Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’تا کہ لب تر کرد اَز شیریںبیانِ فارسی‘‘

Updated: March 07, 2026, 2:00 PM IST | Shahid Latif | mumbai

ایران بھلےہی سخت آزمائش سے گزر رہا ہو مگر یقین کامل ہے کہ اس سے سرخرو اور سرفراز ہوکر ہی نکلے گا۔ بہت لوگ نہیں جانتے کہ ایران کیا ہے۔ اُنہیں یہ علم بھی نہیں کہ یہ کتنی پرانی تہذیب ہے۔ وہ یہاں کے عوام کو بھی نہیں جانتے۔

INN
آئی این این
رمضان کا مبارک مہینہ جاری ہے اور ایران حالت ِ جنگ میں  ہے۔ ہندوستان میں  بندگانِ خدا سحری کررہے ہیں ، نمازیں  ادا کررہے ہیں ، افطار میں  شریک ہیں  اور مصروفِ تراویح ہیں ۔ یہ سب بہ انداز ِ دگر ایران میں  بھی جاری ہوگا۔ سحری کے وقت میزائل کے داغے جانے کا شور سنائی دیتا ہوگا اور افطار کے وقت ہوسکتا ہے لوگ باگ روزہ کھولنے کے ساتھ ہی جنگ سے متعلق خبروں  پر مباحثہ و تبصرہ بھی کرتے ہونگے۔ یہاں  معمول کے عین مطابق مگر ایران میں  خلاف ِ معمول رمضان گزارا جارہا ہے بالکل اُسی طرح، جس طرح گزشتہ دو سال کے دوران اہل غزہ میں  گزرا۔ اہل ایران کی جرأت، ان کا حوصلہ، ان کی شجاعت اور ان کی ثابت قدمی تاریخ کے صفحات پر درج ہورہی ہے۔آنے والے وقتوں  میں  یہ دن یاد کئے جائینگے۔
شہر ممبئی میں  ایران خاص طور پر اُن ریستورانوں  کے سبب روزمرہ کی گفتگو کا حصہ بنتا رہا ہے جو ایرانی ریسٹورنٹ کہلاتے ہیں  اور اب بھی کہیں  کہیں  موجود ہیں ۔ یاد آتا ہے کہ مشہور افسانہ نگار کرشن چندر نے ایک افسانہ بعنوان ’’ایرانی پلاؤ‘‘ لکھا تھا۔ یہ عجیب و غریب پلاؤ تھا۔ اس کی تفصیل کرشن چندر ہی کی زبانی سنئے:
’’جس دن لڑکے نے جوتے بہت کم پالش کئے ہوتے ہیں  یا جس دن اس کے پاس بہت کم پیسے ہوتے ہیں  اس دن اسے ایرانی پلاؤ ہی کھانا پڑتا ہے اور یہ پلاؤ سامنے کے ایرانی ریستوران سے رات کے بارہ بجے کے بعد ملتا ہے ، جب سارے گاہک کھانا کھا کر چلے جاتے ہیں ، دن بھر میں  لوگ ڈبل روٹی کے ٹکڑے اپنی پلیٹوں  میں  چھوڑ جاتے ہیں ، ڈبل روٹی کے ٹکڑے گوشت اور چچوڑی ہوئی ہڈیاں ، چاول کے دانے، آملیٹ کے ریزے ، آلوؤں  کے قتلے، یہ سارا جھوٹا کھانا ایک جگہ جمع کر کے ایک ملغوبہ تیار کر لیا جاتا ہے جو دو آنے پلیٹ کے حساب سے بکتا ہے، پیچھے کچن کے دروازے پر اسے ایرانی پلاؤ کہا جاتا ہے۔ اسے عموماً اس علاقے کے غریب لوگ بھی نہیں  کھاتے پھر بھی ہر روز دو تین سو پلیٹیں  بک جاتی ہیں ۔  خریداروں  میں  زیادہ تر جوتے پالش کرنے والے، فرنیچر ڈھونے والے اور گاہکوں  کیلئے ٹیکسی لانے والے ہوتے ہیں  یا آس پاس کی  بلڈنگوں  میں  کام کرنے والے مزدور ہوتے ہیں ۔‘‘ 
یہ کہنا مشکل ہے کہ ممبئی میں  ’’ایرانی پلاؤ‘‘ اب بھی ملتا ہے اور اگر ملتا ہے تو کہاں ، مگر، کرشن چندر کے افسانے سے ایک مختلف پلاؤ کا علم ضرور ہوتا ہے جو ایک قسم کی غریب پرور غذا تھی۔ اس مضمون نگار نے ایران نہیں  دیکھا باوجود اس کے کہ ایک دو مرتبہ دورہ کی دعوت ملی مگر بوجوہ معذرت کرنی پڑی۔اب جی میں  آتا ہے کہ مصروفیت کو بالائے طاق رکھ کر دعوت قبول کرلی ہوتی تو اِس وقت لکھنے کیلئے بہت کچھ ہوتا۔ اب تک ایران نہ دیکھ پانے کی کسک اس لئے بھی ہے کہ ناچیز کو بچپن سے فارسی زبان سے گہرا شغف ہے۔ اُردو معاشرہ کی گفتگو میں  فارسی الفاظ، ترکیبوں ، محاوروں ، ضرب الامثال اور فقروں  (مثلاً شاباش، خدا حافظ، چشم بد دور وَغیرہ) کی روشنی اب کم کم دکھائی پڑتی ہے مگر ایک دور تھا جب یہ زبان زد عام تھے۔ اُس دور میں  اچھی اُردو جاننے کیلئے فارسی سے رغبت ضروری قرار دی جاتی تھی۔ کل کا فارسی جاننے والا ہندوستانی معاشرہ آج بھلے ہی فارسی سے نابلد ہوچکا ہو حتیٰ کہ اُردو میں  موجود فارسی شاعری اور افسانے پڑھنے کا روادار نہ ہو مگر مغرب میں  رومیؔ (مولانا جلال الدین رومی) کو بڑی قدر منزلت حاصل ہوگئی ہے کیونکہ اُن کا کلام انگریزی میں  ترجمہ ہوکر اہل مغرب تک پہنچ چکا ہے جو اپنے دور کے اس غیر معمولی عالم، دانشور اور شاعر کے خیالات و افکار سے استفادہ ہی نہیں  کرتے بلکہ انہیں  اپنی تحریروں  اور تقریروں  میں  جگہ دے کر خوش ہوتے ہیں ۔ انگریزی میں  رومیؔ کی مثنویوں  کا بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔ ابھی تو یہ لوگ رومیؔ ہی سے متعارف ہوئے ہیں ، سعدی، حافظ اور فردوسی کو بھی پڑھ لیں  تو انہیں  بھی ایران کا گرویدہ ہونے سے کوئی نہیں  روک سکے گا۔ تب جنگ کرنے والے امن، محبت، انسان دوستی اور تہذیبی اقدار کا علم بلند کرینگے۔ یہ اس لئے بے چارے کہلانے کے مستحق ہیں  کہ انہوں  نے مشرقی علوم سے بہت کچھ سیکھا خاص طور پر یورپ نے، مگر احساس برتری کے مرض میں  اس حد تک مبتلا ہوئے کہ کبھی اعترافِ استفادہ کی طرف مائل ہی نہیں  ہوئے۔ 
 
امریکہ اور اسرائیل، جو ایران کو مٹی میں  ملانا چاہتے ہیں  یا اُسے اپنی شرطوں  پر یا اپنی مرضی سے چلانا چاہتے ہیں ، نہیں  جانتے کہ ایران دُنیا کی قدیم ترین تہذیبوں  میں  سے ایک ہے۔جب امریکہ اور اسرائیل پیدا بھی نہیں  ہوئے تھے بلکہ ان کی پیدائش کی کسی معتبر یا غیر معتبر ذریعہ نے پیش گوئی بھی نہیں  کی تھی، تب سے ایران، جو بعض دیگر  علاقوں  اور خطوں  کے ساتھ پرشیا (فارس) کہلاتا تھا، منصہ شہود پر ہے بلکہ اپنی علمی اور تہذیبی بالادستی کے شواہد پیش کرتا رہا ہے۔ کم و بیش ساڑھے ۱۶؍ لاکھ مربع کلو میٹر  رقبہ پر پھیلا ہوا آج کا  ایران، جس کی آبادی ۹؍ کروڑ ۳۰؍ لاکھ کے آس پاس بتائی جاتی ہے،  تہران، اصفہان ، قم، شیراز، مشہد، تبریز، زاہدان، ہمدان، یزد اور کئی دوسرے دل نشین ناموں  والے شہروں  پر محیط ہے۔ 
اس اخبار کے سابق مدیر ہارون رشید علیگ مرحوم نے ایران کا سفر نامہ ’’ہم نے بھی ایران دیکھا‘‘ کے نام سے لکھا تھا جو انقلاب میں  شائع ہوچکا ہے۔ اس میں  ایک قہوہ خانہ کے اندرون کی نہایت دلچسپ منظر کشی کی گئی تھی۔ اس کے دو اقتباس آپ بھی ملاحظہ کرلیں :
’’ہم اُس آواز کی طرف کھنچتے چلے گئے۔ ایک صاحب اسٹیج پر تشریف فرما ہیں ۔ ترکی ٹوپی پہنے ہوئے ہیں ۔ ہاتھوں  میں  ایک ڈھول ہے۔ سامنے ایک گھنٹی لٹکی ہوئی ہے۔ ایک بڑے سے پیالے میں  لوبان رکھا ہوا ہے۔ وہ اللہ کا بندہ اونچی تان لگاتا اور فردوسی کا شاہنامہ پڑھتا۔ ایک شعر ختم کرتا، ڈھول پر تھاپ دیتا اور بجلی کی سرعت کے ساتھ اس کا ہاتھ اوپر اُٹھتا اور گھنٹی بجا دیتا۔ ایک تو ظالم کی آواز، پھر ڈھولک کی تھاپ اور گھنٹی کی آواز۔ ان تینوں  کی آمیزش نے وہ سماں  باندھا کہ کئی نیم بسمل تھے اور کئی بے جان۔‘‘  .....’’قہوہ خانے کے مالکان کی فردوسی نوازی دیکھئے کہ پورے ہال کو فردوسی کا وہ کمرہ بنا رکھا ہے (جس میں  فردوسی نے شاہنامہ لکھنے کیلئے خود کو قید کرلیا تھا)۔ بھلا کون ہوگا جو اس ماحول میں  قہوہ پینا پسند نہیں  کریگا؟‘‘
iran Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK