’اسکل زو‘ کے بانی آدرش کمارکو قطر کی عالمی یونیورسٹی میں داخلہ ملا ہے، ان کا یہ تعلیمی سفرطلبہ کو پیغام دیتا ہے کہ خواب دیکھئے اورنتیجے کی پروا کئے بغیر محنت کیجئے۔
EPAPER
Updated: August 29, 2026, 4:56 PM IST | Roshni Chakraborty/INN | Mumbai
’اسکل زو‘ کے بانی آدرش کمارکو قطر کی عالمی یونیورسٹی میں داخلہ ملا ہے، ان کا یہ تعلیمی سفرطلبہ کو پیغام دیتا ہے کہ خواب دیکھئے اورنتیجے کی پروا کئے بغیر محنت کیجئے۔
آدرش کمار نے تعلیم کے حصول کیلئے ۱۴؍ سال کی عمر میں جب بہار کے چمپارن میں واقع اپنے گھر سے قدم نکالا تو اسکے پاس ایک پرانا لیپ ٹاپ اور جیب میں صرف ہزار روپے تھے۔ وہ ایسے مستقبل کی تلاش میں تھا جو اس کے حالات سے کہیں آگے دکھائی دیتا تھا۔۶؍سال بعد، تقریباً۲۰؍ ہزار طلبہ تک پہنچنے والا پلیٹ فارم ، گلوبل اسٹوڈنٹ پرائز کا فاتح اور۲۲؍ یونیورسٹیوں سے مسترد کئے جانے کے بعد،۱۹؍ سالہ آدرش ایک بار پھرہندوستان چھوڑنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس بار اس کے پاس وہ چیز ہے جو کبھی ناممکن لگتی تھی:قطر میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی تقریباً۵ء۳؍کروڑ روپے کی مکمل اسکالرشپ۔
یہ بھی پڑھئے: کم سرمائے میں شروع کئے جانے والے مستحکم و منافع بخش کاروبار
یہ اسکالرشپ ٹیوشن فیس، رہائش، کھانا، ہوائی سفر، ویزا، ہیلتھ انشورنس اور دیگر تعلیمی اخراجات کا احاطہ کرتی ہے۔ وہ دوحہ کے ’ایجوکیشن سٹی‘ میں دنیا کی۷۰؍ سے زیادہ قومیتوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ساتھ تعلیم حاصل کرے گا۔ جس لڑکے کے پاس کبھی کوٹا شہر میں کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کی فیس ادا کرنے کے پیسے نہیں تھے، اس کے لیے یہ موقع واقعی غیر معمولی ہے۔ لیکن جارج ٹاؤن، آدرش کی کہانی میں کوئی اچانک آنے والا موڑ نہیں ہے۔ یہ اس سفر کا تازہ ترین باب ہے جو بہار کے ایک سرکاری اسکول سے شروع ہوا، عالمی طلبہ مقابلوں، گوگل کے یوتھ پروگرامز، انٹرپرنیورشپ کے منصوبوں اور بالآخر’گلوبل اسٹوڈنٹ پرائز‘ تک پہنچا۔
آدرش کا بچپن مالی مشکلات میں گزرا۔ ایک سنگل مدر کی پرورش میں وہ بہار میں بڑا ہوا اور اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ صلاحیت اور مواقع کے درمیان کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔۱۴؍ سال کی عمر میں وہ کوٹا چلا گیا، اس امید میں کہ کوچنگ اسے بہتر مستقبل کی طرف جانے کا راستہ فراہم کرے گی۔ لیکن جب وہ داخلے کی فیس ادا نہ کر سکا تو روایتی راستہ تقریباً بند ہوگیا۔ مگر اس نے ہمت نہیں ہاری اور دوسرا راستہ تلاش کرنا شروع کردیا۔اس نے اسٹارٹ اپس کے ساتھ تجربات کیے، نچلی سطح کے مختلف منصوبوں پر کام کیا اور بالآخر’اسکل زوSkillzo‘ نامی ایک پلیٹ فارم بنایا، جس کا مقصد طلبہ کو مہارتیں، رہنمائی اور مواقع تک رسائی فراہم کرنا تھا۔اب تک اس اقدام سے تقریباً۲۰؍ ہزار طلبہ مستفید ہو چکے ہیں۔ اسی دوران آدرش نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اور خود بھی مختلف مواقع حاصل کرتا رہا۔ اسے اسکالرشپس ملیں، وہ گوگل یوتھ ایڈوائزربنا، بین الاقوامی انٹرپرینیورشپ پروگراموں میں حصہ لیا اور عالمی مقابلوں کے ذریعے طلبہ کی رہنمائی کی۔
یہ بھی پڑھئے: ’کون بنے گا کروڑپتی‘ میں ایک کروڑروپے کا سوال چھوڑنے والا نوجوان کون ہے؟
۲۰۲۵ءمیں تقریباً۱۴۸؍ ممالک سے موصول ہونے والی۱۱؍ ہزار نامزدگیوں میں سے آدرش کو’گلوبل اسٹوڈنٹ پرائز ‘ کا فاتح منتخب کیا گیا۔اور اب جارج ٹاؤن کی باری ہے۔جارج ٹاؤن میں داخلے کی خبر اسے ایسے وقت ملی جو کسی بین الاقوامی یونیورسٹی کی درخواست کے رسمی عمل سے بالکل مختلف تھا۔
آدرش کہتا ہے:’’جب مجھے ای میل موصول ہوئی تو میں اپنی ماں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔‘‘’’مجھے یاد ہے کہ میں بے حد خوش تھا اور تقریباً یقین ہی نہیں کر پا رہا تھا کہ میں جو پڑھ رہا ہوں، وہ حقیقت ہے۔ داخلے کے پورے عمل کے دوران جو کچھ ہوا، اس کے بعد جارج ٹاؤن یونیورسٹی قطر کی جانب سے مکمل اسکالرشپ کی پیشکش دیکھنا میرے لیے انتہائی جذباتی لمحہ تھا۔‘‘یہ اسکالرشپ اس لیے بھی خاص ہے کیونکہ آدرش کی اپنی تعلیم بھی اسکالرشپس اور ان لوگوں کی مدد سے ممکن ہوئی جو اس کی صلاحیت پر یقین کرنے کے لیے تیار تھے۔
جارج ٹاؤن میں داخلے سے قبل آدرش کو۲۲؍ یونیورسٹیز نے مسترد کیا ۔ اس نے مختلف غیرملکی یونیورسٹیوں میں درخواستیں دیں، لیکن یکے بعد دیگرے درخواست مسترد ہوتی رہی، یہاں تک کہ اس کے پاس عام داخلہ کے مواقع تقریباً ختم ہوگئے۔ اس وقت سیکنڈچانس نامی ادارے کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی قطر کے ساتھ ایک شراکت داری تھی، جوفلسطینی طلبہ کی مدد کرتی تھی۔اس ادارے کی بانی یوان لیو نے یونیورسٹی سے درخواست کی کہ وہ آدرش کی پروفائل دیکھے اور اس کی درخواست پر خصوصی طور پر غور کرے۔ اس استثنا نے اس کی زندگی کا رخ بدل دیا۔آدرش کہتا ہے:’’اس سے مجھے یہ سبق ملا کہ بعض اوقات مسئلہ صلاحیت کا نہیں ہوتا۔ لوگوں کو صرف ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کیلئے ایک دروازہ کھولنے اور موقع دینے کیلئے تیار ہو۔‘‘آدرش کہتے ہیں کہ جارج ٹاؤن میں میرا داخلہ چھوٹے شہروں کے طلبہ کیلئے بھی پیغام ہے کہ میں کرسکتا ہوں تو آپ بھی کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بارش کے موسم میں اِن اشیاء سے پرہیز کرنا چاہئے
اسکل زو کیا ہے؟
اسکل زو ایک ایڈ ٹیک پلیٹ فارم ہے، جسے۲۰۲۳ءمیں آدرش کمار نے قائم کیا ۔ اسے ابتدا میں ہائی اسکول کے طلبہ اور نوجوانوں کو کاروباری تعلیم، عالمی سطح کے مینٹورز اور حقیقی دنیا کے تجربات کے ذریعے بااختیار بنانے کے مقصد سے شروع کیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ’اسکل زو‘ کا نام علاقائی تعلیمی معاونت اور مصنوعی ذہانت(اے آئی )پر مبنی پیشہ ورانہ کوچنگ کے اقدامات سے بھی وابستہ ہوا ہے۔اس کے ذریعہ آئی آئی ٹیز جیسے اداروں کے تعاون سے ایسے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں جن کے ذریعے طلبہ کو اسٹارٹ اپس بنانے، جدت طرازی کی تحریک میں شامل ہونے اور قومی سطح کے چیلنجز میں حصہ لینے میں مدد دی جاتی ہے۔
طلبہ کو آدرش کا مشورہ: خود کو مسترد نہ کریں
آدرش کہتے ہیں کہ نے بار باریہ سبق سیکھا ہے :’’ مسترد کیا جانا ہمیشہ سفر کا اختتام نہیں ہوتا۔ جو طلبہ سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ درجے کی یونیورسٹیاں ان کی پہنچ سے باہر ہیں، ان کیلئے کہنا چاہتا ہوں کہ ریجکیشن آئیں گے، لیکن آپ خود کو مسترد نہ کریں۔ ایک ریجکیشن آپ کی صلاحیت کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں بننا چاہیے۔‘‘آدرش طلبہ کو یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ’’ صرف روایتی راستوں تک محدود نہ رہیں بلکہ اسکالرشپس، مینٹور، اداروں اور ایسے لوگوں کو تلاش کریں جو آپ کی مدد کیلئے تیار ہوسکتے ہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ کبھی کبھی دروازہ تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دروازہ موجود ہی نہیں ہے۔‘‘