• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تعلیمی انقلاب نے سیکھنے کے عمل کو بوجھ نہیں بنایا

Updated: September 04, 2026, 11:58 AM IST | Mumbai

بلکہ طلبہ کے اس اخبار نے تعلیم میں دلچسپی پیدا کردی ہے۔ انقلاب کی طرح اس کا اندازِ پیشکش بھی بے مثال ہے۔

Uzma Naheed. Picture: INN
عظمیٰ ناہید۔ تصویر: آئی این این

تعلیمی انقلاب بے حد دلچسپ اور معلوماتی ہے۔ مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ ہر عمر اور مزاج کے طلبہ کی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف موضوعات پر مضامین بہت خوبصورتی کے ساتھ پیش کئے جاتے ہیں۔ آج والدین کے پاس گھر کے نوعمرافراد کی تربیت کے لئے وقت نہیں ہے۔ آج کل یہ موضوع زیر بحث ہے کہ کمپیوٹر یا موبائل کا اسکرین بہتر ہے یا کتاب۔ کہتے ہیں کتاب کا پڑھا یاد رہتا ہے جبکہ اسکرین سے نظر ہٹتے ہی ذہن سے سب کچھ محو ہو جاتا ہے۔ ایسے بہت سے سوالات موجودہ ترقی نے انسانوں کے سامنے پیش کئے ہیں جو دراصل نئی نسل کو متاثر کرتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:دُعا ہے کہ ’انقلاب‘ کا جریدہ ’تعلیمی انقلاب‘ طلبہ کی علمی و فکری آبیاری کا مؤثر ذریعہ بنے

میں اپنے تجربات کی روشنی میں کہہ سکتی ہوں کہ یہ دور اپنی تمام تر الجھنوں کے باوجود بہترین دور ہے کیونکہ انسان کو اپنے ذوق، مزاج اور دلچسپی کے ہر میدان تک رسائی حاصل ہے۔ معلومات کا ایک سیلاب ہے جس سے ہر کوئی جس طرح چاہے فیضیاب ہو سکتا ہے۔ اس دَور میں نو عمر طلبہ کو پڑھانا نسبتاً آسان ہوگیاہے اور والدین کے لئے بھی آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:پڑھائی کو گیم بنالیں، اسٹڈی کرنے میں لطف آئیگا!

تعلیمی انقلاب کی ایک خصوصیت موضوعات کا تنوع ہے۔ اس کے ہر شمارے میں ہر ایسے موضوع پر مواد موجودہے جس کی ایک طالب علم کو ضرورت ہو سکتی ہے۔ حالانکہ یہ ایک تعلیمی سلسلہ ہے لیکن انقلاب نے خاص خیال رکھا ہے کہ تعلیم کو بچوں پر بوجھ بنا کر نہ لا دا جائے بلکہ تعلیم میں اس کے لئے دلچسپی پیدا کر دی جائے۔ جدید طریقۂ تعلیم میں اس کی خاص اہمیت ہے۔ یہ ایک بہت اچھی کوشش ہے جس کی طرف کسی اور اخبار نے توجہ نہیں دی تھی ۔ ایک اعتبار سے انقلاب وہ واحد اخبار ہے جسے ہم بجاطور پر پورے خاندان کا اخبار کہہ سکتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اس تعلیمی کوشش سے ہمارے نو عمر بچے اچھے شہری بنیں گے اور تعلیمی میدان میں بھی سرخرو ہو ں گے۔ ہماری دعائیں تعلیمی انقلاب کے ساتھ ہیں۔

 (مضمون نگار’’اقراء ایجوکیشن فاؤنڈیشن ‘‘ کی ڈائریکٹر ہیں)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK