شادی سامانِ راحت تب بنے گی جب دو دِلوں میں بیک وقت بھلائی کے جذبات پیدا ہوں گے۔ یہ جذبات ذاتی نہ ہو کر گھر، خاندان، سماج اور معاشرے کی بھلائی کیلئے ہوں تو یہ سونے پہ سہاگہ ہوگا۔
EPAPER
Updated: May 06, 2026, 2:52 PM IST | Arifa Khalid Sheikh | Mumbai
شادی سامانِ راحت تب بنے گی جب دو دِلوں میں بیک وقت بھلائی کے جذبات پیدا ہوں گے۔ یہ جذبات ذاتی نہ ہو کر گھر، خاندان، سماج اور معاشرے کی بھلائی کیلئے ہوں تو یہ سونے پہ سہاگہ ہوگا۔
شادی کو سامانِ راحت بننا چاہئے کیونکہ:
(۱) شادی خوشی کا باعث ہوتی ہے اِس کا معنی ہی خوشی ہے۔ یہ پاکیزہ عمل پاکیزہ سماج کی تشکیل میں معاون ہے۔
(۲) شادی دو دِلوں میں محبت پیدا کرتی ہے اور ایک خاندان کو دوسرے خاندان سے جوڑ کر باہمی اُلفت اور خیرسگالی کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، رشتے بنتے ہیں اور تعلقات بڑھتے ہیں۔
(۳) شادی سے شخصی زِندگی کی تکمیل کا سبب بنتی ہے۔ زوجین ایک دوسرے کیلئے سُکون کا باعث بنتے ہیں۔ اس طرح انفرادی خالی پن دور ہوتا ہے اور خاندان تشکیل پاتا ہے ۔
(۴) شادی چونکہ نظامِ حیات اور گردشِ ایام کا تصور پیش کرتی ہے اِس لئے یہ جمود ، یکسانیت اور بیزاری کو دور کر کے ’’حرکت میں برکت‘‘ کی تصدیق کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نجی و خانگی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈالنے کا چکر، نیا بوجھ ہے
شادی کی اہمیت و افادیت جگ ظاہر ہے ۔ اِس کے باوجود آج شادی بوجھ بنی ہوئی ہے جس کی بعض وجوہات درج ذیل ہیں:
٭ موجودہ دور میں شادی کو ایک زنجیر سمجھا جارہا ہے۔ نوجوانوں کو یہ ایک ایسی بیڑی محسوس ہوتی ہے جو شخصی آزادی چھین کر ذمّے داریوں کا بوجھ لاد دیتی ہے ۔
٭ بے جا رسم و رواج اور کھوکھلی روایتوں کی پاسداری نے لوگوں میں بیزار ی پیدا کر دی ہے جس میں وقت ، پیسہ اور توانائی صرف ہوتی ہے ۔ یہ اسراف ہے اور شادی جیسے مقدس رشتے میں اس کی قطعاً ضرورت نہیں ہے ۔ اِس کے علاوہ شادی کی غیر ضروری نمود و نمائش میں بے جا خرچ مناسب نہیں۔ اِس لئے بھی شادی بوجھ بن رہی ہے۔
٭ شادی کا ڈر بھی نوجوانوں میں وہم پیدا کررہا ہے۔ لوگ دوسروں کا دیکھا دیکھی یہ سوچنے لگتے ہیں کہ اگر خدا نخواستہ اُن کے ساتھ بھی کچھ بُرا ہو گیا تو؟ اگر کسی اور کی شادی کامیاب نہیں ہوئی تو اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ بھی ناکام ہونگے۔ یہ آپ کے اپنے اِختیار میں ہوتا ہے کہ آپ ازدواجی زندگی میں کیسا کردار ادا کرتے ہیں۔ ٹوٹتے گھروں اور بکھرتے رشتوں کو دیکھ کر خوف محسوس کرنا درست نہیں ہے۔
یادرکھئے کہ شادی سامانِ راحت تب بنے گی جب دو دِلوں میں بیک وقت بھلائی کے جذبات پیدا ہوں گے۔ یہ جذبات ذاتی نہ ہو کر گھر، خاندان، سماج اور معاشرہ کی بھلائی کیلئے ہوں تو یہ سونے پہ سہاگہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: ہمیں میڈیا، ڈراموں اور فلموں کی شادیوں کے تصورات سے نکلنا ہوگا!
شادی کے سامانِ راحت بننے میں حائل چند مسائل اور اُن کا حل:
مسئلہ(۱): آج بعض زوجین آزاد خیالات کے حامل ہیں۔ معاشی استحکام نے اُن کیلئے متبادل راہیں کھول دی ہیں۔ اُن کے سوچنے سمجھنے کا انداز مختلف ہے۔ جِس سے اختلافات کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔
حل: ایسے میں زوجین کی آپسی اہمیت اور ضرورت پر زور دیا جانا چاہئے ۔ شادی کی نجی اور سماجی حیثیت واضح کی جانی چاہئے۔
مسئلہ(۲): صبر ، برداشت جیسے الفاظ اپنی حقیقی معنویت کھو کر صرف کہنے سننے کیلئے رہ گئے ہیں۔ عدم برداشت ہر خاص و عام کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے جبکہ بھلا زوجین بھی مستثنیٰ نہیں ہیں۔
حل: خاموشی جیت کا دوسرا نام ہے ۔ غصّے کی حالت میں خاموشی اختیار کرنا ہزار بلاؤں کو ٹالتا ہے۔ ایک طیش میں ہو تو دوسرا خاموش رہے۔ بعد میں معاملہ اطمینان سے سلجھایا جا سکتا ہے ۔
مسئلہ (۳) جدیدیت: نیا اور منفرد نظر آنا لوگوں کی پہلی ترجیح بن چکی ہے۔ظاہری چمک دمک نے قدرتی حُسن اور سادگی کو فرسودگی کا نام دے رکھا ہے ۔ ایسے میں اُمید و بیم کی کیفیت اُن لوگوں کو زیادہ پریشان کرتی ہے جن کی آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں۔
حل: یہاں زوجین یہ یاد رکھیں کہ ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی ۔ بناوٹی حسن عارضی ہوتا ہے ۔ حقیقی خوشی دِلوں کی پاکیزگی میں ہے ۔ اس کے ساتھ ہی جتنی چادر اُتنے پاؤں پھیلانے چاہئے۔
مسئلہ (۴) پرفیکشن: کاملیت نے ہر کس و ناکس کو اپنی طرف راغب کر رکھا ہے ۔ فریقین ایک دوسرے کو کامل اور مکمل دیکھنا چاہتے ہیں۔ اِس لئے مقابل سے ہونے والی معمولی چوک بھی بڑی گردانی جاتی ہے جس سے نفاق پیدا ہوتا ہے اور گھر بگڑتا ہے ۔
حل : اِنسان غلطیوں کا پتلا ہے ۔ غلطی کس سے نہیں ہوتی۔ آج سامنے والے سے ہوئی ہے تو کل آپ سے بھی ہو سکتی ہے۔ زوجین اگر یہ سوچ لیں تو یہ مثبت طرز فکر انہیں حوصلہ دے گا اور پھر چاہے غلطی کسی کی ہو، کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔
یہ بھی پڑھئے: گرمی کا موسم اور میک اَپ: چند کارآمد باتیں
شادی باعث راحت تب ہی بن سکتی ہے جب دو افراد باہمی رضامندی سے زندگی گزارنے کا وعدہ کریں اور اِس وعدہ کی تکمیل کیلئے جی جان ایک کر دیں۔ شوہر اپنی ذات سے بیوی کو اور بیوی اپنے خاوند کو تکلیف نہ پہنچائے۔ دونوں ایک دوسرے کے آرام کا خیال رکھیں، اپنی اپنی ذمّے داریاں بحسن و خوبی نبھائیں نیز فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی نہ برتیں۔ گھر زوجین کے اشتراک سے سُکون کا گہوارہ بنتا ہے ۔ اِس میں جتنا دخل مرد کا ہے اُتنا ہی عورت کا بھی ہے ۔ یہ بھی سچ ہے کہ گھر مکین کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ یہاں آپ جو کہیں گے وہی سنائی دے گا۔ جو دیکھنا چاہیں گے وہی نظر آئے گا۔ یہ کمال ہر فرد میں ہوتا ہے۔ شرط صرف اتنی ہے کہ منفی سوچ چھوڑ کر مثبت انداز اپنایا جائے۔
شادی بیاہ گڈے گڑیوں کا کھیل نہیں۔ اگر سمجھیں تو یہ اِنسانی دور کا سنہرا باب ہوتا ہے ۔ ایک نئی زندگی کی شروعات ، جِس میں ایک نئے خاندان کی بنیاد پڑتی ہے۔
کہتے ہیں زِندگی چار دن کی ہوتی ہے ۔ کوئی ہنس کر گزارتا ہے تو کوئی رو کر۔ اب یہ آپ کو طے کرنا ہے کہ آپ کیا اور کیسے جینا پسند کرتے ہیں۔