ہر روز ظفر اور نزہت دونوں، جلدی سو جاتے تھے۔ مگر آج ممی کے بار بار کہنے کے باوجود بھی دونوں برابر جاگتے رہے۔
ہر روز ظفر اور نزہت دونوں، جلدی سو جاتے تھے۔ مگر آج ممی کے بار بار کہنے کے باوجود بھی دونوں برابر جاگتے رہے۔ بات اصل میں یہ تھی کہ شام کو ڈیڈی، مٹائی لائے تھے اور ممی نے وہ کمرے میں رکھ دی تھی۔ مگر ظفر نے بڑے ہوشیاری سے مٹھائی کا سراغ لگا لیا تھا اور نزہت کو بھی اُس کی خبر کر دی تھی۔ اُن دونوں کا خیال اسے رات کو صاف کرنے کا تھا۔ اس لئے وہ بار بار ممی کے کہنے پر بھی، سونے کے بجائے اپنی اپنی کتابوں کے ورق، یہاں وہاں اُلٹے رہے، جیسے کہ وہ سچ مچ میں پڑھ رہے ہوں۔
ظفر اور نزہت دونوں ایک ہی بستر پر سویا کرتے تھے، اس لئے اُن کی کھس پھساہٹ ڈیڈی یا ممی کے کانوں تک ذرا مشکل ہی سے پہنچا کرتی تھی۔ دونوں کے دونوں ڈیڈی کے خوف سے، لحاف میں دبکے خاموش پڑے رہے۔
جب ظفر کو ڈیڈی اور ممی کے سو جانے کا پورا یقین ہوگیا تب وہ نزہت کے کانوں میں پھس پھسایا اور نزہت آنکھوں کو ملتی ہوئی ساتھ ہوگئی۔ دونوں چوروں کی طرح آہستہ آہستہ کمرے تک اندھیرے میں پہنچے۔ مگر دروازے کی زنجیر لگی پاکر، بے چارے مٹھائی کی طرف سے، کچھ مایوس ہوگئے۔ لیکن نزہت کی بتائی ہوئی ترکیب نے فوراً مایوسی کو.... امید میں بدل دیا۔ ابھی ترکیب عمل میں بھی نہ آنے پائی تھی کہ اچانک نزہت کو کوئی چیز آتی ہوئی دکھائی دی اور وہ مارے خوف کے اپنے بھائی ظفر سے چمٹ گئی۔ لیکن انہیں جان کر یہ بڑی خوشی ہوئی کہ آنے والی شے اور کوئی چیز نہیں بلکہ اُن کا پیارا کتّا موتی ہے۔ جب اُنہیں پورا پورا اطمینان ہوگیا تو نزہت اپنے دونوں گھٹنوں اور ہاتھوں کا سہارا زمین پر دے کر دروازے کے قریب بیٹھ گئی اور ظفر دھیرے سے نزہت کی پیٹھ پر چڑھ کر زنجیر کھولنے لگا۔ بہت مشکل سے ظفر کا ہاتھ، دروازے کی زنجیر تک پہنچا۔ وہ کھلنے ہی والی تھی کہ عجیب حادثہ پیش آیا اور بنا بنایا کام بگڑ گیا۔ دروازے کے سوراخ سے ایک موٹا چوہا، بڑی تیزی سے نزہت کو چھوتا ہوا نکلا اور نزہت مارے خوف کے اُٹھ بیٹھی۔ اُسے یہ بھی ہوش نہ رہا کہ اُس کی پیٹھ پر کوئی کھڑا ہے۔ نزہت کے کھڑے ہوتے ہی ظفر دھڑام سے نیچے کھڑے ہوئے موتی پر گرا اور موتی زور سے، مارے درد کے چیخنے لگا۔
موتی کے چیخنے کی آواز سن کر، لحاف پھینک کرممی دروازے کی طرف دوڑی ہوئی آئیں.... اور اس سے پہلے کہ ظفر یا نزہت اپنی کوئی صفائی پیش کرتے، کان کھینچتے ہوئے بولیں.... ’’رات کو بھی شرارت سوجھتی ہے؟ اور ظفر اور نزہت دونوں چپ چاپ، اپنے اپنے گال سہلاتے ہوئے پلنگ پر آکر لیٹ رہے۔ نزہت ظفر کو ناراض دیکھ کر اپنی صفائی دیتے ہوئے بولی ’’مَیں کیا کروں۔ کیا تم نہ ڈر جاتے جو میری جگہ ہوتے؟‘‘ اور ظفر کروٹ لیتے ہوئے بڑبڑایا ’’چوہا ہی تو تھا کوئی....!‘‘ اس سے پیشتر کہ ظفر اپنا جملہ پورا کرتا، ڈیڈی نے ایک زور کی انگڑائی لی اور دونوں لحاف کے اندر دبک گئے۔ من ہی من میں، دونوں مٹھائی کو کوس رہے تھے، جس کی وجہ سے ایک کے گال لال ہوئے تو دوسرے کے کان گرم!