Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک اچھا مہمان وہ ہوتا ہے جو میزبان کے لئے آسانی کا سبب بنے، نہ کہ زحمت کا

Updated: May 06, 2026, 3:07 PM IST | Rafiqa Pallukar | Mumbai

مہمان تو وہ ہوتے ہیں جو آئیں ،بیٹھیں اور دل کی بات کریںمگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بیٹھنے نہیں آتے، بس چھان بین کرنے آتے ہیں، کچھ مہمان ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے ساتھ باتوں کی مٹھاس نہیں بلکہ غیبت کی کڑواہٹ لے کر آتے ہیں۔

A good guest wins the heart of the host with his pleasant words. Photo: INN
اچھا مہمان اپنی خوشگوار باتوں سے میزبان کا دل جیت لیتا ہے۔ تصویر: آئی این این

مہمان نوازی ہماری معاشرتی روایات کا اہم حصہ ہے۔اسلام میں مہمان نوازی کو بڑی فضیلت حاصل ہے مگر جس طرح میزبان پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، اسی طرح مہمان کے لئے بھی کچھ آداب مقرر کئے گئے ہیں۔ ایک اچھا مہمان وہ ہوتا ہے جو میزبان کے لئے آسانی کا سبب بنے، نہ کہ زحمت کا۔سب سے پہلے مہمان کو چاہئے کہ اطلاع دیئے بغیر کسی کے گھر نہ جائے۔ اچانک پہنچ جانا بعض اوقات میزبان کے لئے مشکل پیدا کر دیتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ پہلے سے اطلاع دے کر وقت طے کیا جائے تاکہ میزبان مناسب تیاری کر سکے۔گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا، خوش اخلاقی سے پیش آنا اور میزبان کے گھر کے اصولوں کا احترام کرنا ایک مہذب مہمان کی پہچان ہے۔ گھر کی صفائی، سجاوٹ یا کھانے پینے پر تنقید کرنے کے بجائے میزبان کی محبت، خلوص اور نیت پر توجہ دینی چاہئے۔ حقیقی خوشی اسی میں ہے کہ تعلقات عزت و احترام کے ساتھ نبھائے جائیں۔

یہ بھی پڑھئے: قیمتی زیورات کی آن لائن خریدار ی بھی کی جاسکتی ہے، ان طریقوں کو اپنائیں

مہمان کو چاہئے کہ میزبان کے وقت اور مصروفیات کا خیال رکھے۔ بلا وجہ زیادہ دیر نہ ٹھہرے اور اگر رکنا ضروری ہو تو اجازت ضرور لے۔ گھر میں موجود چیزوں کا بے جا استعمال نہ کرے اور بچوں یا بزرگوں کے ساتھ نرمی اور شفقت سے پیش آئے۔آخر میں جب مہمان واپسی کا  ارادہ کرے تو شکریہ ادا کرے اور میزبان کی مہمان نوازی کی تعریف کرنا نہ بھولے۔ اس سے محبت بڑھتی ہے اور تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ مہمان بننا بھی ایک فن ہے۔ جو شخص شائستگی، لحاظ اور شکرگزاری کے ساتھ کسی کے گھر جاتا ہے وہ نہ صرف اپنا بلکہ اپنے میزبان کا دل بھی جیت لیتا ہے۔مہمان تو وہ ہوتے ہیں جو آئیں ،بیٹھیں اور دل کی بات کریںمگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بیٹھنے نہیں آتے، بس چھان بین کرنے آتے ہیں۔جی ہاں!وہی مہمان جو صوفے پر سکون سے بیٹھنے کے بجائے پورے گھر کا چکر لگانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔دروازے سے داخل ہوں گے تو سلام کے ساتھ ساتھ نگاہیں بھی اندر داخل ہو جاتی ہیں۔پہلے ہال، پھر کچن، پھر کمروں کی طرف ایک ہلکی سی جھلک اور اگر موقع مل جائے تو الماریوں تک کا اندازہ بھی لگا لیتے ہیں ۔آپ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ مہمان آئے ہیں مگر اصل میں وہ ایک خاموش سروے پر نکلے ہوتے ہیں۔ان کی ایک خاص بات یہ بھی ہوتی ہے کہ یہ سوال بہت معصوم انداز میں کرتے ہیں،’یہ کہاں سے لیا؟‘،’یہ کب خریدا؟‘،’یہ کتنا پرانا ہو گیا؟‘اور آپ جواب دے رہے ہوتے ہیںمگر وہ جواب نہیں معلومات جمع کر رہے ہوتے ہیں ۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ وہ دیکھتے ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو جانچنے کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔یہ لوگ محفل میں کم اور چھان بین  میں زیادہ ہوتے ہیں۔باتوں میں کم مشاہدہ زیادہ کرتے ہیںاور افسوس احساس میں سب سے کم ہوتے ہیں۔ایسے مہمان کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ہر دروازہ جو کھلا ہے وہ اعتماد کی وجہ سے کھلا ہے۔ہر چیز جو نظر آ رہی ہے وہ دکھانے کے لئے نہیں، جینے کے لئے ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نجی و خانگی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈالنے کا چکر، نیا بوجھ ہے

اگر آپ کسی کے گھر جا کر اس کے سکون میں اضافہ نہیں کر سکتےتو کم از کم اس کے سکون کو ’جائزہ‘بنا کر نہ لے جائیں۔یاد رکھیں!مہمانی کا مطلب صرف آنا نہیں ہوتا بلکہ مہمانی کا مطلب ہے کسی کے دل میں جگہ بنانااور دل میں جگہ وہی بناتا ہےجو نگاہوں سے نہیں، احساس سے دیکھتا ہے ۔مہمان نوازی ہماری تہذیب کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔ ہم دل کھول کر مہمانوں کا استقبال کرتے ہیں، ان کی خدمت کو باعثِ سعادت سمجھتے ہیں مگر کچھ مہمان ایسے بھی ہوتے ہیں جو بغیر اطلاع، بغیر وقت دیکھے، اچانک آ دھمکتے ہیںاور یہی ’ بن بلائے مہمان ‘کہلاتے ہیں۔ایسے مہمان بظاہر تو مسکراہٹ کے ساتھ گھر میں داخل ہوتے ہیں مگر ان کی آمد اکثر میزبان کے لئے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔ گھر کے افراد اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں ہوتے ہیں، کوئی آرام کر رہا ہوتا ہے، کوئی پڑھائی میں مصروف ہوتا ہے اور اچانک دروازے پر دستک سب کچھ بدل دیتی ہے۔ میزبان کو فوراً اپنی ترتیب بدلنی پڑتی ہے، جلدی جلدی گھر کو سمیٹنا، کھانے پینے کا انتظام کرنا اور خود کو مہمان داری کے لئے تیار کرنا پڑتا ہے۔

بعض اوقات یہ مہمان طویل وقت تک بیٹھے رہتے ہیںاور میزبان کی مجبوریوں کو سمجھے بغیر گفتگو میں مصروف رہتے ہیں۔ نہ انہیں وقت کا احساس ہوتا ہے، نہ حالات کا۔ اس دوران میزبان کے دل میں ایک عجیب سی کشمکش چل رہی ہوتی ہے۔ایک طرف مہمان نوازی کا تقاضا اور دوسری طرف اپنی ذاتی مصروفیات اور تھکن۔

یہ بات بھی درست ہے کہ مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں مگر ہر چیز کا ایک مناسب وقت اور طریقہ ہوتا ہے۔ اگر مہمان آنے سے پہلے اطلاع دے دیں تو میزبان بہتر طریقے سے ان کا استقبال کر سکتا ہے اور دونوں کے لئے ملاقات خوشگوار بن سکتی ہےلہٰذا ضروری ہے کہ ہم دوسروں کی سہولت کا خیال رکھیں۔ بغیر بلائے یا بغیر اطلاع کے کسی کے گھر جانا نہ صرف آداب کے خلاف ہے بلکہ یہ دوسروں کے لئے مشکل بھی پیدا کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آفس کاکام کرنے کے ساتھ بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت کیسے دیا جا سکتا ہے؟

ہر مہمان خوشی اور سکون کا باعث نہیں بنتا۔ کچھ مہمان ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے ساتھ باتوں کی مٹھاس نہیں بلکہ غیبت کی کڑواہٹ لے کر آتے ہیں۔ اس  طرح کے مہمان نہ صرف محفل کا رنگ بدل دیتے ہیں بلکہ دلوں میں فاصلے بھی پیدا کر دیتے ہیں۔ایسے مہمان جب کسی کے گھر آتے ہیں تو ان کی گفتگو کا مرکز عموماً دوسرے لوگوں کی ذات ،اُن کی برائیاں، راز اور ذاتی معاملات ہوتے ہیں۔ وہ ایک شخص کی بات دوسرے تک اور دوسرے کی بات تیسرے تک پہنچا کر ایک عجیب سا جال بن دیتے ہیں۔ بظاہر وہ باتوں میں دلچسپی پیدا کرتے ہیں مگر حقیقت میں وہ بداعتمادی اور غلط فہمیوں کو جنم دیتے ہیں۔     اسلام اور اخلاقی تعلیمات میں غیبت اور چغلی سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف گناہ ہے بلکہ معاشرے میں نفرت اور دوری کا سبب بھی بنتی ہے۔ ایک سمجھدار میزبان وہی ہے جو ایسے مہمانوں کی باتوں میں نہ آئے اور گفتگو کا رخ مثبت موضوعات کی طرف موڑ دے۔ ہمیں بطور مہمان بھی یہ سوچنا چاہئے کہ ہماری باتیں دوسروں کے دلوں پر کیا اثر ڈال رہی ہیں۔ اچھا مہمان وہی ہوتا ہے جو خوشی، سکون اور محبت کا پیغام لے کر آئے، نہ کہ اختلاف اور بدگمانی کا۔بہتر یہی ہے کہ ہم ایسی عادتوں سے بچیں اور اپنی محفلوں کو سچائی، اخلاص اور مثبت گفتگو سے مزین کریں۔ مختصراً ہمیں مہمان نوازی کے ساتھ ساتھ مہمان بننے کے آداب بھی سیکھنے چاہئیں، تاکہ ہمارے تعلقات محبت، احترام اور خوشگوار یادوں سے بھرے رہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK