Inquilab Logo Happiest Places to Work

مَیں صرف خدا کو جوابدہ ہوں: آر ایس ایس چیف سے ملنے کے بعد عدنان سمیع کا جواب

Updated: May 21, 2026, 10:06 PM IST | Mumbai

گلوکار عدنان سمیع نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک ’’آزاد روح‘‘ ہیں اور صرف خدا کو جوابدہ سمجھتے ہیں۔ سابق پاکستانی شہری اور موجودہ ہندوستانی گلوکار عدنان سمیع نے کہا کہ لوگ ان کے بارے میں سطحی تاثر کی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہیں، حالانکہ وہ حقیقت میں انہیں جانتے ہی نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی کے دباؤ میں نہیں آتے اور اپنی زندگی اپنے اصولوں کے مطابق جیتے ہیں۔

Adnan Sami - Photo Instagram
عدنان سمیع۔ تصویر انسٹاگرام

ہندوستانی گلوکار عدنان سمیع نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور ٹرولنگ پر کھل کر ردعمل دیا ہے۔ حال ہی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کے بعد انہیں آن لائن شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس پر اب انہوں نے واضح اور دوٹوک جواب دیا ہے۔ سابق پاکستانی شہری اور ۲۰۱۶ء سے ہندوستانی شہری عدنان سمیع نے کہا کہ وہ ایک ’’آزاد روح‘‘ ہیں اور اپنی زندگی دوسروں کی رائے کے مطابق نہیں گزارتے۔ نیوز ۱۸؍ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’میں شکر گزار ہوں کہ میں نے اپنے تمام فلٹرز کھو دیے ہیں۔ میں وہی کرتا ہوں جو مجھے درست لگتا ہے، اور میں خدا کے سوا کسی کو جوابدہ نہیں ہوں۔‘‘ عدنان سمیع نے مزید کہا کہ اگر کوئی شخص ان کے ساتھ اچھا ہے تو وہ بھی اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی نظریے یا جماعت سے تعلق رکھتا ہو۔ انہوں نے کہا، ’’میں کبھی کسی کے بارے میں دوسروں کی رائے کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرتا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے : سالگرہ پر جونیئر این ٹی آر نے نئے پالتو پرندے ’آساہی‘ اور ’یوہی‘ متعارف کرائے

گلوکار نے سوشل میڈیا پر ہونے والی ٹرولنگ پر بھی کھل کر بات کی اور کہا کہ زیادہ تر لوگ انہیں حقیقت میں جانتے ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے جانتے ہیں، لیکن وہ صرف ایک تصویر، ایک گانے یا سطحی تاثر کی بنیاد پر میرے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔ اگر وہ سوچتے ہیں کہ اس بنیاد پر وہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ میں کون ہوں، تو وہ خیالی دنیا میں رہ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ انہیں ٹرول کرتے ہیں وہ ان کے مداح نہیں بلکہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے تعصبات کے تحت ہر چیز پر تبصرہ کرتے ہیں۔ عدنان نے کہا کہ ’’میں ذہنی طور پر بہت آزاد ہوں۔ میں وہی کروں گا جو مجھے کرنا ہے، اور میں نے دوسروں کے لیے اپنی حدیں مقرر کر دی ہیں۔‘‘ 
واضح رہے کہ عدنان سمیع کی زندگی کئی برسوں سے سیاسی اور سماجی بحث کا حصہ رہی ہے۔ لندن میں پیدا ہونے والے عدنان کی والدہ جموں سے تعلق رکھتی تھیں جبکہ ان کے والد پاکستانی پشتون خاندان سے تھے اور پاکستان کے سینئر سفارت کار رہ چکے تھے۔ پاکستان میں بطور گلوکار شہرت حاصل کرنے کے بعد عدنان سمیع نے ہندوستان میں بھی بے حد مقبولیت حاصل کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ہندوستانی لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے نے انہیں ممبئی آ کر موسیقی میں کام کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ عدنان نے ایک پرانے انٹرویو میں بتایا تھا کہ جب انہوں نے آشا بھوسلے سے کہا کہ پاکستان میں لوگ ان کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتے تو آشا بھوسلے نے انہیں ممبئی آنے کا مشورہ دیا۔ عدنان نے یاد کیا کہ ’’انہوں نے کہا تھا کہ اگر واقعی کچھ نیا کرنا چاہتے ہو تو ممبئی آؤ، کیونکہ یہی ہندی موسیقی کا اصل مرکز ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے : جھانوی کپور نے پیٹ کمنزکی گیند پر ایسا زبردست شاٹ مارا کہ ایک فون ٹوٹ گیا

ہندوستان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد عدنان کو پاکستان میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق پاکستانی حکام نے ۲۰۱۵ء میں ان کی شہریت کی تجدید کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد انہوں نے مستقل طور پر ہندوستان منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ہندوستان منتقل ہونے کے بعد انہیں پاکستان میں اپنی کروڑوں روپے کی جائیداد چھوڑنی پڑی اور زندگی دوبارہ شروع کرنا پڑی۔ عدنان سمیع نے ایک انتہائی جذباتی واقعہ بھی بیان کیا جب انہیں اپنی والدہ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے پاکستان جانے کا ویزا نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے ویزے کے لیے درخواست دی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ میں اپنی ماں کا جنازہ صرف وہاٹس ایپ ویڈیو پر دیکھ سکا۔‘‘ عدنان سمیع کے حالیہ بیانات سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں، جہاں ان کے حامی ان کی صاف گوئی اور ذاتی جدوجہد کی تعریف کر رہے ہیں، جبکہ ناقدین کی جانب سے بحث کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK