Inquilab Logo Happiest Places to Work

موبائل کی قید

Updated: August 22, 2026, 1:24 PM IST | Atif Adnan Shaikh Sadiq | Shahu Nagar, Jalgaon

موبائل فون کا بہت زیادہ استعمال کرنے والے بچوں کیلئے سبق آموز کہانی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

شہر کے ایک پُرسکون محلے میں بارہ سال کا ایک لڑکا رہتا تھا، جس کا نام امن تھا۔ امن ایک نہایت ذہین، خوش مزاج اور شرارتی بچہ تھا۔ اس کے استاد اکثر کہا کرتے تھے، ’’اگر امن اسی طرح محنت کرتا رہا تو ایک دن ضرور بڑا انسان بنے گا۔‘‘

امن کو کرکٹ کھیلنا بہت پسند تھا۔ وہ شام ہوتے ہی اپنے دوستوں کے ساتھ گلی میں بیٹ اور بال لے کر نکل جاتا۔ کبھی کبڈی کھیلتا، کبھی ہاکی، کبھی فٹ بال تو کبھی سائیکل چلاتا۔ وہ اسکول وقت پر جاتا، ہوم ورک مکمل کرتا اور گھر آ کر والدین کی بھی مدد کرتا تھا۔ گھر میں ہر طرف خوشی کا ماحول رہتا تھا۔

ایک دن امن کے والد نے اس کی خوشی کے لئے اسے ایک نیا اسمارٹ فون خرید کر دیا۔ انہوں نے سوچا کہ اس سے امن آن لائن پڑھائی بھی کرے گا اور نئی نئی معلومات حاصل کرے گا۔ شروع کے چند دن واقعی ایسا ہی ہوا۔ امن تعلیمی ویڈیوز دیکھتا، انگریزی کے نئے الفاظ سیکھتا اور سائنس کے تجربات جانتا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ سب کچھ بدلنے لگا۔

یہ بھی پڑھئے: اکبر اور بیربل کے دو دلچسپ قصے

ایک دن اس کے ایک دوست نے اسے ایک مشہور موبائل گیم دکھائی۔ امن نے صرف چند منٹ کھیلنے کے لئے گیم کھولی، مگر وہ چند منٹ کئی گھنٹوں میں بدل گئے۔ اسے ہر لیول جیتنے کا شوق ہونے لگا۔ جب ایک لیول مکمل ہوتا تو دوسرا سامنے آ جاتا، پھر تیسرا، پھر چوتھا۔

اب امن رات دیر تک موبائل استعمال کرنے لگا۔ صبح الارم بجتا مگر وہ بند کرکے دوبارہ سو جاتا۔ ماں کئی بار آواز دیتیں، ’’امن! اسکول کا وقت ہو گیا۔‘‘ امن جواب دیتا، ’’امی! آج طبیعت ٹھیک نہیں، آج نہیں جاؤں گا۔‘‘

شروع میں والدین نے سوچا کہ شاید واقعی طبیعت خراب ہوگی، لیکن یہ بہانہ روز کا معمول بن گیا۔

اب نہ اسے کرکٹ یاد رہی، نہ کبڈی، نہ ہاکی، نہ فٹ بال۔ گلی میں دوست اسے آواز دیتے، مگر وہ کہتا، ’’تم لوگ کھیل لو، مَیں ابھی آتا ہوں۔‘‘ مگر وہ ’ابھی‘ کبھی نہیں آتا تھا۔

اس کی نظریں ہر وقت موبائل کی اسکرین پر جمی رہتیں۔ کھانا کھاتے وقت موبائل، سوتے وقت موبائل، جاگتے وقت موبائل، یہاں تک کہ رشتہ داروں کے گھر بھی جاتا تو سب سے پہلے وائی فائی کا پاس ورڈ پوچھتا۔

ایک دن اس کے دادا جان نے افسوس سے کہا، ’’بیٹا! پہلے بچے میدانوں میں کھیلتے تھے، ہنستے تھے، دوڑتے تھے، دوست بناتے تھے۔ آج کل بچوں کی دنیا صرف ایک چھوٹی سی اسکرین میں قید ہو گئی ہے۔‘‘

مگر امن نے ان کی بات پر کوئی توجہ نہ دی۔

چند مہینے گزر گئے۔

یہ بھی پڑھئے: جب مَیں گم ہوگیا تھا

امتحانات قریب آ گئے، لیکن امن نے کتابیں تک نہ کھولیں۔ اسے یقین تھا کہ جیسے تیسے امتحان گزر جائیں گے۔

جب نتیجہ آیا تو امن دو اہم مضامین میں فیل ہوگیا۔

وہ خاموش کھڑا اپنا رپورٹ کارڈ دیکھ رہا تھا۔ اس کے دوست، جو پہلے اس کے ساتھ کھیلتے تھے اور وقت پر پڑھائی بھی کرتے تھے، اچھے نمبروں سے کامیاب ہوگئے تھے۔

گھر پہنچ کر امن کی ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ والد خاموش تھے۔ انہوں نے ڈانٹنے کے بجائے صرف ایک سوال پوچھا:

’’بیٹا... اگر تم نے یہی وقت اپنی کتابوں پر لگایا ہوتا جو موبائل پر لگایا، تو کیا آج یہ نتیجہ آتا؟‘‘

امن کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

اسی رات اس کے دادا جان اسے گھر کی چھت پر لے گئے۔ آسمان پر بے شمار ستارے چمک رہے تھے۔

دادا جان بولے، ’’امن! جب مَیں تمہاری عمر کا تھا تو ہمارے پاس موبائل نہیں تھا۔ ہم کھیلتے تھے، پڑھتے تھے، بزرگوں کی باتیں سنتے تھے، دوستوں کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ اسی لئے ہمارے جسم بھی مضبوط تھے اور ذہن بھی۔ موبائل برا نہیں، لیکن جب یہ انسان کے وقت، تعلیم اور رشتوں پر قبضہ کر لے تو یہ خاموش دشمن بن جاتا ہے۔‘‘ یہ الفاظ امن کے دل میں اتر گئے۔

اگلے دن اس نے ایک بڑا فیصلہ کیا۔ اس نے موبائل سے غیر ضروری گیمز اَن انسٹال کر دیئے، سوشل میڈیا کا وقت محدود کر دیا اور روزانہ صرف مقررہ وقت پر ہی موبائل استعمال کرنے لگا۔ اس نے ایک ٹائم ٹیبل بنایا۔

صبح وقت پر اٹھنا... اسکول جانا... ہوم ورک مکمل کرنا... شام کو ایک گھنٹہ کھیلنا... گھر والوں کے ساتھ بیٹھنا... اور پھر صرف تھوڑی دیر موبائل استعمال کرنا۔

شروع میں اسے بہت مشکل ہوئی۔ بار بار دل کرتا کہ موبائل اٹھا لے، مگر ہر بار اسے والد کے الفاظ یاد آ جاتے۔

چند ہفتوں بعد حیرت انگیز تبدیلی نظر آنے لگی۔

امن دوبارہ میدان میں کھیلنے لگا۔ دوڑنے سے اس کی صحت بہتر ہوئی۔ دوست بھی خوش ہوگئے۔ اس کی پڑھائی میں دلچسپی واپس آگئی۔ اساتذہ نے بھی محسوس کیا کہ امن پہلے سے زیادہ توجہ دے رہا ہے۔

چند ماہ بعد دوبارہ امتحانات ہوئے۔

اس بار امن نے محنت کی تھی۔

نتیجہ آیا تو وہ اپنی جماعت کے بہترین طلبہ میں شامل تھا۔

اس کے والدین کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ دادا جان نے اسے گلے لگا کر کہا، ’’دیکھا بیٹا! کامیابی کسی شارٹ کٹ سے نہیں، بلکہ وقت کی قدر اور محنت سے ملتی ہے۔‘‘

امن نے مسکرا کر جواب دیا، ’’دادا جان! اب میں سمجھ گیا ہوں کہ موبائل میرا نوکر ہونا چاہئے، مالک نہیں۔‘‘

یہ بات سن کر سب خوش ہوگئے۔

کچھ دن بعد اسکول میں ’’موبائل کا صحیح استعمال‘‘ کے موضوع پر تقریری مقابلہ رکھا گیا۔

امن نے اپنی سچی کہانی سب کے سامنے سنائی۔ اس نے بتایا کہ کس طرح ایک چھوٹی سی عادت آہستہ آہستہ زندگی، تعلیم، صحت اور رشتوں کو متاثر کر دیتی ہے، اور کس طرح وقت پر سنبھل جانے سے زندگی دوبارہ بدل سکتی ہے۔

اس کی تقریر سن کر پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔

اس دن کئی والدین نے گھر جا کر اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ صرف موبائل چھین لینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ بچوں کو وقت دینا، ان کے ساتھ کھیلنا، ان کی پڑھائی پر توجہ دینا اور ان سے محبت سے بات کرنا بھی ضروری ہے۔

کئی بچوں نے اپنے موبائل کا وقت کم کیا، دوبارہ کھیل کے میدانوں کا رخ کیا اور اپنی تعلیم پر توجہ دینا شروع کر دی۔

وقت گزرتا گیا۔

امن بڑا ہو کر ایک کامیاب انجینئر بنا، لیکن وہ آج بھی ہر اسکول میں جا کر بچوں اور والدین کو یہی پیغام دیتا ہے:

’’ٹیکنالوجی انسان کی خدمت کے لئے ہے، انسان ٹیکنالوجی کی غلامی کے لئے نہیں۔ اگر بچپن صرف اسکرین پر گزر جائے تو زندگی کی سب سے خوبصورت یادیں چھن جاتی ہیں۔‘‘

اس کی بات سن کر اکثر والدین کی آنکھیں نم ہو جاتیں کیونکہ انہیں احساس ہوتا کہ بچوں کو صرف اچھا موبائل دینا کافی نہیں، بلکہ اپنا وقت، محبت، رہنمائی اور توجہ دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK