امریکہ کی معروف مصنفہ باربرا برجر کی شہرہ آفاق کہانی’’گرینڈ فادر ٹوائی لائٹ‘‘Grandfather Twilightکا اردو ترجمہ۔
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 4:52 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
امریکہ کی معروف مصنفہ باربرا برجر کی شہرہ آفاق کہانی’’گرینڈ فادر ٹوائی لائٹ‘‘Grandfather Twilightکا اردو ترجمہ۔
دن کے اختتام میں ایک عجیب سی نرمی ہوتی ہے۔ صبح کا آغاز جوش اور امکانات سے بھرا ہوتا ہے، دوپہر روشنی اور حرکت سے لبریز ہوتی ہے مگر شام اپنے ساتھ ایک مختلف کیفیت لاتی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ دنیا کی رفتار کم کر دیتی ہے۔ پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹنے لگتے ہیں، درختوں کے سائے لمبے ہو جاتے ہیں، اور آسمان کا رنگ بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پوری کائنات ایک گہری سانس لے رہی ہو اور دن بھر کی مصروفیت کے بعد سکون کی طرف بڑھ رہی ہو۔ قدیم کہانیوں میں کہا جاتا ہے کہ شام خود بخود نہیں آتی۔ اس کے پیچھے ایک بزرگ ہستی کا ہاتھ ہوتا ہے جسے لوگ ’’دادا شام‘‘ کہتے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے آتے ہیں اور کہاں چلے جاتے ہیں، لیکن ہر روز، جب سورج افق کے قریب پہنچنے لگتا ہے، وہ اپنے خاموش سفر پر نکلتے ہیں۔
داداشام بہت بوڑھے ہیں مگر ان کے چہرے پر تھکن نہیں حکمت کا سکون ہے۔ ان کی لمبی سفید ڈاڑھی سینے تک آتی ہے اور ان کی آنکھوں میں ایسی نرمی ہے جو صرف اُن لوگوں میں ہوتی ہے جو بہت کچھ دیکھ چکے ہوں۔ وہ ایک لمبا نیلا چغہ پہنتے ہیں جو شام کے بدلتے رنگوں کی طرح کبھی گہرا، کبھی ہلکا دکھائی دیتا ہے۔ ان کے کندھے پر ایک بڑا سا تھیلا ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ عام تھیلے جیسا لگتا ہے مگر اس کے اندر ایسی چیزیں ہوتی ہیں جنہیں دنیا کا کوئی اور شخص دیکھ سکتا ہے نہ سمجھ سکتا ہے۔
ہر شام دادا شام ایک بلند پہاڑی کی چوٹی پر نمودار ہوتے ہیں اور چند لمحے خاموشی سے زمین کو دیکھتے ہیں۔ پھر وہ اپنے تھیلے میں ہاتھ ڈالتے ہیں۔ پھر جیسے ہی وہ اپنے ہاتھ سے کوئی ان دیکھی چیز فضا میں بکھیرتے ہیں، دنیا بدلنا شروع ہو جاتی ہے۔ آسمان کا نیلا رنگ آہستہ آہستہ گہرا ہونے لگتا ہے۔ افق پر سنہری روشنی ارغوانی رنگ میں گھل جاتی ہے۔ درختوں کی چوٹیوں پر ایک نرم سا سایہ اتر آتا ہے۔ جھیلوں کا پانی پہلے سے زیادہ خاموش دکھائی دینے لگتا ہے اور پرندے اپنی آخری پرواز کے بعد گھونسلوں میں سمٹ جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: مخملی خرگوش
دادا شام پہاڑیوں سے گزرتے ہوئے جنگلوں کی طرف بڑھتے ہیں۔ جہاں جہاں ان کے قدم پڑتے ہیں، وہاں سکون پھیلنے لگتا ہے۔ ان کا کام بہت سادہ ہے۔ وہ صرف دنیا کو آرام کی طرف لے جاتے ہیں۔
ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک لڑکی رہتی تھی جسے شام کا وقت سب سے زیادہ پسند تھا۔ ہر روز وہ اپنے گھر کی کھڑکی سے آسمان کو بدلتے ہوئے دیکھتی رہتی۔ ایک شام جب وہ ہمیشہ کی طرح کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی، اس نے آسمان کے بنفشی رنگ میں پہاڑی کی چوٹی پر ایک سایہ دیکھا۔ وہ اتنا دور تھا کہ صاف دکھائی نہیں دیتا تھا۔ لیکن اسے لگا کہ وہ ایک بوڑھا شخص ہے جس نے لمبا چغہ پہن رکھا ہے اور جس کے کندھے پر ایک بڑا تھیلا ہے۔
اس رات جب وہ بستر پر لیٹی تو اس کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا کہ اگر واقعی کوئی ایسا شخص ہے جو شام کو دنیا میں پھیلاتا ہے، تو وہ کون ہے؟ اگلے دن وہ بے چینی سے شام کا انتظار کرنے لگی۔ آخرکار وہ وقت آ گیا جب روشنی نرم پڑنے لگی۔ لڑکی نے نظریں پہاڑی پر جما دیں۔ کچھ دیر بعد اسے سایہ پھر نظر آیا۔
لڑکی کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ کسی راز کے قریب پہنچ گئی ہو۔ وہ بوڑھا شخص چند لمحوں تک کھڑا رہا۔ پھر غائب ہوگیا۔ رات ہونے تک وہ کھڑکی کے پاس بیٹھی رہی۔ رات بھر وہ بوڑھے شخص اور تھیلے کے بارے میں سوچتی رہی۔ اگلی چند شاموں تک لڑکی نے خاموشی سے مشاہدہ کیا۔ پھر اس نے دادا شام سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔
اس دن سورج ابھی پوری طرح غروب نہیں ہوا تھا جب وہ خاموشی سے گھر سے نکلی۔ اس نے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔ راستہ آسان نہیں تھا لیکن تجسس اسے پہاڑی تک لے آیا۔ غروب آفتاب کا وقت قریب تھا۔ چوٹی پر دادا شام کھڑے تھے۔ اس بار وہ پہلے سے کہیں زیادہ واضح دکھائی دے رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ایک گھنٹے کی کہانی
وہ ایک بڑے پتھر کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گئی اور غور سے دیکھنے لگی۔ دادا شام نے آہستہ سے اپنا سر اٹھایا اور مغربی افق کی طرف دیکھا جہاں سورج اپنی آخری سنہری روشنی بکھیر رہا تھا۔ پھر انہوں نے اپنے تھیلے کا منہ کھولا۔ دادا شام نے اپنا ہاتھ تھیلے کے اندر ڈالا اور پھر لڑکی کو یوں محسوس ہوا جیسے ان کی انگلیوں کے درمیان باریک چاندی جیسی دھول چمک رہی ہو۔ وہ دھول روشنی بھی تھی اور سایہ بھی۔ اسے کسی ایک چیز کا نام دینا ممکن نہیں تھا۔ وہ نہ دھواں تھی، نہ بادل، نہ روشنی، نہ اندھیرا بلکہ شاید ان سب کا ملاپ تھی۔ دادا شام نے اسے ہوا میں بکھیر دیا۔
ہوا نے ان ذرات کو اپنے ساتھ اٹھا لیا۔ اور پھر وہی جادو شروع ہو گیا جسے لڑکی اب تک صرف دور سے دیکھتی آئی تھی۔ افق پر سنہری روشنی گلابی ہونے لگی۔ گلابی رنگ بنفشی میں ڈھلنے لگا۔ بنفشی نیلے میں تبدیل ہونے لگا۔ پہاڑوں کے کنارے دھندلے پڑنے لگے۔ درختوں کے سائے لمبے ہوتے گئے۔ دور دریا کی سطح پر ایک نرم سی چمک باقی رہ گئی، جیسے دن اپنا آخری نشان چھوڑ رہا ہو۔ لڑکی دم بخود بیٹھی رہی۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ شام آتی نہیں، لائی جاتی ہے۔ اسے عجیب سکون محسوس ہوا۔ اسے یوں لگا جیسے وہ کسی بہت پرانی رسم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہو، ایک ایسی رسم جو دنیا کے آغاز سے ہر روز دہرائی جا رہی ہے۔
اسی دوران دادا شام پہاڑی سے نیچے اترنے لگے۔ لڑکی پتھروں اور درختوں کے پیچھے چھپتی ہوئی ان کے پیچھے چلنے لگی۔ کچھ دیر بعد اسے احساس ہوا کہ دادا شام کسی منزل کی طرف نہیں جا رہے۔ وہ خود شام کو ساتھ لے کر چل رہے تھے۔ وہ جہاں سے گزرتے، روشنی نرم پڑ جاتی۔ وہ جہاں ٹھہرتے، وہاں خاموشی گہری ہو جاتی۔ ایسا لگتا تھا جیسے پوری دنیا ان کے قدموں کے پیچھے پیچھے رات کی طرف بڑھ رہی ہو۔ لڑکی کافی دیر تک ان کے پیچھے چلتی رہی۔ پھر دادا شام اچانک رک گئے اور مڑے بغیر آہستہ سے کہا، ’’ تم کافی دیر سے میرے پیچھے آ رہی ہو۔ ‘‘
لڑکی کا دل دھڑکنے لگا۔ وہ تو پوری احتیاط سے چھپتی رہی تھی۔ پھر انہیں کیسے معلوم ہو گیا؟ کچھ لمحوں تک وہ خاموش کھڑی رہی۔ پھر ہمت جمع کر کے سامنے آئی۔ دادا شام نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں حیرت نہیں تھی۔ جیسے وہ پہلے ہی جانتے ہوں کہ ایک دن یہ لڑکی ان تک پہنچ جائے گی۔ دادا شام نے مسکراتے ہوئے سوال کیا، ’’تم جاننا چاہتی ہو کہ میرے تھیلے میں کیا ہے؟‘‘ لڑکی نے فوراً سر ہلا دیا۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: انوکھی شہزادی
’’اور تم یہ بھی جاننا چاہتی ہو کہ شام کہاں سے آتی ہے۔ ‘‘ لڑکی نے دوبارہ سر ہلایا۔
دادا شام نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر کہا، ’’لوگ سمجھتے ہیں کہ شام صرف دن کا اختتام ہے، ‘‘ انہوں نے کہا، ’’مگر حقیقت میں شام ایک آغاز بھی ہے۔ ‘‘ لڑکی نے حیرانی سے ان کی طرف دیکھا۔ ’’آغاز؟‘‘
’’ہاں، ‘‘ دادا شام بولے، ’’دن روشنی کی دنیا ہے۔ لوگ کام کرتے ہیں، سفر کرتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، چیزوں کو دیکھتے ہیں اور ان کے نام رکھتے ہیں۔ مگر رات ایک مختلف دنیا ہے۔ رات انسان کو ان چیزوں کے قریب لے جاتی ہے جنہیں دیکھا نہیں جا سکتا۔ ‘‘
وہ آگے بڑھنے لگے اور لڑکی ان کے ساتھ چلنے لگی۔ ’’دن میں لوگ باہر کی دنیا کو دیکھتے ہیں، ‘‘ دادا شام نے کہا’’مگر رات میں وہ اپنے اندر کی دنیا کو دیکھتے ہیں۔ ‘‘ لڑکی خاموشی سے سنتی رہی۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی کہانی سے زیادہ کسی راز کو سن رہی ہے۔
کچھ دور چلنے کے بعد دادا شام ایک چھوٹی سی پہاڑی پر رک گئے۔ انہوں نے اپنا تھیلا زمین پر رکھا اور پہلی بار اسے پوری طرح کھولا۔ لڑکی کو توقع تھی کہ اندر کوئی جادوئی چیز ہوگی، شاید روشنی، شاید رنگ، شاید بادل مگر تھیلے کے اندر چھوٹے چھوٹے لاکھوں روشن نقطے تھے۔ وہ ہلکی روشنی سے چمک رہے تھے جیسے رات کے آسمان کے ننھے ستارے کسی نے جمع کر کے ایک جگہ رکھ دیے ہوں۔
لڑکی حیرت سے انہیں دیکھتی رہ گئی۔
’’یہ کیا ہیں ؟‘‘ اس نے پوچھا۔
دادا شام نے کہا، ’’یہ وہ ستارے ہیں جو ابھی آسمان پر نہیں پہنچے۔ ہر رات آسمان کو نئے سرے سے سجانا پڑتا ہے، ‘‘ دادا شام نے کہا۔ ’’لوگ سمجھتے ہیں کہ ستارے ہمیشہ سے اپنی جگہ موجود ہوتے ہیں، مگر ہر رات انہیں بیدار کرنا پڑتا ہے۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے انہوں نے مٹھی بھر روشن نقطے اٹھائے اور انہیں ہوا میں اچھال دیا۔ لڑکی نے اوپر دیکھا۔ چند ہی لمحوں بعد آسمان کے ایک حصے میں نئے ستارے نمودار ہونے لگے۔ پہلے ایک۔ پھر دوسرا۔ پھر درجنوں۔ پھر لاکھوں۔ گویا کوئی عظیم مصور ایک سیاہ کینوس پر روشنی کے نقطے رکھ رہا ہو۔
لڑکی نے زندگی میں بے شمار مرتبہ رات کا آسمان دیکھا تھا، مگر آج پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ ستارے محض دور روشن نقطے نہیں ہیں۔ وہ کسی خاموش نظم کا حصہ ہیں۔
’’کیا آپ ہر رات یہی کرتے ہیں ؟‘‘ اس نے پوچھا۔ ’’ہر رات۔ ‘‘ دادا شام نے کہا۔
’’اور کبھی نہیں تھکتے؟‘‘
دادا شام مسکرائے، ’’کیا سمندر لہریں بنانے سے تھکتا ہے؟ کیا درخت بہار میں پتے اگانے سے تھکتے ہیں ؟ کچھ کام تھکن نہیں دیتے کیونکہ وہ محبت سے کئے جاتے ہیں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بھوکے پتھر
لڑکی اس جواب پر کافی دیر سوچتی رہی۔ کچھ دیر بعد دادا شام دوبارہ چلنے لگے۔ رات گہری ہو رہی تھی۔ مگر لڑکی کے دل میں ایک نیا سوال جنم لے چکا تھا۔ اگر دادا شام ستارے آسمان پر بکھیرتے ہیں، تو پھر خواب کہاں سے آتے ہیں ؟ ااس نے یہ سوال پوچھا تو دادا شام نے کہا، ’’لوگ خوابوں کے بارے میں بہت کچھ کہتے ہیں۔ کچھ انہیں دماغ کی کہانیاں سمجھتے ہیں، کچھ انہیں خواہشوں کا عکس کہتے ہیں، اور کچھ انہیں محض اتفاق مانتے ہیں مگر خواب ان سب سے زیادہ عجیب اور خوبصورت چیز ہیں۔ ‘‘
دادا شام ایک پتھر پر بیٹھ گئے۔
’’دن کے وقت دنیا شور سے بھری ہوتی ہے، ‘‘ دادا شام نے کہا، ’’لوگ باتیں کرتے ہیں، دوڑتے ہیں، منصوبے بناتے ہیں۔ ان کی توجہ ہر وقت باہر کی طرف رہتی ہے۔ مگر رات انسان کو اپنے اندر واپس لے آتی ہے۔ ‘‘
انہوں نے ایک ننھا سا روشن ذرہ اپنی ہتھیلی پر رکھا۔ وہ ستارے جیسا نہیں تھا۔ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ لڑکی نے پوچھا۔ ’’ایک خواب۔ ‘‘
لڑکی کو حیرت ہوئی، ’’خواب اتنا چھوٹا ہوتا ہے؟‘‘ دادا شام ہنس پڑے، ’’جب بیج زمین میں ہوتا ہے تو وہ بھی چھوٹا ہوتا ہے مگر اس کے اندر پورا درخت چھپا ہوتا ہے۔ ‘‘ انہوں نے وہ روشن ذرہ ہوا میں چھوڑ دیا۔ وہ آہستہ آہستہ اوپر اٹھا، پھر رات کی تاریکی میں گم ہو گیا۔ ’’ہر خواب کسی نہ کسی دل تک پہنچ جاتا ہے۔ ‘‘ ’’کیا آپ سب لوگوں کو خواب دیتے ہیں ؟‘‘ لڑکی نے پوچھا۔
’’نہیں۔ ‘‘دادا شام نے سر ہلایا۔ ’’میں خواب نہیں بناتا۔ خواب تو لوگوں کے اپنے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ میں صرف انہیں راستہ دیتا ہوں۔ ‘‘ لڑکی کچھ دیر اس بات پر غور کرتی رہی۔ پھر اس نے پوچھا، ’’اور یادیں ؟‘‘
اس بار دادا شام کی آنکھوں میں نرمی اتر آئی۔ ’’یادیں !‘‘ انہوں نے دہرایا، ’’وہ خوابوں سے بھی زیادہ نازک ہوتی ہیں۔ ‘‘ ہلکی ہوا سے سرسراہٹ ہوئی۔ دور جنگل میں کسی رات کے پرندے کی آواز سنائی دی۔ اور پھر خاموشی چھا گئی۔ ’’دنیا میں ہر انسان کچھ نہ کچھ پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ ایک مسکراہٹ، ایک آواز، ایک لمس، ایک محبت، ایک دوستی۔ وقت گزر جاتا ہے، لوگ بدل جاتے ہیں، جگہیں بدل جاتی ہیں، مگر بعض یادیں باقی رہتی ہیں۔ ‘‘
انہوں نے تھیلے سے نہایت مدھم چمک باہر نکالی۔ وہ ستارے کی طرح روشن نہیں تھی۔ وہ شمع کی آخری لو کی طرح تھی۔ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ لڑکی نے سرگوشی میں پوچھا۔
’’ایک یاد۔ ‘‘ دادا شام نے جواب دیا۔ ’’کس کی یاد؟‘‘
’’کسی کی بھی ہو سکتی ہے۔ ایک بچے کی جو اب بڑا ہو چکا ہے۔ ایک ماں کی جو اپنے بچے کو لوری سناتی تھی۔ ایک دوست کی جس سے برسوں پہلے کئی لوگ بچھڑ گئے ہوں۔ ایک ایسے گھر کی جہاں انسان دوبارہ کبھی واپس نہ جا سکے۔ ‘‘
لڑکی کو اپنی دادی یاد آ گئیں جو چند سال پہلے دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں۔ دادا شام جیسے اس کے دل کی بات جان گئے، ’’یادیں کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں۔ وہ بس خاموش ہو جاتی ہیں۔ ‘‘
لڑکی کو محسوس ہو رہا تھا کہ رات پہلے جیسی نہیں رہی۔ اس کے اندر صرف تاریکی نہیں تھی۔ اس کے اندر خواب بھی تھے۔ یادیں بھی تھیں۔ امیدیں بھی تھیں۔ اور وہ تمام باتیں بھی تھیں جو دن کے شور میں سنائی نہیں دیتیں۔ پھر لڑکی نے آخری سوال پوچھا۔
’’آپ ہر رات یہ سب کرتے ہیں۔ شام لاتے ہیں، ستارے بکھیرتے ہیں، خوابوں کو راستہ دیتے ہیں، یادوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر یہ سب کیوں ؟‘‘
دادا شام نے کہا، ’’ہر چیز کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ ‘‘ وہ چند لمحے رکے۔ ’’زمین کو بھی، درختوں کو بھی، سمندروں کو بھی، اور دلوں کو بھی۔ ‘‘ لڑکی ان کی بات سنتی رہی۔ ’’لوگ سمجھتے ہیں کہ رات صرف دن کے بعد آتی ہے، مگر رات دراصل ایک تحفہ ہے۔ اگر دنیا میں رات نہ ہوتی تو لوگ کبھی رک نہ پاتے۔ کبھی سوچ نہ پاتے۔ کبھی خواب نہ دیکھ پاتے۔ ‘‘ پھر وہ مسکرائے۔ ’’اور جو انسان خواب دیکھنا چھوڑ دے، وہ آہستہ آہستہ جینا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ ‘‘
لڑکی کو محسوس ہوا کہ اس کا دل کچھ بدل گیا ہے۔ جیسے وہ دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے لگی ہو۔ جیسے وہ پہلی بار سمجھ رہی ہو کہ شام اور رات محض وقت نہیں ہیں۔ وہ زندگی کی سانسیں ہیں۔ لڑکی کو محسوس ہورہا تھا کہ اس نے چند گھنٹوں میں اتنا کچھ سیکھ لیا ہے جتنا کبھی برسوں میں نہیں سیکھا تھا۔
پھر اس نے سرگوشی میں پوچھا، ’’کیا آپ ہمیشہ سے یہ کام کرتے آئے ہیں ؟‘‘ دادا شام نے جواب دیا، ’’مجھے یاد نہیں کہ یہ کب شروع ہوا تھا۔ شاید اس وقت سے جب دنیا نے پہلی بار دن اور رات کو الگ الگ پہچانا۔ شاید اس وقت سے جب کسی بچے نے پہلی بار آسمان کی طرف دیکھ کر حیرت محسوس کی۔ ‘‘
لڑکی نے پھر سوال پوچھا، ’’اور اگر ایک دن آپ نہ آئیں تو؟‘‘ یہ سوال سن کر ہوا جیسے ایک لمحے کیلئے ساکت ہو گئی۔ دادا شام نے کہا، ’’دنیا میں کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو کسی ایک شخص کے نہیں ہوتے۔ وہ ایک تسلسل کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگر ایک موج ختم ہو جائے تو دوسری اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ اگر ایک پتا درخت سے گر جائے تو بہار میں دوسرا اُگ آتا ہے۔ ‘‘ لڑکی ان کی بات پوری طرح نہ سمجھ سکی۔ کچھ دیر بعد دادا شام کھڑے ہو گئے، ’’اب مجھے جانا ہوگا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: راشومون
لڑکی اداس ہوگئی۔ اسے لگا جیسے کوئی خوبصورت خواب ختم ہونے والا ہو۔
’’کیا میں آپ سے دوبارہ مل سکوں گی؟‘‘ اس نے پوچھا۔ دادا شام نے اس کی طرف دیکھا۔
’’اگر تم واقعی ملنا چاہو تو ہاں۔ ‘‘
’’مگر کیسے؟‘‘
دادا شام نے مسکرا کر کہا، ’’اکثر لوگ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، اس لئے بہت سی چیزیں ان سے اوجھل رہتی ہیں۔ دنیا کے بڑے راز ہمیشہ نظروں کے سامنے ہوتے ہیں، مگر انہیں دیکھنے کیلئے حیرت اور تجسس ضروری ہوتا ہے۔ ‘‘
وہ چند قدم آگے بڑھے اور پھر رُک گئے۔
’’کل شام جب سورج ڈوبے، آسمان کو غور سے دیکھنا۔ جب درختوں کے سائے لمبے ہونے لگیں، جب پرندے واپس لوٹنے لگیں، جب ہوا میں خاموشی اترنے لگے، تو یاد رکھنا کہ یہ سب کسی جادو کی وجہ سے نہیں ہو رہا۔ ‘‘
لڑکی نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔
’’پھر کس وجہ سے؟‘‘
دادا شام نے کہا، ’’کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ کب آرام کرنا ہے۔ اور شاید یہی سب سے بڑا جادو ہے۔ ‘‘
اس کے بعد وہ آہستہ آہستہ چلنے لگے۔ لڑکی انہیں جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔ ان کا نیلا چغہ رات کی تاریکی میں گھلتا جا رہا تھا۔ ان کے کندھے پر لٹکا تھیلا ستاروں کی مدھم روشنی سے جھلملا رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ان کا وجود ایک سایے میں بدل گیا، اور پھر وہ سایہ بھی رات کے اندر تحلیل ہو گیا۔ پھر لڑکی بھی اپنے گھر آگئی۔ لیکن اب وہ پہلے والی لڑکی نہیں رہی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ایک غیر مطبوعہ اور طبع زاد کہانی: آئرش جادو
اگلے دن جب سورج نکلا تو اس نے پہلی بار صبح کو غور سے دیکھا۔ اسے محسوس ہوا کہ صبح بھی اتنی ہی حیرت انگیز ہے جتنی شام۔ درختوں پر پڑتی روشنی، گھاس پر چمکتی شبنم، پرندوں کی پہلی آوازیں، یہ سب کچھ پہلے بھی موجود تھا، مگر اس نے کبھی انہیں واقعی دیکھا نہیں تھا۔ اور پھر شام آئی۔ وہ کھڑکی کے پاس جا بیٹھی۔ سورج آہستہ آہستہ افق کی طرف جھکا۔ آسمان نے رنگ بدلنا شروع کیا۔ پرندے لوٹنے لگے۔ اور دنیا ایک بار پھر خاموشی کی طرف بڑھنے لگی۔ اس نے پہاڑی کی طرف دیکھا۔ اسے کوئی بوڑھا شخص نظر نہیں آیا۔ نہ کوئی تھیلا۔ نہ کوئی سایہ لیکن عجیب بات یہ تھی کہ اسے مایوسی نہیں ہوئی کیونکہ اب وہ جانتی تھی کہ بعض چیزوں کو دیکھنے کیلئے ان کا نظر آنا ضروری نہیں ہوتا۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔
برسوں بعد جب وہ بڑی ہو گئی، تب بھی اسے وہ رات یاد رہی۔ زندگی میں بہت سی چیزیں بدل گئیں۔ لوگ آئے اور چلے گئے۔ موسم بدلے۔ گھر بدلے۔ راستے بدلے۔ لیکن ایک چیز نہیں بدلی۔ ہر شام جب آسمان کا رنگ نیلے سے بنفشی ہونے لگتا، وہ چند لمحوں کیلئے ٹھہر جاتی۔ اور پھر اسے یاد آ جاتا کہ دنیا میں ایسے راز بھی ہیں جو صرف اُن لوگوں پر ظاہر ہوتے ہیں جو جینا نہیں چھوڑتے، اور ہر وقت متجسس رہتے ہیں۔
شام شاید اسی لئے اتنی خوبصورت لگتی ہے کہ وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی صرف دوڑنے کا نام نہیں۔
کبھی کبھی ٹھہرنا، آسمان کو دیکھنا، اور خاموشی کو سننا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اور شاید کہیں، ہماری نظروں سے بہت دور، دادا شام اب بھی اپنے تھیلے کے ساتھ سفر کر رہے ہیں، ستارے بکھیر رہے ہیں اور خوابوں کو راستہ دے رہے ہیں۔