوگیا۔ اور عالی شان محل کو دیکھ دیکھ کر حیران ہونے لگا۔ محل کے دروازے پر لڑکوں کی ایک بھیڑ لگ رہی تھی۔ آخر ایک خدمتگار سب لڑکوں کو بادشاہ کے سامنے لے گیا۔
شہزادی بہت ہی خوبصورت پوشاک پہنے ایک آرام کرسی پر بیٹھی تھی۔ لڑکے باری باری آتے اور اپنے اپنے جوتے شہزادی کو پہناتے جاتے۔ شہزادی پہلے تو اِس تماشے پر بہت ہنسی لیکن جلدی ہی تھک کر تنگ آگئی۔ کیونکہ لاکھوں جوتے تھے۔ غرض ہر رنگ اور ہر شکل کے جوتے لائے گئے تھے۔ مگر شہزادی لنگڑی کی لنگڑی رہی۔
جب سب جوتے پہنائے جاچکے۔ شہزادی کی ٹانگ ویسی ہی رہی۔ تو بادشاہ بہت غمگین ہوا۔ ناامیدی سے آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ لیکن یکایک اُس کی نگاہ کامگار پر پڑی جو ایک کونے میں دبکا سکڑا کھڑا تھا۔ اُسے دیکھتے ہی بادشاہ نے کہا ’’یہ ننگے پاؤں کون لڑکا کھڑا ہے؟ کیوں بھئی لڑکے! تم کوئی جوتا نہیں لائے؟ اگر خالی ہاتھ آئے ہو تو اب چلے جاؤ۔‘‘ لیکن کامگار دوڑ کر شہزادی کے پاس جا پہنچا۔ اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اُسکے ننھے منے خوبصورت پیروں پر اپنے دونوں پھول رکھ دیئے۔ پھول رکھتے ہی پہلے تو شہزادی کا سارا جسم کانپنے لگا۔ پھر وہ یکایک ہنستی ہوئی اُٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ دیکھا تو اُس کی ٹانگ اچھی ہوچکی تھی!
پہلے تو اُس نے بادشاہ کے تخت کے پاس جا کر بادشاہ کو سلام کیا۔ اور پھر خوشی سے ناچنے لگی۔ اُس وقت وہ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت معلوم ہوتی تھی۔ ناچتے ناچتے شہزادی نے کامگار کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اور دونوں اُچھلتے کودتے محل سے نکل کر جنگل کی طرف بھاگے۔
شہزادی کی انّا پیچھے دوڑی۔ اور اُن کو پکڑ لیا۔ مگر اتنے میں کبوتری آکراُس کی آنکھوں کے پاس پھڑپھڑانے لگی۔ اب انّا کو کچھ بھی نظر نہ آتا تھا۔ اس لئے یہ دونوں چھوٹ کر پھر بھاگ نکلے۔
وہ دونوں پھر ناچتے ہوئے جنگل کی طرف چل دیئے جہاں کامگار رہا تھا۔ پَری وہیں بیٹھی جوتے گانٹھ رہی تھی۔ اُسے دیکھتے ہی شہزادی ٹھہر گئی۔ پَری بولی ’’کامگار! وہ لال کنول کہاں ہے؟ لاؤ۔‘‘ پھول کے چھوتے ہی کامگار ایک نہایت خوبصورت شہزادہ بن گیا۔ اُس کے پھٹے پرانے مخمل کے ہوگئے۔ جن پر سنہری کام کیا ہوا تھا۔
ننھی شہزادی نے پیار سے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اور بولی ’’اب تو تم بڑے خوبصورت بن گئے! لیکن مجھے تم پہلے بھی اتنے ہی پیارے معلوم ہوتے تھے۔‘‘