Updated: August 29, 2026, 7:03 PM IST
| New York
ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک شہر میں نائن الیون کی یاد گاری تقریب میں شرکت کرنے سے انکار کردیا، کیونکہ انہیں تقریر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ نائن الیونمیموریل اور میوزیم سیاستدانوں کو گراؤنڈ زیرو پر تقریر کرنے کی اجازت نہیں دیتا تاکہ غیرمتوازن موقف برقرار رہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این
اطلاعات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ۱۱؍ ستمبر ۲۰۰۱ءکے دہشت گرد حملوں کی۲۵؍ویں سالگرہ پینٹاگون میں منانے کا ارادہ رکھتے ہیں، نہ کہ نیو یارک شہر کے گراؤنڈ زیرو پر، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ تقریر نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا،صدر ابتدائی طور پر ۱۱؍ ستمبر کو مین ہیٹن میں سابق صدور اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ شامل ہونے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن یہ منصوبے اس وقت تبدیل ہو گئے جب یادگاری منصوبہ سازوں نے بظاہر ٹرمپ کی ٹیم کو یاد دلایا کہ سیاستدانوں کو اس مقام پر تقریر کرنے سے روکا گیا ہے تاکہ اس کا غیرمتوازن موقف برقرار رہے۔اس کے بجائے، نائب صدر جے ڈی وینس نیو یارک شہر میں وائٹ ہاؤس کی نمائندگی کریں گے جبکہ ٹرمپ پینٹاگون جائیں گے، جس پر بھی۱۱؍ ستمبر۲۰۰۱ء کو حملہ ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے ٹرمپ کے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے پر ذہنی مریض قرار دیا
بعد ازاں وہائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے ایک بیان میں کہا، ’’اس المناک دن کی۲۵؍ویں یادگار پر، صدر ان لوگوں کو یاد کریں گے جو دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے گئے، ان کے پیاروں کو خراج عقیدت پیش کریں گے، اور ان بہادر امدادی کارکنوں کو سلام پیش کریں گے جنہوں نے اپنے امریکی ہم وطنوں کو بچانے کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔‘‘واضح رہے کہ صدر اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے گزشتہ سال بھی۱۱؍ ستمبر کی یادگار پینٹاگون میں منائی تھی۔ اس یادگاری تقریب میں، ٹرمپ نے ان لوگوں کے بارے میں بات کی جنہوں نے۱۱؍ستمبر۲۰۰۱ء کو اپنے عزیزوں کو کھویا، ساتھ ہی اپنی انتظامیہ اور ایجنڈے کے بارے میں فخر کے ساتھ باتیں بھی شامل کیں۔ٹرمپ نے گزشتہ سال کے خطاب میں کہا تھا، ’’امریکہ میں ہم اعلیٰ ظرفی د کھاتے ہیں، لیکن کبھی نہیں جھکتے۔ ہم خون بہاتے ہیں، لیکن سر نہیں جھکاتے، اور ہم خوف کو چیلنج کرتے ہیں، شعلوں کو برداشت کرتے ہیں اور ہر مصیبت کی بھٹی سے پہلے سے زیادہ مضبوط، زیادہ فخر اور عظیم تر بن کر نکلتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد صدر نے مزید کہا، ’’گزشتہ سال ہم ایک مردہ ملک تھے، اب ہمارے پاس دنیا میں کہیں بھی سب سے عظیم ملک ہے۔‘‘ یہ بیان انہوں نے ریلیوں اور پریس کانفرنسوں میں بارہا دہرایا۔اسی دن بعد میں، ٹرمپ نیو یارک شہر میں نیو یارک یانکیز کا میچ دیکھنے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ کے عملے کے بیشتر اراکین کا وہائٹ ہاؤس چھوڑنے کا ارادہ: رپورٹ
واضح رہے کہ ۲۰۱۲ء سے، نیشنل ستمبر۱۱؍ میموریل اور میوزیم نے سیاستدانوں کو گراؤنڈ زیرو جہاں جڑواں ٹاورتھے ، پر تقریر کرنے سے روک دیا ہے۔یہ فیصلہ یادگاری مقام کی تعمیر پر سیاسی جھڑپوں کے ایک سلسلے کے بعد کیا گیا تھا جس سے ان خاندانوں کو غصہ آیا جنہیں لگا کہ سیاسی مسائل اس دن مرنے والوں کی یاد پر حاوی ہو رہے ہیں۔آخری بار جب ٹرمپ نے نیو یارک شہر میںنائن الیون کی یادگاری تقریب میں شرکت کی تھی وہ۲۰۲۴ء کے صدارتی انتخابی مہم کے دوران تھی جب وہ اس وقت کے صدر جو بائیڈن، اس وقت کی نائب صدر کملا ہیرس اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ گراؤنڈ زیرو میں شامل ہوئے تھے۔سیاستدانوں نے مصافحہ کیا اور شانہ بشانہ کھڑے ہو کر تقریباً۳۰۰۰؍ افراد کو یاد کیا جو اس دہشت گرد حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے۔ جیسا کہ منصوبہ بندی سے واقف عہدیداروں نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ اس سال، متعدد معروف سیاستدان گراؤنڈ زیرو پر ۲۵؍ویں یادگاری تقریب میں شرکت کریں گے، جن میں سابق میئر روڈی جیولیانی؛ سابق صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ ہیلری کلنٹن؛ سابق صدر جارج ڈبلیو بش اور ان کی اہلیہ لورا بش؛ اور سابق صدر باراک اوباما شامل ہیں۔