کالج سے نکالنے کے فیصلے کودرست قرار دیا۔ تینوں اپنی ڈگری مکمل کر چکے تھے اور کیمپس پلیسمینٹ بھی حاصل کر چکے تھے۔ ان میں سے ایک طالب علم کو دنیا کے معروف تعلیمی ادارے بوسٹن کنسلٹنگ گروپ میں ملازمت بھی مل چکی تھی۔
EPAPER
Updated: September 03, 2026, 2:21 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
کالج سے نکالنے کے فیصلے کودرست قرار دیا۔ تینوں اپنی ڈگری مکمل کر چکے تھے اور کیمپس پلیسمینٹ بھی حاصل کر چکے تھے۔ ان میں سے ایک طالب علم کو دنیا کے معروف تعلیمی ادارے بوسٹن کنسلٹنگ گروپ میں ملازمت بھی مل چکی تھی۔
جمنالال بجاج انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اسٹڈیز کے ۳؍ طلبہ کو جعلی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر کالج میں داخلہ لینے پر ایک طرف کالج سے نکالنے اور کمپنیوں میں ہونے والے پلیسمینٹ سے ہاتھ دھونا پڑا تو دوسری طرف کالج انتظامیہ کے اس فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کرنے پر بھی انہیں اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب کورٹ نے کالج کے فیصلہ کو درست قرار دیتے ہوئے ان کی درخواست کو خارج کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: کنیڈا کے برٹش کولمبیا میں نمودار ہونے والا پراسرار جزیرہ چند ہفتوں بعد ہی غائب!
قابل ذکر بات یہ ہے کہ جعلی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر داخلہ لینے والے تینوں طلبہ نےامتحان میں کامیابی کے بعد نہ صرف ڈگری حاصل کر لی بلکہ مختلف کمپنیوں میں ہونے والے پلیسمینٹ کے لئے دیئے جانے والے انٹر ویو میں بھی وہ کامیاب ہوگئے ۔ ان میں سے ایک طالب علم کو تو بوسٹن کنسلٹنگ گروپ میں ملازمت بھی مل چکی ہے ۔مذکورہ معاملہ میں درخواست گزار طلبہ نے جعلی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر لئے گئے داخلہ کے بعد جو ڈگری حاصل کی ہے ، وہ اپنے پڑھائی اور امتحان میں باقاعدہ شرکت کے بعد حاصل کی ہے ۔ انہوںنےیہ بھی کہا کہ جعلی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر داخلہ لیتے وقت ہی کالج انتظامیہ کو ایکشن لینا چاہئے تھا۔ اگر انہوںنے ہماری کامیابی اور پلیسمینٹ کے بعد یہ معلوم کیا ہے کہ داخلہ کے وقت جعلی سرٹیفکیٹ دیا گیا تھا تو یہ ان کی غلطی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی حملے سے شادی کا گھر، ماتم کدہ میں تبدیل
انہوں نے کورٹ سے اپیل کی کہ وہ دیئے گئے امتحان کی بنیاد پر اور امتحان میں ملی کامیابی اور پلیسمینٹ کی بنیاد پر کالج انتظامیہ کو ہمیں ڈگری فراہم کرنے کی ہدایت دیں ۔تاہم کالج انتظامیہ نے ڈگری امتحان میں کامیابی اور پلیسمینٹ کے بعد ایک گمنام خط کے ذریعہ مذکورہ طلبہ کی داخلہ کے وقت دیئے گئے سرٹیفکیٹ کے جعلی ہونے کا پتہ چلا تھا ۔
بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کے جسٹس ریاض چھاگلا اور جسٹس فردوس پونی والانے دونوں فریق کی بحث سننے کے بعد کہا کہ’’ جعلی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر حاصل کئے گئے داخلہ کو جب صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا ہے تو داخلہ کے بعد دیئے گئے امتحان کو جائز کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔‘‘ کورٹ نے طلبہ کے دلائل کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی راحت دینے سے انکار کردیا اور ان کی عرضداشت کو خارج کر دیا۔