Updated: May 09, 2026, 4:06 PM IST
| New York
ہنٹا وائرس سے متاثرہ کروز شپ کے مسافروں کے انخلا کیلئے عالمی ادارۂ صحت اور ہسپانوی حکام نے ہنگامی اقدامات تیز کر د یئے ہیں، جبکہ ٹینیرائف میں بڑے آپریشن کی تیاریاں جاری ہیں۔ ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ہنٹا وائرس کووڈ کی طرح تیزی سے منتقل نہیں ہوتا اور صورتحال قابو میں ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گریبیسس۔ تصویر: آئی این این
عالمی ادارۂ صحت( ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل Tedros Adhanom Ghebreyesus اسپین کے جزائرِ کینری کے سب سے بڑے جزیرے ٹینیرائف روانہ ہوں گے تاکہ ہنٹا وائرس سے متاثرہ کروز شپ کے مسافروں کے انخلا کے عمل کی نگرانی اور رابطہ کاری کر سکیں۔ آئرش سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی ای نے جمعہ کے روز وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی۔ ٹیڈروس ہسپانوی وزرائے صحت اور داخلہ کے ساتھ جزیرے میں قائم کمانڈ پوسٹ میں شامل ہوں گے تاکہ مختلف اداروں کے درمیان رابطہ، طبی نگرانی اور طے شدہ حفاظتی و ردعمل کے پروٹوکول پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ علاقائی حکام کے مطابق کینری جزائر میں خراب موسم کے باعث انخلا کا عمل اتوار اور پیر کے درمیان مکمل کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہنٹا وائرس: ۵ ممالک میں الرٹ، ڈبلیو ایچ او کی مزید کیسز کی وارننگ؛ صورتحال قابو میں ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
علاقائی حکومت کے ترجمان الفانسو کابیو کے مطابق:’’ہمارے پاس اس آپریشن کو انجام دینے کیلئے واحد موقع اتوار دوپہر بارہ بجے کے آس پاس سے پیر تک ہے، اس کے بعد موسمی حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے بتایا کہ تیز ہواؤں اور سمندر میں اونچی لہروں کے باعث جہاز کو روانہ کرنا ضروری ہے، جبکہ خدشہ ہے کہ مئی کے آخر تک مزید آپریشن ممکن نہ ہو سکیں۔ توقع ہے کہ جہاز اتوار کی صبح ٹینیرائف کے ساحل کے قریب پہنچے گا اور سمندر میں لنگر انداز ہوگا، جہاں سے مسافروں کو چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ساحل پر لا کر ہوائی اڈے منتقل کیا جائے گا تاکہ انہیں ان کے ممالک واپس بھیجا جا سکے۔ حکام کے مطابق اس آپریشن میں ۲۳؍ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً ۱۵۰؍مسافر اور عملے کے ارکان شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات
اس صورتحال نے عالمی تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ اپریل میں ارجنٹائنا سے روانگی کے بعد جہاز میں اب تک تین اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ اس سے قبل کیپ وردے کے قریب بھی بعض افراد کو نکالا گیا تھا، جبکہ یورپی یونین کے ممالک اپنے شہریوں کی واپسی کیلئے باہمی تعاون کریں گے۔ اس وبا سے منسلک دو نئے مشتبہ ہنٹا وائرس کیسز اسپین اور ٹرسٹن ڈا کونہا میں رپورٹ ہوئے ہیں، تاہم عالمی ادارۂ صحت مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ عام عوام کیلئے خطرہ کم ہے۔ امریکی ادارۂ صحت سی ڈی سی نے اس ہنٹا وائرس پھیلاؤ کو ’’لیول ۳‘‘ ایمرجنسی قرار دیا ہے، جو ہنگامی ردعمل کی سب سے نچلی سطح ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہازوں اور ایرانی فورسیزکے درمیان فائرنگ
عالمی ادارۂ صحت کے حکام کے مطابق اینڈیز قسم کے ہنٹا وائرس کے اس پھیلاؤ میں اب تک پانچ تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں تین اموات شامل ہیں۔ واضح رہے کہ ایم وی ہونڈیئس نامی جہاز، جس میں تقریباً ۱۵۰؍مسافر اور عملہ سوار تھا، ارجنٹائناسے روانہ ہوا تھا اور بحرِ اوقیانوس عبور کرتے ہوئے کیپ وردے کے قریب پہنچنے پر سانس کی بیماریوں کے متعدد کیسز رپورٹ ہوئے۔
ہنٹا وائرس آسانی سے منتقل نہیں ہوتا، کووڈ کی طرح نہیں ہے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو عوام کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’صورتحال کافی حد تک قابو میں نظر آتی ہے۔ ماہرین اس وائرس کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ یہ کافی عرصے سے موجود ہے اور کووڈ کی طرح آسانی سے نہیں پھیلتا، لیکن ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’ہمارے بہترین ماہرین اس کا بغور مطالعہ کر رہے ہیں، اور ہمیں امید ہے کہ یہی حقیقت ہوگی۔ ‘‘