جب۱۵؍ویں صدی میں چھاپہ خانے کا آغاز ہوا تو انگریزی کے املا اور قواعد کو ایک معیار پر لانے کی کوشش کی گئی۔ اس وقت تک واحد متکلم ضمیر کو کیپٹل لکھنے کی روایت مضبوط ہو چکی تھی، لہٰذا اسے باقاعدہ اصول کے طور پر قبول کر لیا گیا۔
EPAPER
Updated: January 02, 2026, 6:06 PM IST | Mumbai
جب۱۵؍ویں صدی میں چھاپہ خانے کا آغاز ہوا تو انگریزی کے املا اور قواعد کو ایک معیار پر لانے کی کوشش کی گئی۔ اس وقت تک واحد متکلم ضمیر کو کیپٹل لکھنے کی روایت مضبوط ہو چکی تھی، لہٰذا اسے باقاعدہ اصول کے طور پر قبول کر لیا گیا۔
انگریزی زبان میں واحد متکلم ضمیر ’’I‘‘ ایک ایسا منفرد حرف ہے جو ہر جگہ، ہر جملے میں اور ہر سیاق و سباق میں ہمیشہ کیپٹل لکھا جاتا ہے، حالانکہ انگریزی کے دیگر تمام ضمیروں کو یہ امتیاز حاصل نہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچاکہ ’’آئی‘‘ہمیشہ کیپٹل میں کیوں لکھا جاتا ہے؟
تاریخی پس منظر
قدیم انگریزی میں واحد متکلم ضمیر کو ’’ic‘‘لکھا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ زبان میں صوتی اور املا کی تبدیلیاں آئیں اور’’ic‘‘ مختصر ہو کر صرف ’’I‘‘ رہ گیا۔ چونکہ یہ حرف بہت چھوٹا تھا، اس لئے ہاتھ سے لکھے جانے والے مخطوطات میں یہ اکثر دوسرے حروف کے ساتھ خلط ملط ہو جاتا یا نظر انداز ہو جاتا تھا۔ اس ابہام سے بچنے کیلئے کاتبوں نے اسے بڑا (Capital) لکھنا شروع کیا تاکہ یہ واضح اور نمایاں رہے۔
قرونِ وسطیٰ کے کاتبوں کا کردار
قرونِ وسطیٰ میں جب چھاپہ خانہ ایجاد نہیں ہوا تھا، کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں۔ اس دور میں کاتب تحریر کو زیادہ واضح اور خوبصورت بنانے کیلئے بعض الفاظ کو بڑے حروف میں لکھتے تھے۔ چونکہ ’’I‘‘ ایک ہی لکیر پر مشتمل ہوتا تھا، اس لئے اس کے کھو جانے کا اندیشہ رہتا تھا۔ چنانچہ کاتبوں نے اسے’’I‘‘ کی صورت میں لکھنا رواج بنا دیا اور یہی روایت بعد میں معیار بن گئی۔
چھاپہ خانے اور معیاری املا
جب۱۵؍ویں صدی میں چھاپہ خانے کا آغاز ہوا تو انگریزی کے املا اور قواعد کو ایک معیار پر لانے کی کوشش کی گئی۔ اس وقت تک واحد متکلم ضمیر کو کیپٹل لکھنے کی روایت مضبوط ہو چکی تھی، لہٰذا اسے باقاعدہ اصول کے طور پر قبول کر لیا گیا۔ اس طرح’’I‘‘ کا ہمیشہ کیپٹل میں لکھا جانا مستقل قاعدہ بن گیا۔
لسانی وقار اور معنوی اہمیت
کچھ ماہرین لسانیات کے مطابق’’I‘‘ کو کیپٹل میں لکھنا انسان کی ذات، خودی اور انفرادیت کی علامت بھی بن گیا۔ چونکہ یہ لفظ بولنے یا لکھنے والے کی نمائندگی کرتا ہے، اس لئے اسے نمایاں حیثیت دی گئی۔ اگرچہ انگریزی میں دیگر ضمیروں کو یہ حیثیت حاصل نہیں، لیکن ’’I‘‘ کا کیپٹل ہونا معنوی طور پر خود کلامی اور شناخت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
جدید انگریزی میں تسلسل
آج ڈجیٹل دور میں بھی، جب ابہام کا مسئلہ باقی نہیں رہا، پھر بھی ’’I‘‘ کو کیپٹل میں لکھا جاتا ہے کیونکہ زبان میں رائج اصول اور روایات آسانی سے تبدیل نہیں ہوتیں۔ یہ روایت اب انگریزی گرامر کا اٹوٹ حصہ بن چکی ہے، اور اسے نہ ماننا املا کی غلطی سمجھا جاتا ہے۔