Inquilab Logo Happiest Places to Work

پرندوں کی پکار

Updated: May 09, 2026, 3:51 PM IST | Atif Adnan Sheikh Sadiq | Mumbai

شہر کی بلند عمارتوں کے درمیان ایک پرانا برگد کا درخت کھڑا تھا۔ یہی درخت کئی پرندوں کا سہارا اور گھر تھا۔ اس کی شاخوں پر چڑیا، کبوتر، مینا، فاختہ اور ایک بوڑھاکوا رہتے تھے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

گرمیوں کا موسم پورے شباب پر تھا۔ سورج کی تیز دھوپ زمین کو گرم بنا چکی تھی، گرم ہوائیں ہر طرف چل رہی تھیں اور ہر شے مرجھائی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ درختوں کے پتے سوکھ رہے تھے، ندی نالے بھی سوکھ چکے تھے اور پانی کی قلت ہر طرف محسوس ہو رہی تھی۔ انسان تو اپنے گھروں میں پنکھے، کولر اور ٹھنڈے پانی سے آرام کر لیتا ہے مگر بے زبان پرندے کھلے آسمان کے نیچے سخت گرمی، پیاس اور بھوک کا سامنا کر رہے تھے۔ نہ انہیں کہیں آسانی سے پانی ملتا تھا، نہ دانہ، اور نہ ہی سایہ دار جگہ۔ 
شہر کی بلند عمارتوں کے درمیان ایک پرانا برگد کا درخت کھڑا تھا۔ یہی درخت کئی پرندوں کا سہارا اور گھر تھا۔ اس کی شاخوں پر چڑیا، کبوتر، مینا، فاختہ اور ایک بوڑھاکوا رہتے تھے۔ پہلے ہر صبح ان کی میٹھی چہچہاہٹ سے ماحول گونج اٹھتا تھا مگر اب ان کی آوازوں میں خوشی کم اور فکر زیادہ تھی۔ ہر نیا دن ان کے لئے ایک نئی آزمائش بن چکا تھا۔ 
ایک صبح چڑیا نے تھکی ہوئی آواز میں کہا، ’’میں کل صبح سے پانی ڈھونڈ رہی ہوں مگر کہیں ایک قطرہ بھی نہیں ملا۔ میرے بچے پیاس سے بے حال ہیں۔ ‘‘
کبوتر نے افسوس کرتےہوئے کہا، ’’پہلے لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر پانی رکھتے تھے، دانہ ڈالتے تھے مگر اب سب اپنی دنیا میں مصروف ہیں۔ کسی کو ہماری فکر نہیں۔ ‘‘
مینا نے پر جھٹکتے ہوئے کہا، ’’صرف پانی نہیں، اب درخت بھی کم ہو گئے ہیں۔ جہاں کبھی باغ ہوا کرتے تھے، وہاں اب عمارتیں، بازار اور سڑکیں ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: اٹکن بٹکن

بوڑھا کوا جو سب سے زیادہ سمجھدار تھا، آہستہ سے بولا، ’’میرے بچو! ہم پرندے صرف گرمی سے نہیں، انسانوں کی بے احتیاطی سے بھی پریشان ہیں۔ ‘‘
فاختہ نے پوچھا، ’’وہ کیسے؟‘‘
کوّا بولا، ’’جب درخت کاٹے جاتے ہیں تو ہمارے گھر ختم ہو جاتے ہیں۔ جب کھیتوں میں زہریلی دوائیں چھڑکی جاتی ہیں تو کیڑے مکوڑے مر جاتے ہیں اور ہماری خوراک کم ہو جاتی ہے۔ جب ہر طرف شور ہوتا ہے تو ہم ایک دوسرے کی آواز نہیں سن پاتے۔ جب تالاب، ندی اور کنویں سوکھتے ہیں تو ہمیں پانی نہیں ملتا۔ ‘‘
چڑیا نے دکھ سے کہا، ’’اور کچھ بچے ہمارے گھونسلے توڑ دیتے ہیں، پتھر مارتے ہیں اور ہمیں کھیل سمجھتے ہیں۔ ‘‘
کبوتر نے کہا، ’’بجلی کے تار، گاڑیوں کا دھواں، پلاسٹک کا کچرا، سب ہمارے لئے خطرہ ہیں۔ کئی پرندے تاروں سے ٹکرا کر زخمی ہو جاتے ہیں، کچھ پلاسٹک کھا کر بیمار پڑ جاتے ہیں۔ ‘‘
اسی وقت فاختہ بولی، ’’میں کل گاؤں سے آئی ہوں۔ وہاں ابھی بھی کھیت ہیں، درخت ہیں، کھلی ہوا ہے، مگر وہاں بھی اب پانی کم ہو رہا ہے۔ ‘‘
مینا نے پوچھا، ’’اور شہر کیسا ہے؟‘‘
فاختہ نے جواب دیا، ’’شہر میں گرمی زیادہ ہے، شور زیادہ ہے، دھواں زیادہ ہے اور سایہ کم ہے۔ گاؤں میں سکون ہے مگر لوگ وہاں بھی درخت کاٹتے رہے تو فرق ختم ہو جائے گا۔ ‘‘
سب پرندے خاموش ہو گئے۔ دھوپ تیز ہوتی جا رہی تھی۔ 
اچانک چڑیا کو ایک چھت پر مٹی کا برتن دکھائی دیا جس میں صاف پانی بھرا تھا۔ وہ خوشی سے وہاں اڑی، پانی پیا، پھر اپنے بچوں کو بلا لیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: یادگار پکنک

وہ گھر ایک نیک دل لڑکے زید کا تھا۔ زید ہر روز صبح اپنی چھت پر پانی اور دانہ رکھتا تھا۔ اس نے پرندوں کو دیکھا تو خوشی سے بولا، ’’امی! دیکھیں، پرندے ہمارے رکھے ہوئے پانی سے پیاس بجھا رہے ہیں !‘‘
امی نے محبت سے کہا، ’’بیٹا، یہی اصل انسانیت ہے کہ جو خود بول نہ سکے، اس کی مدد ضرور کی جائے۔ ‘‘
زید نے یہ بات دل میں بٹھا لی۔ اگلے دن اس نے اپنے دوستوں کو بلایا اور ان سے کہا، ’’اگر ایک گھر پانی رکھ سکتا ہے تو پورا محلہ کیوں نہیں ؟ اگر ہم سب مل کر پرندوں کی مدد کریں تو کتنی جانیں بچ سکتی ہیں۔ ‘‘سب دوست تیار ہو گئے۔ کسی نے مٹی کے پیالے رکھے، کسی نے چاول ڈالے، کسی نے باجرہ رکھا، کسی نے گملوں میں پودے لگائےاور کسی نے درختوں کو پانی دیا۔ چند ہی دنوں میں پورا محلہ دھیرے دھیرے بدلنے لگا۔ 
جہاں پہلے خاموشی تھی، وہاں اب چہچہاہٹ تھی۔ جہاں پہلے صرف گرمی تھی، وہاں اب سایہ بڑھنے لگا۔ جہاں پہلے بے رحمی تھی، وہاں اب محبت نظر آنے لگی۔ 
چڑیا خوشی سے بولی، ’’میرے بچے اب پیاسے نہیں سوتے۔ ‘‘
اس موقع پر کبوتر نے کہا، ’’مجھے پھر سے دانہ ملنے لگا ہے۔ ‘‘
مینا نے مسکرا کر کہا، ’’یہ بچے ہم سے زیادہ سمجھدار نکلے۔ ‘‘
فاختہ بولی، ’’اگر شہر کے لوگ چاہیں تو شہر بھی باغ بن سکتا ہے۔ ‘‘
بوڑھا کوّا آسمان کی طرف دیکھ کر بولا، ’’انسان اگر چاہے تو زمین جنت بن سکتی ہے اور اگر غفلت کرے تو ویران بھی۔ ‘‘
شام کے وقت جب سورج ڈوب رہا تھا اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، سب پرندے برگد کے درخت پر جمع ہوئے۔ انہوں نے ایک ساتھ پر پھیلائے اور آسمان کی طرف اڑ گئے۔ ان کی آواز گویا دعا تھی۔ 
پرندے گرمی، پانی کی کمی، درختوں کی کٹائی، شور، آلودگی، زہریلی دواؤں اور انسانوں کی لاپروائی سے پریشان ہیں۔ اگر ہر گھر ایک برتن پانی رکھ دے، تھوڑا سا دانہ ڈال دے اور ایک درخت لگا دے تو ہزاروں جانیں بچ سکتی ہیں۔ دنیا صرف انسانوں کی نہیں، سب جانداروں کی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK