ڈنمارک کے معروف مصنف ہینس کرسچین اینڈرسن کی شہرہ آفاق کہانی’’دی اسٹیڈ فاسٹ ٹین سولجر‘‘The Steadfast Tin Soldierکا اردو ترجمہ۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 6:47 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
ڈنمارک کے معروف مصنف ہینس کرسچین اینڈرسن کی شہرہ آفاق کہانی’’دی اسٹیڈ فاسٹ ٹین سولجر‘‘The Steadfast Tin Soldierکا اردو ترجمہ۔
شہر کے ایک خوشحال اور پُرسکون محلے میں ایک خوبصورت مکان تھا جہاں ایک ننھا سا لڑکا اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔ اس دن گھر میں غیر معمولی رونق تھی کیونکہ لڑکے کی سالگرہ تھی۔ صبح ہی سے رشتہ داروں اور دوستوں کی آمدورفت جاری تھی اور مختلف رنگوں کے کاغذوں میں لپٹے تحفے ایک بڑی میز پر جمع ہو رہے تھے۔ لڑکا ہر نئے تحفے کو تجسس اور خوشی کے ساتھ کھولتا اور پھر اگلے تحفے کی طرف متوجہ ہو جاتا۔ ان تمام تحفوں کے درمیان ایک چھوٹا سا ڈبہ بھی تھا۔ جب اسے کھولا گیا تو اس کے اندر ٹین کے پچیس سپاہی ترتیب سے رکھے تھے۔ سبھی کی وردیاں ایک سی تھیں، ہاتھوں میں بندوقیں تھیں اور چہروں پر وہی سنجیدگی اور وقار جو کسی فرض شناس سپاہی کی پہچان ہوتا ہے۔ ان میں ایک سپاہی باقیوں سے مختلف تھا۔ اس کی صرف ایک ٹانگ تھی۔ کہتے ہیں کہ اسے ڈھالتے وقت ٹین (دھات) کم پڑ گیا تھا اور یوں وہ ادھورا رہ گیا۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ ایک ٹانگ پر اتنی مضبوطی سے کھڑا تھا کہ دیکھنے والے کو محسوس ہوتا جیسے قدرت نے اسے کسی خاص مقصد کیلئے دوسروں سے مختلف بنایا ہو۔ لڑکے نے تمام سپاہیوں کو اپنے کمرے کی ایک بڑی میز پر سجا دیا۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: تیر انداز
اس میز پر اور بھی کھلونے تھے۔ ایک طرف لکڑی کا گھوڑا تھا، دوسری جانب رنگ برنگی کتابیں جبکہ درمیان میں ایک نہایت خوبصورت کاغذی محل ایستادہ تھا۔ اس محل کو اتنی نفاست سے بنایا گیا تھا کہ پہلی نظر میں وہ کسی حقیقی شاہی عمارت کا نمونہ معلوم ہوتا تھا۔ محل کی اصل دلکشی اس کے سامنے کھڑی ایک رقاصہ تھی جو کاغذ کی تھی لیکن اس کے لباس، انداز اور سراپے میں ایسی نزاکت تھی کہ دیکھنے والا بے اختیار اس کی طرف متوجہ ہو جاتا۔ اس کے جسم پر نہایت باریک اور خوبصورت لباس تھا۔ کندھے پر نیلے رنگ کا ایک ربن بندھا تھا جس کے درمیان ایک ستارہ جگمگا رہا تھا۔ وہ رقص کے ایک دلکش انداز میں ایک ٹانگ پر کھڑی تھی جبکہ دوسری ٹانگ اس طرح پیچھے مڑی ہوئی تھی کہ سامنے سے نظر نہیں آتی تھی۔ جب ایک ٹانگ والے سپاہی کی نظر اس پر پڑی تو وہ اسے دیکھتا رہ گیا۔ اگرچہ وہ ایک کھلونا تھا اور کھلونوں کے جذبات کا اظہار ممکن نہیں ہوتا، لیکن اس لمحے اس کے دل میں ایک ایسا احساس پیدا ہوا جو اس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ اسے یوں لگا جیسے دنیا میں پہلی بار اسے کوئی ایسا وجود دکھائی دیا ہو جو اس کی اپنی تنہائی اور اس کے ادھورے پن کو سمجھ سکتا ہو۔
لڑکا دن بھر نئے کھلونوں سے کھیلتا رہا۔ ایک ٹانگ والا سپاہی اپنی جگہ خاموشی سے کھڑا رہا، لیکن اس کی نظریں بار بار رقاصہ کی طرف اٹھ جاتی تھیں۔ شام ڈھلتے ڈھلتے گھر کی رونقیں مدھم پڑنے لگیں۔ آخرکار وہ وقت بھی آ گیا جب پورا گھر گہری نیند میں ڈوب گیا۔
رات کے سناٹے میں بچوں کا کمرہ پراسرار خاموشی میں لپٹ گیا۔ کھڑکی سے چاندنی اندر آرہی تھی اور اس کی مدھم روشنی میں کھلونے دھندلے دھندلے دکھائی دے رہے تھے۔ گھڑی نے رات کے بارہ بجائے اور گویا کھلونوں کی اپنی دنیا بیدار ہونے لگی۔ کمرے میں رکھی مختلف چیزیں جیسے اپنی اپنی خاموش زبان میں ایک دوسرے سے باتیں کر رہی تھیں۔ مگر ایک ٹانگ والا سپاہی ان سب سے الگ اپنی جگہ کھڑا رہا۔ اس کی پوری توجہ اب بھی رقاصہ پر تھی۔ اسی میز کے ایک کونے میں ایک پرانا صندوق تھا جس کے ڈھکن پر ایک عجیب و غریب چہرہ بنا ہوا تھا۔ اچانک یوں لگا جیسے وہ چہرہ زندہ ہو گیا ہو۔ صندوق کا ڈھکن آہستہ آہستہ کھلا اور اندر سے ایک سیاہ چہرہ جھانکنے لگا۔ اس نے کمرے پر ایک سرسری نگاہ ڈالی، پھر اس کی نظریں ایک ٹانگ والے سپاہی پر جا ٹھہریں۔ چند لمحوں تک وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا اور پھر اس کی نگاہوں کا رخ بھی وہیں گیا جہاں سپاہی دیکھ رہا تھا۔ اب وہ سب کچھ سمجھ چکا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: دادا شام
اس کی آنکھوں میں حسد تیرنے لگا۔ اس نے سخت آواز میں کہا، ’’اپنی نظریں وہاں سے ہٹا لو۔ تمہیں اس کے بارے میں سوچنے کا کوئی حق نہیں۔ ‘‘
سپاہی نے جواب نہیں دیا۔ یہ بات پراسرار مخلوق کو مزید ناگوار گزری۔ اس نے چند لمحے خاموشی سے سپاہی کو گھورا۔ ’’اچھا، ‘‘ اس نے آہستہ سے کہا، ’’اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو کل دیکھنا کیا ہوتا ہے۔ ‘‘
یہ کہہ کر وہ صندوق میں غائب ہو گیا۔
اگلی دوپہر موسم نے اچانک کروٹ لی۔ آسمان پر بادل جمع ہونے لگے اور کھڑکیوں کے شیشوں سے ٹکراتی ہوا کی آواز سنائی دینے لگی۔ بچوں کے کمرے کی ایک کھڑکی پوری طرح بند نہیں تھی۔ اچانک ایک تیز جھونکا آیا اور کھڑکی پوری کھل گئی۔ اسی لمحے ایک ٹانگ والا سپاہی میز کے کنارے سے پھسل کر سڑک پر جا گرا۔
گھر کے اندر کسی نے اس کی گرنے کی آواز نہیں سنی۔ جب کچھ دیر بعد لڑکے کو خیال آیا تو اس نے اپنے نئے سپاہیوں کی طرف دیکھا اور فوراً محسوس کر لیا کہ ان میں سے ایک غائب ہے۔ وہ پریشان ہو کر کھڑکی کی طرف دوڑا۔ ملازمہ بھی ساتھ آ گئی۔ لیکن انہیں ٹین کا سپاہی دکھائی نہیں دیا۔ آخرکار مایوس ہو کر وہ لوٹ آئے۔
ادھر سپاہی سڑک کے پتھروں کے درمیان پڑا ہوا تھا۔ وہ سر کے بل گرا تھا، لیکن پھر بھی اس کے ہاتھ سے بندوق نہیں چھوٹی تھی۔ اس کی دنیا یکایک بدل چکی تھی۔ کل تک وہ ایک محفوظ کمرے میں تھا اور آج ایک اجنبی اور وسیع دنیا کے بیچ تنہا پڑا تھا۔ مگر اس نے شکایت نہیں کی۔ اگر وہ ایک حقیقی سپاہی کی روح رکھتا تھا تو اس کا فرض تھا کہ ہر حالت میں ثابت قدم رہے۔
تھوڑی دیر میں بارش شروع ہو گئی۔ سڑکوں پر پانی بہنے لگا اور لوگ پناہ گاہوں کی طرف بھاگنے لگے۔ اسی دوران دو لڑکے بارش میں کھیلتے کھیلتے وہاں آ نکلے۔ ان کی نظر ٹین کے سپاہی پر پڑی تو وہ خوشی سے اچھل پڑے۔
’’وہ دیکھو!‘‘ ایک لڑکے نے اسے اٹھاتے ہوئے کہا۔ دوسرے نے شرارتی انداز میں ہنستے ہوئے جواب دیا، ’’کیوں نہ اسے سمندری سفر پر بھیج دیا جائے؟‘‘
دونوں نے قریب پڑا ایک پرانا اخبار اٹھایا اور اس کی کشتی بنالی۔ پھر انہوں نے سپاہی کو کشتی کے درمیان کھڑا کیا اور اسے بارش کے پانی کے بہاؤ میں چھوڑ دیا۔
کشتی بہنے لگی۔ شروع میں یہ ایک کھیل معلوم ہوتا تھا، لیکن چند ہی لمحوں میں پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا۔ کشتی گلی کے موڑ مڑتی ہوئی آگے بڑھتی گئی۔ دونوں لڑکے دوڑتے ہوئے اس کے پیچھے گئے، مگر کچھ فاصلے کے بعد کشتی ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ اب سپاہی اکیلا تھا اور اس کے سامنے ایک نامعلوم سفر تھا۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: مخملی خرگوش
بارش کا پانی نالیوں میں جمع ہو کر تیزی سے بہہ رہا تھا۔ کاغذی کشتی کبھی اوپر اٹھتی اور کبھی نیچے گرتی۔ کبھی ایسا محسوس ہوتا جیسے وہ کسی لمحے الٹ جائے گی لیکن پھر وہ سنبھل جاتی۔ اس خطرناک سفر کے دوران بھی ایک ٹانگ والا سپاہی پوری مضبوطی سے اپنی جگہ کھڑا رہا۔ اگرچہ اس کے اردگرد پانی ہی پانی تھا اور ہر لمحے ڈوب جانے کا خطرہ تھا، مگر اس کے چہرے پر خوف نہیں تھا۔ اس کے دل میں اگر کوئی تصویر زندہ تھی تو وہ کاغذی محل کے سامنے کھڑی ہوئی رقاصہ کی تھی۔
کچھ دیر بعد کشتی ایک بڑی نالی کے دہانے میں داخل ہو گئی۔ یہاں روشنی تقریباً ختم ہو گئی تھی۔ پانی کا بہاؤ پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہو چکا تھا۔ کشتی اب بھنور میں پھنسنے لگی تھی اور اس کے کناروں سے پانی اندر آنے لگا تھا۔ کاغذ آہستہ آہستہ نرم پڑنے لگا۔ سپاہی نے محسوس کیا کہ اس کا سفر شاید اپنے سب سے خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ نالی اچانک ختم ہوئی اور پانی ایک کھلے ذخیرے میں جا گرا۔ کشتی زور سے گھومی۔ پانی کا ایک بڑا ریلا اس کے اوپر سے گزرا۔ اب کشتی تقریباً بھر چکی تھی۔ سپاہی گردن تک پانی میں ڈوب گیا لیکن اگلے ہی لمحے پانی کی سطح پر ایک بڑی مچھلی نمودار ہوئی۔ اس نے اپنا منہ کھولا اور کشتی سمیت سپاہی کو نگل لیا۔ سب کچھ ایک لمحے میں ختم ہو گیا۔ ایک ٹانگ والا سپاہی خود کو ایک ایسے اندھیرے میں قید پایا جس کا کوئی کنارہ نہیں تھا۔ وقت گزرتا رہا، مگر اس کیلئے یہ جاننا ممکن نہ تھا کہ کتنے گھنٹے یا کتنے دن بیت چکے ہیں۔ ایسے لمحات میں انسان امید کھو دیتا ہے لیکن اس سپاہی کے اندر ایک عجیب سی استقامت تھی۔ وہ بار بار اپنے ذہن میں اسی کمرے کا تصور لاتا جہاں اس کی زندگی شروع ہوئی تھی۔ اسے اپنے ساتھی سپاہی، کاغذی محل اور رقاصہ یاد آتی۔
دوسری طرف دنیا اپنے معمول کے مطابق چل رہی تھی۔ بارش تھم چکی تھی، سڑکوں پر رونق لوٹ آئی تھی اور لوگوں کو اس بات کا کوئی علم نہ تھا کہ ایک چھوٹا سا ٹین کا سپاہی ایک مچھلی کے پیٹ میں قید اپنی قسمت کا انتظار کر رہا ہے۔ چند روز بعد وہی مچھلی ایک ماہی گیر کے جال میں پھنس گئی۔ ماہی گیر نے اسے دوسری مچھلیوں کے ساتھ بازار پہنچا دیا، جہاں روز کی طرح خریداروں کا ہجوم تھا۔ قسمت کا عجیب کھیل دیکھئے کہ وہی مچھلی ایک ایسی عورت نے خریدی جو اسی گھر کیلئے سامان لیتی تھی جہاں سے سپاہی اپنی مہم پر نکلا تھا۔
شام کو جب باورچی خانے میں رات کے کھانے کی تیاری ہو رہی تھی تو باورچی نے مچھلی کو صاف کرنے کیلئے چاقو اٹھایا۔ ابھی اس نے چند ہی وار کئے تھے کہ اسے اندر کوئی سخت چیز محسوس ہوئی۔ جب مچھلی کے پیٹ سے ایک چھوٹا سا ٹین کا سپاہی برآمد ہوا تھا، وہ حیران رہ گیا۔ وہ اسے گھر کے دوسرے افراد کو دکھانے کیلئے دوڑا۔ جب بچوں نے اسے دیکھا تو خوشی سے شور مچا دیا۔ یہ وہی سپاہی تھا جو چند روز پہلے پراسرار طور پر غائب ہو گیا تھا۔ کسی کیلئے یہ سمجھنا ممکن نہ تھا کہ وہ کہاں کہاں سے گزر کر واپس آیا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنی داستان سنا سکتا تو شاید سب حیرت سے دم بخود رہ جاتے۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ایک گھنٹے کی کہانی
چند لمحوں بعد سپاہی دوبارہ اسی میز پر کھڑا تھا جہاں سے اس کا سفر شروع ہوا تھا۔ اس نے اپنے اطراف نظر دوڑائی۔ سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ وہی کھلونے، وہی کمرہ، وہی کتابیں اور وہی کاغذی محل۔ لیکن اس کی نگاہ فوراً اس شخصیت کو تلاش کرنے لگی جو اس کے دل میں ہر آزمائش کے دوران زندہ رہی تھی۔ رقاصہ اب بھی محل کے سامنے کھڑی تھی۔ اس رات کمرے میں غیر معمولی سکون تھا۔ باہر سرد ہوا چل رہی تھی۔ سپاہی اپنی جگہ کھڑا رقاصہ کو دیکھتا رہا اور شاید پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ قسمت اس پر مہربان ہے مگر زندگی کی طرح کہانیوں میں بھی خوشی کے لمحے اکثر زیادہ دیر قائم نہیں رہتے۔
اگلے روز گھر میں معمول کی چہل پہل تھی۔ بچے کھیل رہے تھے اور بڑوں کی اپنی مصروفیات تھیں۔ انہی مصروف لمحوں میں ایک چھوٹا بچہ میز کے قریب آیا۔ کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔
اس نے ادھر اُدھر نظر دوڑائی، پھر ایک ٹانگ والے سپاہی کو اٹھا لیا۔ شاید وہ اسے غور سے دیکھنا چاہتا تھا، یا محض کھیل رہا تھا، یا شاید قسمت ایک بار پھر اپنا کھیل کھیل رہی تھی۔ کمرے کے ایک کونے میں انگیٹھی جل رہی تھی۔ سرد موسم کی وجہ سے اس میں کوئلے دہک رہے تھے اور شعلے کبھی کبھی سرخ ہو کر اوپر اٹھتے تھے۔ بچہ چند لمحے سپاہی کو دیکھتا رہا اور پھر بغیر کسی وجہ کے اسے سیدھا آگ میں پھینک دیا۔
سپاہی شعلوں کے درمیان جا گرا۔ شدید گرمی نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ سرخ اور سنہری شعلے اس کے گرد ناچنے لگے۔ عام حالات میں کوئی بھی چیز اس آگ میں چند لمحوں سے زیادہ نہیں ٹھہر سکتی تھی، مگر سپاہی بدستور سیدھا کھڑا رہا۔ اس کے چہرے پر خوف کا کوئی نشان نہ تھا۔ وہ اسی وقار کے ساتھ کھڑا تھا جس وقار کے ساتھ اس نے بارش، اندھیری نالی، بھنور اور مچھلی کے پیٹ کا سامنا کیا تھا۔ اس کی نظریں اب بھی رقاصہ کی طرف تھیں۔
وہ میز پر کھڑی اسے دیکھ رہی تھی، یا شاید ایسا صرف سپاہی کو محسوس ہو رہا تھا۔ آگ کی تپش بڑھتی جا رہی تھی۔ اس کا ٹین آہستہ آہستہ نرم ہونے لگا، لیکن حوصلے میں کوئی کمی نہ آئی۔ اسی دوران اچانک ایک تیز ہوا کا جھونکا کھڑکی سے اندر آیا۔ ہوا نے میز پر رکھی ہوئی ہلکی پھلکی چیزوں کو ہلا دیا اور پھر اس نے رقاصہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ایک لمحے کیلئے ایسا لگا جیسے رقاصہ واقعی رقص کر رہی ہو۔ اس کا نازک جسم فضا میں بلند ہوا، اس کا لباس لہرا اٹھا اور پھر وہ سیدھی انگیٹھی کی طرف جا گری۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: انوکھی شہزادی
اب وہ دونوں ایک ہی آگ میں تھے۔
سپاہی اور رقاصہ۔ وہ دو وجود جو شاید کبھی ایک دوسرے سے بات نہ کر سکے، کبھی ایک دوسرے کے قریب نہ آ سکے، لیکن جن کی قسمت نے انہیں آخری لمحے میں ایک جگہ جمع کر دیا تھا۔ شعلے بلند ہوتے رہے۔ رقاصہ کا کاغذی جسم جلنے لگا اور چند ہی لمحوں میں راکھ میں تبدیل ہو گیا۔ دوسری طرف سپاہی کا ٹین پگھل رہا تھا۔ لیکن جب تک اس کا وجود باقی رہا، وہ اپنی جگہ ثابت قدم کھڑا رہا۔
اگلی صبح جب انگیٹھی کی راکھ صاف کی گئی تو وہاں ایک عجیب منظر تھا۔ سپاہی کا پورا جسم پگھل چکا تھا مگر ٹین ایک چھوٹے سے دل کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ قریب ہی رقاصہ کے ستارے کا ایک جلا ہوا ٹکڑا پڑا تھا، جو اَب سیاہ ہو چکا تھا لیکن پھر بھی اپنی سابقہ چمک کی یاد دلا رہا تھا۔
کسی نے ان چیزوں کو معمولی سمجھا، کسی نے انہیں محض ایک اتفاق قرار دیا، لیکن جو لوگ محبت، وفاداری اور ثابت قدمی کے معنی جانتے ہیں، ان کیلئے یہ ایک گہرا استعارہ تھا۔ ایک ٹانگ والا سپاہی اپنی مختصر زندگی میں بہت دور تک سفر کر کے آیا تھا۔ اس نے تنہائی دیکھی، خطرات کا سامنا کیا، ناامیدی کے اندھیروں سے گزرا اور آخر تک اپنے وقار کو برقرار رکھا۔ اسی لئے اس کی کہانی آج بھی زندہ ہے کیونکہ یہ صرف ایک کھلونے کی داستان نہیں بلکہ اس یقین کی کہانی ہے کہ انسان کی اصل طاقت اس کے جسم میں نہیں، اس کے عزم اور اس کے دل میں ہوتی ہے۔