وقت رہنے کے باوجود ورلی میں بی ایم سی کے تارکول سےگڑھے بھرنے کےپلانٹ کو بند کرکے ٹھیکہ نجی کمپنی کو دینے کے سوال پر خاموشی۔
EPAPER
Updated: September 03, 2026, 2:24 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
وقت رہنے کے باوجود ورلی میں بی ایم سی کے تارکول سےگڑھے بھرنے کےپلانٹ کو بند کرکے ٹھیکہ نجی کمپنی کو دینے کے سوال پر خاموشی۔
بی ایم سی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی بدھ کو میٹنگ میں زبردست ہنگامے کے درمیان بی جے پی-شیوسینا (شندے) محاذ نے مانسون کا آخری مہینہ شروع ہونے پر سڑکوں کے گڑھوں کی مرمت کیلئے ۳؍ کروڑ روپے کا ٹھیکہ نجی کمپنی کو د ینے کی تجویز منظورکرلی۔ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ بی ایم سی نے سڑکوں پر گڑھے بھرنے کیلئے اپنا خود کا پلانٹ بند کردیا ہے جس پر خود بی جے پی کے کارپوریٹر نے بھی اعتراض کیا تھا لیکن ان سب باتوں کو نظر انداز کرکے اس تجویز کو منظوری کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:افغانستان: گزشتہ سال دولاکھ تین ہزار سے زائد ویزے جاری کیے گئے: سرکاری ترجمان
بی ایم سی میں کانگریس کے اپوزیشن لیڈر اشرف اعظمی، ایم این ایس کے یشونت قلعدار، شیوسینا (ادھو ٹھاکرے) کی میناکشی پاٹنکر اور خود بی جے پی کے تجیندر سنگھ تیوانا نے ورلی میں واقع بی ایم سی کے اس پلانٹ کو بند کئے جانے پر سوال اٹھایا جو اسی کی ملکیت ہے اور جہاں سڑکوں پر پڑنے والے گڑھوں کو بھرنے کیلئے تارکول وغیرہ سے مرکب تیار کیا جاتا تھا۔ بی ایم سی کے اپنے مزدور سڑکوں پر جاکر گڑھوں کو بھرا کرتے تھے۔اگرچہ ورلی کی اس جگہ کو لیز پر دیئے جانے کا فیصلہ کیاگیا ہے لیکن اس کارروائی کے مکمل ہونے میں ۶؍ ماہ سے ایک سال کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔ مانسون سر پر ہونے اور وقت دستیاب ہونے کے باوجود اس پلانٹ کو یہ کہتے ہوئے بند کردیا گیا کہ اسے لیز پر دیا جانا ہے۔ تجیندر سنگھ نے اس تعلق سے کہا کہ اگر یہ پلانٹ بند کرنے کے بجائے مانسون میں استعمال کرلیا جاتا تو نجی کمپنی کو دیئے جانے والے ٹھیکے کی رقم بچ جاتی۔
یہ بھی پڑھئے: این ای ٹی امتحان میں مالیگائوں کے انعام الرحمٰن کا کارنامہ
اس تعلق سے اشرف اعظمی نے کہا کہ اوّل تو یہ تجویز ایسے وقت لائی گئی ہے جب بارش کا موسم ختم ہونے والا اور جس طرح سے ورلی کا پلانٹ بند کرکے گڑھے بھرنے کا ٹھیکہ نجی کمپنی کو دیا گیا ہے، اس سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ٹھیکیدار کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے ایسا کیا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکمراں محاذ نے دعویٰ کیا تھا کہ سیمنٹ کنکریٹ کے روڈ بنادینے کی وجہ سے گڑھے بھرنے کے اخراجات کم ہوگئے ہیں لیکن وقفہ وقفہ سے اس طرح کی تجویز لاکر اس پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے مطابق ورلی کی زمین کو بظاہر لیز پر دیا جارہا ہے لیکن جو زمین لیز پر دی جاتی ہے، وہ بمشکل واپس ملتی ہے اس لئے یہ اس جگہ کو فروخت کرنے کے مترادف ہے۔ این سی پی (اجیت پوار) کی کارپوریٹر ڈاکٹر سعیدہ خان نے شکایت کی کہ گڑھے بھرنے کیلئے جو کولڈ مکس استعمال کیا جاتا ہے، وہ دوسرے ہی دن نکل جاتا ہے۔ ایم این ایس کارپوریٹر یشونت قلعدار نے کہا کہ کولڈ مکس کا خرچ ماضی میں استعمال ہونے والے مرکب کے مقابلے کئی گنا زیادہ ہے۔
اس پر بی ایم سی کے ایڈیشنل کمشنر نے کہا کہ بارش کے دوران کچھ مرکب استعمال نہیں کئے جاسکتے اس لئے کولڈ مکس استعمال کرنا مجبوری ہے۔ان سب باتوں کو سننے کے بعد اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین پربھاکر شندے نے مذکورہ تجویز کو منظورکرلیا۔