روزنامہ انقلاب کی جانب سے ’’تعلیمی انقلاب‘‘ قارئین کے لئے ایک نہایت خوش آئند، تخلیقی اور مضبوط فکری صحافتی پیش رفت ہے۔ یہ اخبار ہر عمر کے طلبہ، اساتذہ اور والدین کیلئے موبائل اور اسکرین کی مصروف دنیا سے دامن چھڑا کر سیکھنے، سکھانے اور علمی گفتگو سے جڑنے کا ایک خوب صورت وسیلہ ہے۔
محمد برہان الدین قاسمی۔ تصویر: آئی این این
روزنامہ انقلاب کی جانب سے ’’تعلیمی انقلاب‘‘ قارئین کے لئے ایک نہایت خوش آئند، تخلیقی اور مضبوط فکری صحافتی پیش رفت ہے۔ یہ اخبار ہر عمر کے طلبہ، اساتذہ اور والدین کیلئے موبائل اور اسکرین کی مصروف دنیا سے دامن چھڑا کر سیکھنے، سکھانے اور علمی گفتگو سے جڑنے کا ایک خوب صورت وسیلہ ہے۔ علمی، تحقیقی، تصنیفی اور تخلیقی ذوق رکھنے والے قلم کاروں کیلئے یہ اخبار اپنی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے اور اپنے خیالات کو نئی نسل تک پہنچانے کا قیمتی پلیٹ فارم ہے۔ مجھے اس کے مطالعے سے محظوظ اور مستفید ہونے کا بارہا موقع ملا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: جہاں محبت ہے، وہاں خدا بھی ہے
’’تعلیمی انقلاب‘‘ میں طلبہ ہی نہیں بلکہ بڑوں کیلئے بھی اہم ہے، وہ اس اعتبار سے کہ عالمی ادب کی دل چسپ کہانیوں اور سبق آموز تحریروں کا انتخاب اس کے دائرۂ افادیت کو مزید وسیع کر دیتا ہے۔ مثلاً مشہور برطانوی شاعر’’سیموئل ٹیلر کولرج‘‘ کی شہرۂ آفاق نظم The Rime of the Ancient Mariner کا خوب صورت اردو ترجمہ ’’بوڑھے ملّاح کی داستان‘‘ اورمعروف فرانسیسی ادیب ’’انٹوانی دے سینٹ اگزوپیری‘‘ کی شہرہ آفاق تخلیق The Little Prince کا اردو روپ ’’ننھا شہزادہ‘‘ اسکولی طلبہ ہی کو نہیںہم بڑوں کو بھی عالمی ادب کی وسعتوں اور تخلیقی فکر کی گہرائیوں سے روشناس کرانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
اسی طرح ’’اِن ہیروز نے عزم کیا، عمل کیا، منفرد راہ اپنائی اور نام کمایا‘‘ جیسی حوصلہ افزا تحریریں طلبہ میں عزم، خود اعتمادی، جدتِ فکر اور مثبت عملی رویے کو پروان چڑھانے میں معاون ہیں۔ دینی، روحانی، تعلیمی اور سماجی موضوعات کے ساتھ صحت، کھیل کود اور طنز و مزاح سے متعلق مختصر مگر مفید اور قابلِ عمل مواد بھی اسے محض نوعمر طلبہ کا جریدہ نہیں رہنے دیتا بلکہ پورے خاندان کیلئے ایک مفید اور دل چسپ مطالعہ بنا دیتا ہے۔ اس سلسلے کی ایک مثال پیش کرنا چاہوں گا۔ ۱۴؍ اگست ۲۰۲۶ء کے شمارہ میں ’’منفرد طریقے: جشن آزادی منانے کیلئے ۱۶؍ آئیڈیاز‘‘ بھی طلبہ اور بڑوں، دونوں کے لئے بروقت، مفید اور قابلِ عمل تجاویز کا حامل محسوس ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اونجرز: ڈومزڈے ‘‘ کی ری شوٹنگ نے کیمیوز کی قیاس آرائیاں بڑھا دیں
جمعہ، ۴؍ ستمبر کو ’’تعلیمی انقلاب‘‘کی نویں سالگرہ کے موقع پر روزنامہ ’’انقلاب‘‘ کے قابلِ قدر مدیر محترم شاہد لطیف صاحب اور ان کی پوری ٹیم کو دل کی گہرائی سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ ’’انقلاب‘‘ کا یہ تعلیمی سفر اسی جذبے، خلوص اور معیار کے ساتھ آگے بڑھتا رہے، اس کے اثرات محض اخبار کے صفحات تک محدود نہ رہ کر گھروں، اسکولوں اور معاشرہ میں ایک حقیقی تعلیمی، تربیتی اور فکری انقلاب کی صورت اختیار کریں۔ نئی نسل کے اذہان کو صحیح علم، صحت مند فکر اور تخلیقی شعور کی روشنی سے منور کریں، ان کے دلوں میں علم کی محبت اور عمل کا جذبہ پیدا کریں اور بالآخر ملک و ملت کی علمی و فکری آبیاری کا مؤثر ذریعہ بنیں۔ ’’تعلیمی انقلاب‘‘ کی اصل معنویت اور بڑی کامیابی یہی ہوگی۔
(مضمون نگار انگریزی زبان کے مصنف و شاعر، مرکزالمعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی کے ڈائریکٹر اور ’’دی ایسٹرن کریسینٹ‘‘ کے مدیر ہیں)