Inquilab Logo Happiest Places to Work

مختصر کہانی: کوئی کام مشکل نہیں

Updated: June 27, 2026, 4:00 PM IST | Ayesha Farhad | Mumbai

گھر میں ایک عجیب شور برپا تھا۔ سب بہن بھائی ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے کہ تمہارا کام بہت آسان جبکہ میرا بہت مشکل ہے (کام سے مراد ڈیوٹی ہے)۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

گھر میں ایک عجیب شور برپا تھا۔ سب بہن بھائی ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے کہ تمہارا کام بہت آسان جبکہ میرا بہت مشکل ہے (کام سے مراد ڈیوٹی ہے)۔ جیسا کہ مابدولت کا کام آٹا گوندھنا اور کپڑے استری کرنا تھا اور عبداللہ عبید کا جوتے پالش کرنا اس کے علاوہ دوسرے کاموں میں مدد کروانا۔ چونکہ اب گھر میں لڑائی یہ تھی کہ میرا کام مشکل جبکہ تمہارا کام آسان ہے۔ اس پر ہم تمام بہن بھائیوں نے فیصلہ کیا کہ جو کام مابدولت کا ہے وہ بھائی کریں گے اور جو بھائیوں کا ہے وہ ما بدولت۔

یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: قصہ ایک شیر کی حجامت کا

جب یہ معاہدہ طے پا گیا تو کام کا آغاز کر دیا گیا۔ مابدولت نے تمام گھر والوں کے جوتے پالش کئے جو کہ ذرا بھی اچھے نہ تھے بلکہ میں نے جلدی کرکے اپنی جان چھڑوائی۔ جس کا خمیازہ بعد میں ڈانٹ کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ چونکہ عبداللہ اور عبید الرحمٰن دو تھے، دونوں نے آپس میں کام بانٹ لئے۔ عبداللہ بھائی نے آٹا گوندھا جس کے بارے میں آپ نہ ہی پوچھیں تو اچھا ہے کیونکہ ایک کلو آٹے میں تین کلو پانی ڈال لیا جو کہ پکانے کے قابل بھی نہ رہا۔ اب ذرا عبید صاحب کی سنیں انہوں نے کپڑے استری کئے تو امی کا نیا جوڑا جلا دیا اس کے علاوہ جو استری کا حشر ہوا نہ ہی پوچھیں تو بہتر ہے اور ساتھ ہی کہا کہ میری توبہ آئندہ اگر یہ کہوں کہ عائشہ بہن کا کام آسان ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: شرط

دوسری صبح جب گھر والوں نے کپڑے اور جوتے دیکھے تو ہم کو ڈانٹ پڑی کیونکہ دونوں کا برا حال تھا اور امی جب روٹی پکانے لگیں تو آٹے کا ستیاناس تھا۔ اس وقت سے لے کر آج تک کسی نے یہ نہیں کہا کہ تمہارا کام آسان اور میرا مشکل ہے۔ اس پر میرے منہ سے بے اختیار نکلا کہ جس کا کام اسی کو ساجے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK