مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بلڈوزروں کی کارروائی سے قبل فلسطینی خاتون کے زیتون کے درخت سے لپٹنے کا دلخراش منظر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا۔
EPAPER
Updated: September 04, 2026, 12:17 PM IST | Agency | West Bank
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بلڈوزروں کی کارروائی سے قبل فلسطینی خاتون کے زیتون کے درخت سے لپٹنے کا دلخراش منظر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بلڈوزروں کی کارروائی سے قبل فلسطینی خاتون کے زیتون کے درخت سے لپٹنے کا دلخراش منظر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا۔ جنین کے جنوب مغرب میں واقع علاقے عرابہ میں اسرائیلی بلڈوزر فلسطینی کسانوں کے زیتون کے درخت اکھاڑنے پہنچے تو ایک فلسطینی خاتون اپنے درخت سے لپٹ گئی۔درخت کو الوداع کہتے ہوئے خاتون کے جذباتی مناظر نے سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کر لی۔
اسرائیلی فورسیز کی نگرانی میں بلڈوزروں نے عرابہ اور یعبد کو ملانے والی سڑک کے اطراف موجود درجنوں زیتون کے درخت اکھاڑ دیے، ان میں کئی برس پرانے درخت بھی شامل تھے، جس سے متعدد فلسطینی خاندانوں کے روزگار کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔فلسطینی حکام کے مطابق مغربی کنارے میں زیتون کے درختوں کو اکھاڑنے اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔فلسطینی وزارتِ زراعت کے مطابق رواں برس مارچ میں بھی جنین کے مختلف علاقوں میں ہزاروں زیتون کے درخت اکھاڑے جانے کی رپورٹیں سامنے آئی تھیں۔ متاثرہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ زیتون کے درخت ہمارے لیے محض آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ زمین، خاندان اور نسلوں سے جڑی شناخت کی علامت بھی ہیں، اسی لیے درختوں کا خاتمہ ہمارے لیے معاشی نقصان کے ساتھ ایک گہرا جذباتی صدمہ بھی ہے۔